باب : معجزات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5876
پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
- حدیث
-
- 5868
- 5869
- 5870
- 5871
- 5872
- 5873
- 5874
- 5875
- 5876
- 5877
- 5878
- 5879
- 5880
- 5881
- 5882
- 5883
- 5884
- 5885
- 5886
- 5887
- 5888
- 5889
- 5890
- 5891
- 5892
- 5893
- 5894
- 5895
- 5896
- 5897
- 5898
- 5899
- 5900
- 5901
- 5902
- 5903
- 5904
- 5905
- 5906
- 5907
- 5908
- 5909
- 5910
- 5911
- 5912
- 5913
- 5914
- 5915
- 5916
- 5917
- 5918
- 5919
- 5920
- 5921
- 5922
- 5923
- 5924
- 5925
- 5926
- 5927
- 5928
- 5929
- 5930
- 5931
- 5932
- 5933
- 5934
- 5935
- 5936
- 5937
- 5938
- 5939
- 5940
- 5941
- 5942
- 5943
- اگلا
حدیث مبارکہ
وَعَنِ الْبَرَاءِ قَالَ بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَهْطًا إِلٰى أَبِي رَافِعٍ فَدَخَلَ عَلَيْهِ عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ عَتِيكٍ بَيْتَهٗ لَيْلًا وَهُوَ نَائِمٌ فَقَتَلَهٗ فَقَالَ عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ عَتِيكٍ: فَوَضَعْتُ السَّيْفَ فِي بَطْنِهٖ حَتّٰى أَخَذَ فِي ظَهْرِهٖ، فَعَرَفْتُ أَنِّي قَتَلْتُهٗ فَجَعَلْتُ أَفْتَحُ الْأَبْوَابَ حَتّٰى انْتَهَيْتُ إِلٰى دَرَجَةٍ فَوَضَعْتُ رِجْلِي فَوَقَعْتُ فِي لَيْلَةٍ مُقْمِرَةٍ فَانْكَسَرَتْ سَاقِي فَعَصْبَتُهَا بِعِمَامَةٍ فَانْطَلَقْتُ إِلٰى أَصْحَابِي فَانْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثْتُهٗ فَقَالَ: «ابْسُطْ رِجْلَكَ» . فَبَسَطْتُ رِجْلِي فَمَسَحَهَا فَكَأَنَّمَا لَمْ أَشْتَكِهَا قَطُّ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ
وعن البراء قال بعث النبي صلى الله عليه وسلم رهطا إلى أبي رافع فدخل عليه عبد الله بن عتيك بيته ليلا وهو نائم فقتله فقال عبد الله بن عتيك: فوضعت السيف في بطنه حتى أخذ في ظهره، فعرفت أني قتلته فجعلت أفتح الأبواب حتى انتهيت إلى درجة فوضعت رجلي فوقعت في ليلة مقمرة فانكسرت ساقي فعصبتها بعمامة فانطلقت إلى أصحابي فانتهيت إلى النبي صلى الله عليه وسلم فحدثته فقال: «ابسط رجلك» . فبسطت رجلي فمسحها فكأنما لم أشتكها قط. رواه البخاري
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت براء سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ابو رافع کی طرف ایک جماعت بھیجی ۱؎تو اس پر عبداﷲابن عتیک رات میں اس کے گھر میں گھس گئے وہ سورہا تھا ۲؎آپ نے اسے قتل کردیا، عبداﷲابن عتیک کہتے ہیں کہ میں نے اس کے پیٹ میں تلوار رکھی حتی کہ وہ اس کی پیٹھ میں گزرگئی۳؎میں سمجھ گیا کہ میں نے اسے قتل کردیا پھر میں دروازے کھولنے لگا حتی کہ میں آخری سیڑھی تک پہنچ گیا۴؎میں نے اپنا پاؤ ں رکھا تو میں چاندنی رات میں گر گیا میری پنڈلی ٹوٹ گئی ۵؎میں نے پگڑی سے اس کی پٹی باندھ دی پھر میں اپنے ساتھیوں کی طرف چلا پھر میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم تک پہنچا تو میں نے آپ کو خبر دی تو فرمایا اپنا پاؤ ں پھیلاؤ میں نے اپنے پاؤ ں پھیلایا،آپ نے اس پر ہاتھ پھیرا تو گویا میں نے کبھی اس کی شکایت نہ کی تھی ۶؎(بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎ابو رافع کا نام ابو حقیق تھا،مدینہ منورہ کا بڑا دولتمند یہودی تھا،حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کا بدترین دشمن ہمیشہ حضور کی شان میں بدترین گستاخیاں کرتا تھا اور حضور کے دشمنوں کو پناہ دیتا تھا،اپنے قلعہ میں حضور انور اور اسلام کے خلاف سازشیں کرتا تھا،اس کا ایک بڑا مضبوط قلعہ تھا جہاں یہ بالاخانہ پر رہا کرتا تھا،حضور انور نے اس کے قتل کے لیے کچھ آدمی بھیجے۔رھطوہ جماعت ہے جو دس سے کم ہو۔
۲؎یہ پورا واقعہ بخاری وغیرہ میں بہت تفصیل سے آیا ہے حضرت عبداﷲابن عتیک چاندنی رات ہی اپنی جماعت کو باہر چھوڑکر ایک حیلہ سے اکیلے اس کے بالاخانہ پر چڑھ گئے،وہاں بہت لوگ سورہے تھے پہچان نہ سکے کہ ابو رافع کون ہے اسے آہستہ سے آواز دی ابو رافع،وہ نیند کی غشی میں بول پڑا ہوں،اس ہوں کی آواز کی رہبری میں آپ اس کے بستر تک پہنچ گئے۔
۳؎یہ واقعہ دوسری بار کا ہوا،پہلی بار آپ نے اس کے پیٹ میں تلوار گھونپی اور لوٹے پھر خیال آیا کہ شاید مرا نہیں پھر لوٹے اور بولے ابو رافع کیا ہوا تب وہ چیخا کہ مجھے کوئی مار گیا تب آپ نے وہ عمل کیا جو یہاں مذکور ہے۔
۴؎ابو رافع کے محل کے بہت دروازے تھے آپ نے جاتے وقت وہ تمام دروازے اندر سے بند کرلیے تھے تاکہ وقت پر باہر سے اس کو مدد نہ پہنچ سکے اب واپسی میں وہ دروازے کھولتے گئے اترتے گئے،دروازوں کا سلسلہ دور تک تھا آخری سیڑھی پر پہنچ کر سمجھے کہ زمین آگئی لیکن ابھی ایک سیڑھی باقی تھی۔
۵؎یعنی چونکہ میرا پاؤ ں غلط پڑا میں سمجھا کہ زمین پر پاؤ ں رکھ رہا ہوں میں بے ڈھب گرا اور پنڈلی کی ہڈی ٹوٹ گئی اس زمانہ میں اس کا کوئی علاج ہی نہ تھا۔
۶؎یعنی گویا میری پنڈلی میں کبھی یہ بیماری نہ ہوئی تھی۔بعض علماء سے سنا گیا کہ اس پنڈلی میں طاقت دوسری پنڈلی سے زیادہ ہوگئی تھی۔حضور کے لعاب میں بہت معجزات تھے: یہاں تو وہ(۱)لعاب ہڈی کا سریش بن گئی(۲)معاذ ابن عفراء کے کٹے ہوئے بازو میں لگا تو بازو جوڑ دیا(۳)حضرت علی کی دُکھتی ہوئی آنکھ میں لگا تو ممیرے کا کام دیا(۴)حضرت طلحہ و(۵)جابر کے گھر ہانڈی و آٹے میں پڑ گیا تو ان میں ایسی برکت ہوئی کہ چار سیر جو سے سینکڑوں آدمی سیر ہوگئے(۶)حدیبیہ کے کنویں میں پڑا تو اس کا تھوڑا پانی زیادہ ہوگیا(۷)کھاری کنوؤ ں میں پڑا تو کنویں میٹھے ہوگئے(۸)حضرت صدیق کو سانپ نے کاٹا وہاں یہ لعاب لگا تو زہر کا تریاق بن گیا(۹)چاہ زمزم میں لعاب شریف پڑا تو وہ تاقیامت ہر مرض کی شفا بن گیا(۱۰)ایک عیسائی قوم مسلمان ہوئی تو ان کے لیے ایک مشکیزے میں کلی کر کے پانی بھردیا فرمایا اپنے گرجے کی زمین پر چھڑک دو جگہ طاہر طیب عظمت والی ہوجائے وہاں مطہر بن گیا۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5876