Main Icon

باب : معجزات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5919

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ فَخَرَجْنَا فِي بَعْضِ نَوَاحِيهَا فَمَا اسْتَقْبَلَهٗ جَبَلٌ وَلَا شَجَرٌ إِلَّا وَهُوَ يَقُولُ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ

وعن علي بن أبي طالب قال كنت مع النبي صلى الله عليه وسلم بمكة فخرجنا في بعض نواحيها فما استقبله جبل ولا شجر إلا وهو يقول: السلام عليك يا رسول الله. رواه الترمذي والدارمي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علی ابن ابی طالب سے فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ میں تھا ہم اس کے بعض اطراف میں گئے ۱؎تو کوئی درخت پتھر آپ کے سامنے نہ آیا مگر وہ کہتا تھا یارسول اللہ آپ پر سلام ہوا ۲؎(ترمذی،ودارمی)

شرح حدیث

۱∞؎غالبًا یہ واقعہ ظہور نبوت کے بعد کا ہے آپ کسی کام کے لیے حضور کے ساتھ مکہ کے اطراف میں گئے تھے۔
۲
؎ظاہر یہ ہے کہ درختوں پہاڑوں پتھروں کا یہ سلام حضرت علی نے خود سنا لہذا اس واقعہ میں حضور کے معجزے حضرت علی کی کرامت دونوں کا ذکر ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہمارا یہ عرض کرنا کہالصلوۃ والسلام علیک یارسول اللہ شرک یا حرام نہیں بالکل جائز ہے اسے تو پتھر درخت بھی حرام نہیں سمجھتے اس کے منکر ین پتھروں جانوروں سے بھی بدتر ہیں ہم نماز میں پڑھتے ہیںالسلام علیك ایہا النبی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5919