Main Icon

باب : معجزات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5899

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ وَجَبَتِ الشَّمْسُ فَسَمِعَ صَوْتًا فَقَالَ: «يَهُودُ تُعَذَّبَ فِي قُبُورِهَا» . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أبي أيوب قال: خرج النبي صلى الله عليه وسلم وقد وجبت الشمس فسمع صوتا فقال: «يهود تعذب في قبورها» . (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو ایوب سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لے گئے سورج ڈوب چکا تھا ۱؎حضور نے آواز سنی تو فرمایا کہ یہود اپنی قبروں میں عذاب دیئے جارہے ہیں۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎غالبًا یہ واقعہ مدینہ منورہ ہی کا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے باہر بعد غروب تشریف لے گئے صحابہ کرام ساتھ تھے تو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اور ساتھیوں نے بھی عجیب آوازیں سنیں۔یہاںصوتاسم جنس ہے جو ایک اور زیادہ سب کو شامل ہے۔
۲
؎یہاں دو معجزوں کا ظہور ہے: ایک تو صحابہ کرام کو مردہ یہودی کی آوازیں سنا دینا ہے، دوسرے پہچان لینا اور بتادینا کہ یہ عذاب کی آوازیں ہیں یا تو عذاب دینے والے فرشتوں کی آوازیں ہیں یا عذاب پانے والے یہود کی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم خچر پر سوار تھے اس نے دو قبروں کا عذاب دیکھ لیا اور بدک گیا وہاں خچر کی آنکھوں سے حجاب اٹھا دیئے یہاں صحابہ کے کانوں سے حجاب ہٹا دیئے اسی طرح جس ولی کے سر پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہاتھ رکھ دیں اس کی آنکھوں سے حجاب اٹھ جاتے ہیں۔مولانا فرماتے ہیں؎سرمہ کن در چشم خاک مصطفی تابہ بینی زابتدا تا انتہاء

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5899