Main Icon

باب : جمعہ کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1355

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَفِي اُخْرٰی عَنْہُ وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ: «نَحْنُ الْآخِرُونَ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا وَالْأَوَّلُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمَقْضِيُّ لَهُمْ قَبْلَ الْخَلَائِقِ»

وفي اخری عنہ وعن حذيفة قالا: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم في آخر الحديث: «نحن الآخرون من أهل الدنيا والأولون يوم القيامة المقضي لهم قبل الخلائق»

حدیث ترجمہ

اور اس کی دوسری روایت میں انہیں سے اور حضرت حذیفہ سے ہے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اس حدیث کے آخر میں یہ ہے کہ ہم دنیا والوں سے پیچھے ہیں اور قیامت کے دن پہلے ہوں گے کہ ہمارا فیصلہ مخلوق سے پہلے ہوگا ۱∞؎

شرح حدیث

۱∞؎یہ حدیث گزشتہ حدیث کی شرح ہے جس نے بتایا کہ پیچھے ہونے سے یہ مراد اور پہلے ہونے سے یہ مطلب۔خیال رہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم کی امت قیامت میں ہر موقعہ پر آگے رہے گی کیوں نہ ہو کہ اصل مقصود یہ امت ہے باقی اس کے تابع۔(مرقاۃ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1355