Main Icon

باب : معجزات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5922

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ الثَّقَفِيِّ قَالَ ثَلَاثَةُ أَشْيَاءَ رَأَيْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا نَحْنُ نَسِيرُ مَعَهٗ إِذ مَرَرْنَا بِبَعِيرٍ يُسْنٰى عَلَيْهِ فَلَمَّا رَآهُ الْبَعِيرُ جَرْجَرَ فَوَضَعَ جِرَانَهٗ فَوَقَفَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيْنَ صَاحِبُ هٰذَاالْبَعِيرِ فَجَاءَهٗ فَقَالَ بِعْنِيهِ فَقَالَ بَلْ نَهَبُهٗ لَكَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ وَإِنَّهٗ لِأَهْلِ بَيْتٍ مَا لَهُمْ مَعِيشَةٌ غَيْرُهٗ قَالَ أَمَّا إِذْ ذَكَرْتَ هٰذَامِنْ أَمْرِهٖ فَإِنَّهٗ شَكَا كَثْرَةَ الْعَمَلِ وَقِلَّةَ العَلَفِ فَأَحْسِنُوا إِلَيْهِ قَالَ ثُمَّ سِرنَا حَتَّى نَزَلْنَا مَنْزِلًا فَنَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَتْ شَجَرَةٌ تَشُقُّ الْأَرْضَ حَتّٰى غَشِيَتْهُ ثُمَّ رَجَعَتْ إِلٰى مَكَانِهَا فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْتُ لَهٗ فَقَالَ هِيَ شَجَرَةٌ اسْتَأْذَنَتْ رَبَّهَا أَنْ تُسَلِّمَ عَلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَذِنَ لَهَا قَالَ ثُمَّ سِرْنَا فَمَرَرْنَا بِمَاءٍ فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ بِابْنٍ لَهَا بِهٖ جِنَّةٌ فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَنْخِرِهٖ فَقَالَ اخْرُجْ فَإِنِّي مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰهِ قَالَ ثُمَّ سِرْنَا، فَلَمَّا رَجعْنَا مَرَرْنَا بِذَلِكَ الْمَاءَ فَسَأَلَهَا عَنِ الصَّبِيِّ فَقَالَتْ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا رَأَيْنَا مِنْهُ ريبًا بَعْدَكَ. رَوَاهُ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ".

وعن يعلى بن مرة الثقفي قال ثلاثة أشياء رأيتها من رسول الله صلى الله عليه وسلم بينا نحن نسير معه إذ مررنا ببعير يسنى عليه فلما رآه البعير جرجر فوضع جرانه فوقف عليه النبي صلى الله عليه وسلم فقال أين صاحب هذاالبعير فجاءه فقال بعنيه فقال بل نهبه لك يا رسول الله وإنه لأهل بيت ما لهم معيشة غيره قال أما إذ ذكرت هذامن أمره فإنه شكا كثرة العمل وقلة العلف فأحسنوا إليه قال ثم سرنا حتى نزلنا منزلا فنام النبي صلى الله عليه وسلم فجاءت شجرة تشق الأرض حتى غشيته ثم رجعت إلى مكانها فلما استيقظ رسول الله صلى الله عليه وسلم ذكرت له فقال هي شجرة استأذنت ربها أن تسلم على رسول الله صلى الله عليه وسلم فأذن لها قال ثم سرنا فمررنا بماء فأتته امرأة بابن لها به جنة فأخذ النبي صلى الله عليه وسلم بمنخره فقال اخرج فإني محمد رسول الله قال ثم سرنا، فلما رجعنا مررنا بذلك الماء فسألها عن الصبي فقالت: والذي بعثك بالحق ما رأينا منه ريبا بعدك. رواه في "شرح السنة".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت یعلیٰ ابن مرہ ثقفی سے ۱؎فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تین چیزیں دیکھیں جب کہ ہم حضور کے ساتھ چل رہے تھے کہ ہم ایک اونٹ پر گزرے جس پر پانی دیا جارہا تھا۲؎تو جب حضور کو اونٹ نے دیکھا تو چیخا اپنی گردن رکھ دی۳؎اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے،فرمایا اس اونٹ کا مالک کہاں ہے وہ حضور کے پاس آیا فرمایا اسے میرے ہاتھ بیچ دے۴؎اس نے کہا یارسول اللہ ہم یہ حضور کو ہبہ کرتے ہیں یہ ایسے گھر والوں کا ہے جن کے پاس اس کے سوا کوئی ذریعہ معاش نہیں ۵؎فرمایا جب تم نے اس کا یہ حال بیان کیا تو اس نے زیادتی کام اور چارہ کی کمی کی شکایت کی تم اس سے اچھا سلوک کرو ۶؎پھر ہم چلے حتی کہ ایک منزل میں اترے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سوگئے ایک درخت زمین چیرتا ہوا آیا حتی کہ آپ پر سایہ کرلیا پھر اپنی جگہ لوٹ گیا۷؎پھر جب بیدار ہوئے تو میں نے حضور سے یہ ذکر کیا فرمایا یہ وہ درخت ہے جس نے اپنے رب سے یہ اجازت چاہی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرے تو اسے اجازت دے دی ۸؎راوی نے کہا کہ پھر ہم ایک گھاٹ پر گزرے تو آپ کے پاس ایک عورت اپنا بچہ لائی جسے دیوانگی تھی ۹؎تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا بانسہ پکڑا پھر فرمایا کہ نکل میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۱۰؎پھر ہم چلے تو جب لوٹے تو اس گھاٹ پر گزرے اس سے بچہ کے متعلق پوچھا وہ بولی اس کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا آپ کے بعد ہم نے اس سے کوئی شبہ کی چیز نہ دیکھی ۱۱؎(شرح سنہ)

شرح حدیث

۱∞؎آپ مشہور صحابی ہیں،قبیلہ بنی ثقیف سے ہیں،حدیبیہ،فتح خیبر،حنین،طائف وغیرہ کے جہادوں میں حاضر رہے آپ نے ایک سفر میں حضور کے تین معجزے دیکھے اس کا بیان فرمارہے ہیں یہ پتہ نہیں چلا کہ کس سفر میں تھے اور یہ واقعہ کب کا ہے۔
۲
؎یُسنٰیبنا ہےسنیسے بمعنی کھیت کو پانی دینا اسی سے ہے سانیہ وہ اونٹنی جس سے کھیت کو پانی دیا جاوے یعنی اس وقت کھیت والے اس پر کھیت کو پانی دے رہے تھے۔
۳
؎اونٹ کی لمبی گردن سینے سے سر تک کو حبران کہتے ہیں یعنی وہ حضور انور کے سامنے اس طرح بیٹھ گیا کہ اپنی ساری گردن زمین پر بچھادی اس نے اس طرح اپنی انتہائی عاجزی ظاہر کی۔
۴
؎اسے ہم پال لیں گے یہ تیرے ہاں تنگ ہے حضور آفت زدوں کے غم خوار ہیں۔بیکسوں کے غمگسار جن کی کوئی قیمت نہ ہو ان مولے ہوں ان کے خریدار ہیں۔شعر
بے یار ومددگار جسے کوئی نہ پوچھے ایسوں کا تمہیں یار و مددگار بنایا
۵
؎یعنی ان لوگوں کا سہارا ان کا گزارہ اس اونٹ سے ہے حضور چاہیں تو قبول فرمالیں ہم کو کوئی عذر نہیں۔
۶
؎یعنی اچھا ہم نہیں خریدتے تم اپنے پاس رکھو مگر اس سے کام کم لو چارہ زیادہ دو۔اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ حضور انور جانوروں کی بولی بھی سمجھتے ہیں حضرت سلیمان صرف چڑیوں چیونٹیوں کی بولی سمجھتے تھے،حضور شجر و حجر خشک و تر ساری مخلوق کی بولی جانتے ہیں۔دوسرے یہ کہ حضور حاجت روا مشکل کشاہ ہیں۔یہ وہ مسئلہ ہے جسے جانور بھی مانتے ہیں جو انسان مسلمان ہو کر حضور کو حاجت رواں مشکل کشا نہ مانے وہ جانوروں سے بدتر ہے۔تیسرے یہ کہ حضور کی کچہری میں جانور بھی فریاد ہوتے ہیں۔شعر
ہاں یہیں کرتی ہیں چڑیاں فریاد ہاں یہیں چاہتی ہیں ہرنی دوا
اس در پر شتران ناشاد شکوہ رنج و عناد کرتے ہیں
لہذا اپنا ہر دکھ درد حضور سے کہو فریاد کرو۔
۷
؎اس سے معلوم ہوا کہ حضور انور کے معجزات سوتے میں بھی جاری رہتے تھے صرف بیداری پر ہی منحصر نہ تھے۔
۸
؎یعنی درخت کی یہ حاضری صرف سایہ کرنے کے لیے نہ تھی بلکہ مجھے سلام کرنے کے لیے تھی اس سے معلوم ہوا کہ حضور انور کو جانور درخت بھی سلام کرتے ہیں دوسرے یہ کہ حضور انور سوتے میں بھی سلام کرنے والوں کے سلام سنتے انہیں جواب دیتے ہیں آج بھی بعد وفات حضور کو دنیا سلام کرتی ہے۔تیسرے یہ کہ اللہ تعالٰی خود اپنی مخلوق کو حضور کی بارگاہ میں سلام کرنے بھیجتا ہے۔دیکھو درخت اللہ تعالٰی سے اجازت لے کر سلام کرنے آیا تھا رہی یہ بات کہ درخت کو رب تعالٰی نے کیسے اجازت دی اور درخت نے یہ اجازت کیوں کر معلوم کی اس میں بڑی دراز گفتگو ہے حق یہ ہے کہ درختوں پتھروں کے بھی قدرتی دل ہیں ان کے دل میں ڈال دینا اللہ کی اجازت ہے رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَ اَوْحٰی رَبُّكَ اِلَی النَّحْلِ" آپ کے رب نے شہد کی مکھی کے دل میں یہ بات ڈال دی یہ ہے اللہ کا ان سے کلام فرمانا۔
۹
؎وہ عورت اپنے دیوانہ بچے کو حضور کے پاس لائی تاکہ اسے حضور کے دم اور حضور کی برکت سے شفاء نصیب ہو معلوم ہوا کہ یہ حاجت مندوں کا حضور کے دروازے پر جانا سنت صحابہ ہے۔
۱۰
؎اس میں خطاب اس بچہ کی بیماری یعنی دیوانگی سے ہے اورانی رسول اللهمیں وجہ خطاب کا ذکر ہے یعنی تو اس میں سے نکل جا کیونکہ میں اللہ کا رسول ہوں اس شان رسالت سے تجھ کو نکل جانے کا حکم دے رہا ہوں۔معلوم ہوا کہ حضور کی حکومت بیماریوں پر بھی ہے،آپ کا حکم ان پر بھی جاری ہے دیکھو حضور انور نے نہ تو کوئی دوا بتائی نہ کوئی دعا پڑھ کر دم کیا بلکہ اسے نکل جانے کا حکم شاہانہ دیا اور بیماری نے اطاعت کی ہم نے عرض کیا ہے۔
تخت ہے ان کا تاج ہے ان کا دونوں جہاں میں راج ہے ان کا
جن و ملک ہیں ان کے سپاہی رب کی خدائی میں ان کی شاہی
۱۱
؎یعنی وہ بیماری جڑ سے جاتی رہی پھر اس کا شائبہ بھی نہ ہواسبحان الله!یہ ہے حضور کی بادشاہت۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5922