باب : معجزات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5922
پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
- حدیث
-
- 5868
- 5869
- 5870
- 5871
- 5872
- 5873
- 5874
- 5875
- 5876
- 5877
- 5878
- 5879
- 5880
- 5881
- 5882
- 5883
- 5884
- 5885
- 5886
- 5887
- 5888
- 5889
- 5890
- 5891
- 5892
- 5893
- 5894
- 5895
- 5896
- 5897
- 5898
- 5899
- 5900
- 5901
- 5902
- 5903
- 5904
- 5905
- 5906
- 5907
- 5908
- 5909
- 5910
- 5911
- 5912
- 5913
- 5914
- 5915
- 5916
- 5917
- 5918
- 5919
- 5920
- 5921
- 5922
- 5923
- 5924
- 5925
- 5926
- 5927
- 5928
- 5929
- 5930
- 5931
- 5932
- 5933
- 5934
- 5935
- 5936
- 5937
- 5938
- 5939
- 5940
- 5941
- 5942
- 5943
- اگلا
حدیث مبارکہ
وَعَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ الثَّقَفِيِّ قَالَ ثَلَاثَةُ أَشْيَاءَ رَأَيْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا نَحْنُ نَسِيرُ مَعَهٗ إِذ مَرَرْنَا بِبَعِيرٍ يُسْنٰى عَلَيْهِ فَلَمَّا رَآهُ الْبَعِيرُ جَرْجَرَ فَوَضَعَ جِرَانَهٗ فَوَقَفَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيْنَ صَاحِبُ هٰذَاالْبَعِيرِ فَجَاءَهٗ فَقَالَ بِعْنِيهِ فَقَالَ بَلْ نَهَبُهٗ لَكَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ وَإِنَّهٗ لِأَهْلِ بَيْتٍ مَا لَهُمْ مَعِيشَةٌ غَيْرُهٗ قَالَ أَمَّا إِذْ ذَكَرْتَ هٰذَامِنْ أَمْرِهٖ فَإِنَّهٗ شَكَا كَثْرَةَ الْعَمَلِ وَقِلَّةَ العَلَفِ فَأَحْسِنُوا إِلَيْهِ قَالَ ثُمَّ سِرنَا حَتَّى نَزَلْنَا مَنْزِلًا فَنَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَتْ شَجَرَةٌ تَشُقُّ الْأَرْضَ حَتّٰى غَشِيَتْهُ ثُمَّ رَجَعَتْ إِلٰى مَكَانِهَا فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْتُ لَهٗ فَقَالَ هِيَ شَجَرَةٌ اسْتَأْذَنَتْ رَبَّهَا أَنْ تُسَلِّمَ عَلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَذِنَ لَهَا قَالَ ثُمَّ سِرْنَا فَمَرَرْنَا بِمَاءٍ فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ بِابْنٍ لَهَا بِهٖ جِنَّةٌ فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَنْخِرِهٖ فَقَالَ اخْرُجْ فَإِنِّي مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰهِ قَالَ ثُمَّ سِرْنَا، فَلَمَّا رَجعْنَا مَرَرْنَا بِذَلِكَ الْمَاءَ فَسَأَلَهَا عَنِ الصَّبِيِّ فَقَالَتْ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا رَأَيْنَا مِنْهُ ريبًا بَعْدَكَ. رَوَاهُ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ".
وعن يعلى بن مرة الثقفي قال ثلاثة أشياء رأيتها من رسول الله صلى الله عليه وسلم بينا نحن نسير معه إذ مررنا ببعير يسنى عليه فلما رآه البعير جرجر فوضع جرانه فوقف عليه النبي صلى الله عليه وسلم فقال أين صاحب هذاالبعير فجاءه فقال بعنيه فقال بل نهبه لك يا رسول الله وإنه لأهل بيت ما لهم معيشة غيره قال أما إذ ذكرت هذامن أمره فإنه شكا كثرة العمل وقلة العلف فأحسنوا إليه قال ثم سرنا حتى نزلنا منزلا فنام النبي صلى الله عليه وسلم فجاءت شجرة تشق الأرض حتى غشيته ثم رجعت إلى مكانها فلما استيقظ رسول الله صلى الله عليه وسلم ذكرت له فقال هي شجرة استأذنت ربها أن تسلم على رسول الله صلى الله عليه وسلم فأذن لها قال ثم سرنا فمررنا بماء فأتته امرأة بابن لها به جنة فأخذ النبي صلى الله عليه وسلم بمنخره فقال اخرج فإني محمد رسول الله قال ثم سرنا، فلما رجعنا مررنا بذلك الماء فسألها عن الصبي فقالت: والذي بعثك بالحق ما رأينا منه ريبا بعدك. رواه في "شرح السنة".
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت یعلیٰ ابن مرہ ثقفی سے ۱؎فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تین چیزیں دیکھیں جب کہ ہم حضور کے ساتھ چل رہے تھے کہ ہم ایک اونٹ پر گزرے جس پر پانی دیا جارہا تھا۲؎تو جب حضور کو اونٹ نے دیکھا تو چیخا اپنی گردن رکھ دی۳؎اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے،فرمایا اس اونٹ کا مالک کہاں ہے وہ حضور کے پاس آیا فرمایا اسے میرے ہاتھ بیچ دے۴؎اس نے کہا یارسول اللہ ہم یہ حضور کو ہبہ کرتے ہیں یہ ایسے گھر والوں کا ہے جن کے پاس اس کے سوا کوئی ذریعہ معاش نہیں ۵؎فرمایا جب تم نے اس کا یہ حال بیان کیا تو اس نے زیادتی کام اور چارہ کی کمی کی شکایت کی تم اس سے اچھا سلوک کرو ۶؎پھر ہم چلے حتی کہ ایک منزل میں اترے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سوگئے ایک درخت زمین چیرتا ہوا آیا حتی کہ آپ پر سایہ کرلیا پھر اپنی جگہ لوٹ گیا۷؎پھر جب بیدار ہوئے تو میں نے حضور سے یہ ذکر کیا فرمایا یہ وہ درخت ہے جس نے اپنے رب سے یہ اجازت چاہی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرے تو اسے اجازت دے دی ۸؎راوی نے کہا کہ پھر ہم ایک گھاٹ پر گزرے تو آپ کے پاس ایک عورت اپنا بچہ لائی جسے دیوانگی تھی ۹؎تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا بانسہ پکڑا پھر فرمایا کہ نکل میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۱۰؎پھر ہم چلے تو جب لوٹے تو اس گھاٹ پر گزرے اس سے بچہ کے متعلق پوچھا وہ بولی اس کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا آپ کے بعد ہم نے اس سے کوئی شبہ کی چیز نہ دیکھی ۱۱؎(شرح سنہ)
شرح حدیث
۱∞؎آپ مشہور صحابی ہیں،قبیلہ بنی ثقیف سے ہیں،حدیبیہ،فتح خیبر،حنین،طائف وغیرہ کے جہادوں میں حاضر رہے آپ نے ایک سفر میں حضور کے تین معجزے دیکھے اس کا بیان فرمارہے ہیں یہ پتہ نہیں چلا کہ کس سفر میں تھے اور یہ واقعہ کب کا ہے۔
۲؎یُسنٰیبنا ہےسنیسے بمعنی کھیت کو پانی دینا اسی سے ہے سانیہ وہ اونٹنی جس سے کھیت کو پانی دیا جاوے یعنی اس وقت کھیت والے اس پر کھیت کو پانی دے رہے تھے۔
۳؎اونٹ کی لمبی گردن سینے سے سر تک کو حبران کہتے ہیں یعنی وہ حضور انور کے سامنے اس طرح بیٹھ گیا کہ اپنی ساری گردن زمین پر بچھادی اس نے اس طرح اپنی انتہائی عاجزی ظاہر کی۔
۴؎اسے ہم پال لیں گے یہ تیرے ہاں تنگ ہے حضور آفت زدوں کے غم خوار ہیں۔بیکسوں کے غمگسار جن کی کوئی قیمت نہ ہو ان مولے ہوں ان کے خریدار ہیں۔شعر
بے یار ومددگار جسے کوئی نہ پوچھے ایسوں کا تمہیں یار و مددگار بنایا
۵؎یعنی ان لوگوں کا سہارا ان کا گزارہ اس اونٹ سے ہے حضور چاہیں تو قبول فرمالیں ہم کو کوئی عذر نہیں۔
۶؎یعنی اچھا ہم نہیں خریدتے تم اپنے پاس رکھو مگر اس سے کام کم لو چارہ زیادہ دو۔اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ حضور انور جانوروں کی بولی بھی سمجھتے ہیں حضرت سلیمان صرف چڑیوں چیونٹیوں کی بولی سمجھتے تھے،حضور شجر و حجر خشک و تر ساری مخلوق کی بولی جانتے ہیں۔دوسرے یہ کہ حضور حاجت روا مشکل کشاہ ہیں۔یہ وہ مسئلہ ہے جسے جانور بھی مانتے ہیں جو انسان مسلمان ہو کر حضور کو حاجت رواں مشکل کشا نہ مانے وہ جانوروں سے بدتر ہے۔تیسرے یہ کہ حضور کی کچہری میں جانور بھی فریاد ہوتے ہیں۔شعر
ہاں یہیں کرتی ہیں چڑیاں فریاد ہاں یہیں چاہتی ہیں ہرنی دوا
اس در پر شتران ناشاد شکوہ رنج و عناد کرتے ہیں
لہذا اپنا ہر دکھ درد حضور سے کہو فریاد کرو۔
۷؎اس سے معلوم ہوا کہ حضور انور کے معجزات سوتے میں بھی جاری رہتے تھے صرف بیداری پر ہی منحصر نہ تھے۔
۸؎یعنی درخت کی یہ حاضری صرف سایہ کرنے کے لیے نہ تھی بلکہ مجھے سلام کرنے کے لیے تھی اس سے معلوم ہوا کہ حضور انور کو جانور درخت بھی سلام کرتے ہیں دوسرے یہ کہ حضور انور سوتے میں بھی سلام کرنے والوں کے سلام سنتے انہیں جواب دیتے ہیں آج بھی بعد وفات حضور کو دنیا سلام کرتی ہے۔تیسرے یہ کہ اللہ تعالٰی خود اپنی مخلوق کو حضور کی بارگاہ میں سلام کرنے بھیجتا ہے۔دیکھو درخت اللہ تعالٰی سے اجازت لے کر سلام کرنے آیا تھا رہی یہ بات کہ درخت کو رب تعالٰی نے کیسے اجازت دی اور درخت نے یہ اجازت کیوں کر معلوم کی اس میں بڑی دراز گفتگو ہے حق یہ ہے کہ درختوں پتھروں کے بھی قدرتی دل ہیں ان کے دل میں ڈال دینا اللہ کی اجازت ہے رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَ اَوْحٰی رَبُّكَ اِلَی النَّحْلِ" آپ کے رب نے شہد کی مکھی کے دل میں یہ بات ڈال دی یہ ہے اللہ کا ان سے کلام فرمانا۔
۹؎وہ عورت اپنے دیوانہ بچے کو حضور کے پاس لائی تاکہ اسے حضور کے دم اور حضور کی برکت سے شفاء نصیب ہو معلوم ہوا کہ یہ حاجت مندوں کا حضور کے دروازے پر جانا سنت صحابہ ہے۔
۱۰؎اس میں خطاب اس بچہ کی بیماری یعنی دیوانگی سے ہے اورانی رسول اللهمیں وجہ خطاب کا ذکر ہے یعنی تو اس میں سے نکل جا کیونکہ میں اللہ کا رسول ہوں اس شان رسالت سے تجھ کو نکل جانے کا حکم دے رہا ہوں۔معلوم ہوا کہ حضور کی حکومت بیماریوں پر بھی ہے،آپ کا حکم ان پر بھی جاری ہے دیکھو حضور انور نے نہ تو کوئی دوا بتائی نہ کوئی دعا پڑھ کر دم کیا بلکہ اسے نکل جانے کا حکم شاہانہ دیا اور بیماری نے اطاعت کی ہم نے عرض کیا ہے۔
تخت ہے ان کا تاج ہے ان کا دونوں جہاں میں راج ہے ان کا
جن و ملک ہیں ان کے سپاہی رب کی خدائی میں ان کی شاہی
۱۱؎یعنی وہ بیماری جڑ سے جاتی رہی پھر اس کا شائبہ بھی نہ ہواسبحان الله!یہ ہے حضور کی بادشاہت۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5922