Main Icon

باب : معجزات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5915

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي حُمَيدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوكَ فَأَتَيْنَا وَادِيَ الْقُرٰى عَلٰى حَدِيقَةٍ لِامْرَأَةٍ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اخْرُصُوهَا» فَخَرَصْنَاهَا وَخَرَصَهَا رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشَرَةَ أَوْسُقٍ وَقَالَ: «أَحْصِيهَا حَتّٰى نَرْجِعَ إِلَيْكِ إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» وَانْطَلَقْنَا حَتّٰى قَدِمْنَا تَبُوكَ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَتَهُبُّ عَلَيْكُمُ اللَّيْلَةَ رِيحٌ شَدِيدَةٌ فَلَا يَقُمْ فِيهَا أَحَدٌ فَمَنْ كَانَ لَهٗ بَعِيرٌ فَلْيَشُدَّ عِقَالَهٗ» فَهَبَّتْ رِيحٌ شَدِيدَةٌ فَقَامَ رَجُلٌ فَحَمَلَتْهُ الرِّيحُ حَتّٰى اَلقَتْهُ بِجَبَلَيْ طَيِّئٍ ثُمَّ أَقْبَلْنَا حَتّٰى قَدِمْنَا وَادِيَ الْقُرٰى فَسَأَلَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَرْأَةَ عَنْ حَدِيقَتِهَا كَمْ بَلَغَ ثَمَرُهَا؟ " فَقَالَتْ: عَشْرَةُ أَوْسُقٍ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أبي حميد الساعدي قال: خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم غزوة تبوك فأتينا وادي القرى على حديقة لامرأة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «اخرصوها» فخرصناها وخرصها رسول الله صلى الله عليه وسلم عشرة أوسق وقال: «أحصيها حتى نرجع إليك إن شاء الله» وانطلقنا حتى قدمنا تبوك فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ستهب عليكم الليلة ريح شديدة فلا يقم فيها أحد فمن كان له بعير فليشد عقاله» فهبت ريح شديدة فقام رجل فحملته الريح حتى القته بجبلي طيئ ثم أقبلنا حتى قدمنا وادي القرى فسأل رسول الله صلى الله عليه وسلم المرأة عن حديقتها كم بلغ ثمرها؟ " فقالت: عشرة أوسق. (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو حمید ساعدی سے فرماتے ہیں ہم رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ غزوہ تبوک میں گئے تو وادی قری میں ایک عورت کے باغ پر پہنچے ۱؎تو رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اس باغ میں پھلوں کا اندازہ لگاؤ ۲؎ہم نے لگایا اور رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے دس وسق اندازہ لگایا ۳؎اور اس عورت سے کہا کہ اس کا وزن خیال رکھنا حتی کہ ہم تجھ تکان شاءاللهواپس ہوں ۴؎ہم چلے گئے حتی کہ تبوک پہنچ گئے رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ آج رات تم پر سخت ہوا چلے گی تو اس میں کوئی کھڑا نہ ہو جس کے پاس اونٹ ہو وہ اس کی رسی مضبوط باندھ دے ۵؎چنانچہ بہت سخت ہوا چلی ایک شخص کھڑا ہوگیا اسے ہوا نے اٹھالیا حتی کہ اسے طی کے پہاڑوں پر پھینک دیا ۶؎پھر ہم آئے حتی کہ وادی قریٰ پہنچے رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے اس عورت سے اس کے باغ کے متعلق پوچھا کہ اس کے پھل کس حد تک پہنچے وہ بولی دس وسق ۷؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎غزوہ تبوک کا ذکر پہلے ہوچکا کہ یہ غزوہ ۹ ہجری میں ہوا،وادی قری مدینہ منورہ سے تین دن کی راہ کے فاصلہ پر واقع ہے شام کو جاتے ہوئے یہ مقام آتا ہے۔
۲
؎حدیقہ،بستان،حائط،روضہ قریبًا ہم معنی ہیں یعنی باغ۔غالبًایہ باغ کھجوروں کا تھا اور درخت پھل سے لدے ہوئے تھے پکنے کے قریب تھے۔
۳
؎یعنی ہم لوگوں نے مختلف اندازے لگائے حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے دس وسق کا اندازہ لگایا یعنی اس باغ میں کھجوریں دس وسق ہوں گی وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے اور صاع قریبًا ساڑھے چار سیر کا درخوں پر پھل کھیت میں پودوں پر دانے کا اندازہ لگانا آسان نہیں اس میں بڑی مہارت درکار ہے۔
۴
؎یعنی پھل توڑ کر تول لینا وزن یاد رکھنا جب ہم واپس آئیں توہم کو بتانا کہ پھلوں کا کتنا وزن ہوا۔
۵
؎یعنی آج رات سارا انتظام کرکے سونا رات میں کسی کو اٹھنے کی ضرورت نہ رہے ورنہ نقصان اٹھائے گا۔
۶
؎طی ایک قبیلہ کا نام ہے جس سے حاتم طائی تھا یہ قبیلہ ملک یمن میں تھا یہ دونوں پہاڑ اس ہی جگہ واقع ہیں ان میں سے ایک کا نام آجاء ہے دوسرے کا نام سلمٰی بعض نے کہا کہ سلمی پہاڑ نجد میں ہے مگر قوی یہ ہے کہ یہ دونوں پہاڑ یمن ہی میں ہیں(مرقات)یہ حضور انور کا معجزہ ہے بلکہ دو معجزے ہیں۔
۷
؎یہ حضور کا تیسرا معجزہ ہے کہ حضور انور کا اندازہ ایسا درست تھا کہ اس میں ایک تولہ کا بھی فرق نہ ہوا یہ محض اندازہ نہ تھا ورنہ کچھ فرق ہوتا بلکہ یہ حضور انور کا علم غیب تھا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5915