Main Icon

باب : معجزات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5910

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كُنَّا نَعُدُّ الْآيَاتِ بَرَكَةً وَأَنْتُمْ تَعُدُّونَهَا تَخْوِيفًا كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَقَلَّ الْمَاءُ فَقَالَ: «اطْلُبُوا فَضْلَةً مِنْ مَاءٍ» فَجَاءُوا بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ قَلِيلٌ فَأَدْخَلَ يَدَهٗ فِي الْإِنَاءِ ثُمَّ قَالَ: «حَيَّ عَلَى الطَّهُورِ الْمُبَارَكِ وَالْبَرَكَةُ مِنَ اللهِ» فَلَقَد رَأَيْتُ الْمَاءَ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَقَد كُنَّا نَسْمَعُ تَسْبِيحَ الطَّعَامِ وَهُوَ يُؤْكَلُ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعن عبد الله بن مسعود قال: كنا نعد الآيات بركة وأنتم تعدونها تخويفا كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر فقل الماء فقال: «اطلبوا فضلة من ماء» فجاءوا بإناء فيه ماء قليل فأدخل يده في الإناء ثم قال: «حي على الطهور المبارك والبركة من الله» فلقد رأيت الماء ينبع من بين أصابع رسول الله صلى الله عليه وسلم ولقد كنا نسمع تسبيح الطعام وهو يؤكل. رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبداابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ ہم معجزات کو برکت شمار کرتے تھے اور تم انہیں ڈر کی چیز سمجھتے ہو ۱؎ہم ایک سفر میں رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ تھے تو پانی کم ہوگیافرمایا کچھ بچا ہوا پانی تلاش کرو ۲؎لوگ ایک برتن لائے جس میں تھوڑا سا پانی تھا حضور نے برتن میں اپنا ہاتھ ڈال دیا پھر فرمایا آؤ برکت والے پاک پانی اور اکی برکت پر ۳؎میں نے پانی کو دیکھا کہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کی انگلیوں کے درمیان سے پھوٹ رہا ہے اور یقینًا ہم کھانے کی تسبیح سنتے تھے حالانکہ وہ کھایا جاتا تھا۴؎(بخاری)

شرح حدیث

روایت ہے حضرت عبداابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ ہم معجزات کو برکت شمار کرتے تھے اور تم انہیں ڈر کی چیز سمجھتے ہو ۱؎ہم ایک سفر میں رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ تھے تو پانی کم ہوگیافرمایا کچھ بچا ہوا پانی تلاش کرو ۲؎لوگ ایک برتن لائے جس میں تھوڑا سا پانی تھا حضور نے برتن میں اپنا ہاتھ ڈال دیا پھر فرمایا آؤ برکت والے پاک پانی اور اکی برکت پر ۳؎میں نے پانی کو دیکھا کہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کی انگلیوں کے درمیان سے پھوٹ رہا ہے اور یقینًا ہم کھانے کی تسبیح سنتے تھے حالانکہ وہ کھایا جاتا تھا۴؎(بخاری)
۱
؎ظاہر یہ ہے کہ آیات سے مراد حضور انور کے معجزات ہیں اس ہی لیے یہ حدیثباب المعجزاتمیں لائی گئی بعض شارحین نے فرمایا کہ اس سے مراد آیات قرآنیہ ہیں آپ کا اشارہ اس آیت کریمہ کی طرف ہے"وَ مَا نُرْسِلُ بِالۡاٰیٰتِ اِلَّا تَخْوِیۡفًا"اور رب کے اس فرمان کی طرف بھی اشارہ ہے"وَمَا مَنَعَنَاۤ اَنۡ نُّرْسِلَ بِالۡاٰیٰتِ اِلَّاۤ اَنۡ كَذَّبَ بِھَا الۡاَوَّلُوۡنَ"۔مقصد یہ ہے کہ تم ان قرآنی آیات سے یہ مت سمجھ لینا کہ معجزات ڈرانے یا قوموں پر عذاب کے لیے ہی آتے ہیں جیسے صالح علیہ السلام کی اونٹنی وغیرہ بلکہ مؤمنین کے لیے رحمت ہوتے ہیں اور سرکش معاندین کے لیے عذاب،جو معجزہ مانگیں اور دکھائے جانے پر ایمان نہ لائیں ان پر عذاب آجاتا ہے۔
۲
؎یعنی کسی برتن میں کسی کے پاس کچھ بچا کھچا پانی ہو تو لاؤ۔خیال رہے کہ یہاں برکت کا معجزہ دکھانا مقصود تھا اس لیے پانی منگایاورنہ آپ کو اس پانی کی ضرورت نہ تھی سوکھے برتن میں بھی پانی پیدا ہوسکتا تھا۔
۳
؎یعنی یہ پانی پاک اور پاک گر بھی ہے اور برکت والا بھی ہے کہ تھوڑا پانی سب کو کافی ہوگا اور تمام پانیوں سے افضل و اعلیٰ بھی ہے کہ ہماری انگلیوں سے اس کا چشمہ پھوٹا ہے۔دنیا میں تین پانی بڑے افضل ہیں۔(۱) یہ پانی کیونکہ حضور کی انگلیوں سے جاری ہوا(۲) آبِ زمزم جو جناب اسماعیل کے قدم سے پیدا ہوا،پھر وہ پانی جو حضرت ایوب علیہ السلام کے ایڑی سے پیدا ہوا، رب فرماتا ہے:"اُرْکُضْ بِرِجْلِكَ ھٰذَا مُغْتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّ شَرَابٌ"بعض کے نزدیک پھر وہ پانی جو جناب مریم کے لیے جاری کیا گیا"قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِیًّا"۔خیال رہے کہ جس پانی کو اوالوں سے نسبت ہوجاوے اس کی عزت و عظمت ہےاور جس کو بتوں سے نسبت ہو وہ منحوس اگرچہ دونوں پانی اکی مخلوق ہیں آبِ زمزم کی تعظیم ایمان کا رکن ہے اور گنگا کے پانی کی تعظیم کفر ہے کہ علامت کفر ہے۔
۴
؎اس حدیث کی تائید وہ آیت کریمہ کرتی ہے"وَ اِنۡ مِّنۡ شَیۡءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖ"بعض روایات میں ہے کہ حضور انور نے ایک مٹھی کنکریاں لیں تو ان کنکریوں نے تسبیح پڑھی ہم سب نے سنی حضور انور نے ان حضرات کے کانوں سے حجاب اٹھادیئے جس سے انہوں نے یہ تسبیح سن لی حضور کی نظر حضور کا ہاتھ حضور کی توجہ عالم غیب کا مشاہدہ کرادیتے ہیں حضور خچر پر سوار ہوگئے تو اس کی آنکھوں نے قبرکا عذاب دیکھ لیا مردے کی چیخ و پکار سن لی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5910