باب : معجزات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5914
پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
- حدیث
-
- 5868
- 5869
- 5870
- 5871
- 5872
- 5873
- 5874
- 5875
- 5876
- 5877
- 5878
- 5879
- 5880
- 5881
- 5882
- 5883
- 5884
- 5885
- 5886
- 5887
- 5888
- 5889
- 5890
- 5891
- 5892
- 5893
- 5894
- 5895
- 5896
- 5897
- 5898
- 5899
- 5900
- 5901
- 5902
- 5903
- 5904
- 5905
- 5906
- 5907
- 5908
- 5909
- 5910
- 5911
- 5912
- 5913
- 5914
- 5915
- 5916
- 5917
- 5918
- 5919
- 5920
- 5921
- 5922
- 5923
- 5924
- 5925
- 5926
- 5927
- 5928
- 5929
- 5930
- 5931
- 5932
- 5933
- 5934
- 5935
- 5936
- 5937
- 5938
- 5939
- 5940
- 5941
- 5942
- 5943
- اگلا
حدیث مبارکہ
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا عَلَى نَاضِحٍ قَدْ أَعْيَا، فَلَا يَكَادُ يَسِيرُ، فَتَلَاحَقَ بِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا لِبَعِيرِكَ؟ " قُلْتُ: قَدْ عَيِيَ، فَتَخَلَّفَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَزَجَرَهُ فَدَعَا لَهٗ فَمَا زَالَ بَيْنَ يَدَيِ الْإِبِلِ قُدَّامَهَا يَسِيرُ فَقَالَ لِي: "كَيْفَ تَرَى بِعِيرَكَ؟ قَالَ قُلْتُ بِخَيْرٍ قَدْ أَصَابَتْهُ بَرَكَتُكَ قَالَ أَفَتَبِيعُنِيهِ بِوُقِيَّةٍ. فَبِعْتُهٗ عَلٰى أَنَّ لِي فَقَارَ ظَهْرِهٖ حَتَّى المَدِينَةِ فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ غَدَوْتُ عَلَيْهِ بِالْبَعِيرِ فَأَعْطَانِي ثَمَنَهُ ٗ وَرَدَّهُ ٗ عَليّ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
وعن جابر قال: غزوت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنا على ناضح قد أعيا، فلا يكاد يسير، فتلاحق بي النبي صلى الله عليه وسلم فقال ما لبعيرك؟ " قلت: قد عيي، فتخلف رسول الله صلى الله عليه وسلم فزجره فدعا له فما زال بين يدي الإبل قدامها يسير فقال لي: "كيف ترى بعيرك؟ قال قلت بخير قد أصابته بركتك قال أفتبيعنيه بوقية. فبعته على أن لي فقار ظهره حتى المدينة فلما قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة غدوت عليه بالبعير فأعطاني ثمنه ورده علي. (متفق عليه)
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ایک جہاد کیا میں اونٹ پر تھا ۱؎جو تھک گیا تھا تو وہ چل سکتا نہ تھا مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم ملے فرمایا تمہارے اونٹ کو کیا ہوا میں نے کہا کہ تھک گیا ہے تب رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم پیچھے چلے اونٹ کو ڈانٹا پھر اس کے لیے دعا کی ۲؎تو وہ دوسرے اونٹ کے آگے چلنے لگا ۳؎پھر مجھ سے فرمایا اپنے اونٹ کو کیسا دیکھتے ہو میں نے کہا خیریت سے ہے اسے آپ کی برکت پہنچ گئی فرمایا ۴؎تو کیا تم اسے ایک اوقیہ میں میرے ہاتھ فروخت کرو گے ۵؎تو میں نے اونٹ حضور کے ہاتھ اس شرط پر فروخت کردیا کہ مجھے مدینہ تک اس کی پشت پر سواری کا حق ہو ۶؎جب رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم مدینہ تشریف لائے میں صبح کو آپ کے پاس لے گیا مجھے حضور نے اس کی قیمت بھی دی اور اونٹ بھی لوٹا دیا ۷؎(مسلم،بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎ناضحبنانضحسے بمعنی پانی چھڑکنا پانی بکھیرنا،اصطلاح میںناضحوہ اونٹ ہے جس سے کھیت کو پانی دیا جاوے اس پر کبھی سواری بھی کرلیتے ہیں یہ اونٹ بھی ایسا ہی تھا۔
۲؎دعا فرمائی اس اونٹ کو قوت و طاقت ملنے کی اس دعا سے اس اونٹ میں زور آگیا جس کمزور پر نظر فرمادیں اس میں قوت آجاوے۔شعر
مجھ سے بے بس کی طاقت پہ دائم درود مجھ سے بے کس کی قوت پر لاکھوں سلام
۳؎قد امھابیان ہےبین یدیکا ان دونوں کے معنی ایک ہی ہیں،ابلسے مراد ہیں سارے اونٹ یعنی اب میرا یہ تھکا ماندہ اونٹ دوسرے اونٹوں سے آگے چلتا تھا۔
۴؎یعنی اب جو میرے اونٹ میں یہ زور آگیا ہے وہ آپ کی طاقت ہے کہ اب یہ روکے نہیں رکتا۔دیتا اﷲتعالٰی ہی ہے مگر دیتا ہے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی معرفت۔
۵؎اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے اور درہم ساڑھے چار آنے کا کل گیارہ روپیہ چار آنہ میں اونٹ کا سودا طے ہوا۔اس زمانہ میں جانوروں کی قیمتیں بہت تھوڑی تھیں۔
۶؎فقارجمع ہےفقرہکی بمعنی جوڑ اسی لیے حضور انور کی تلوار کا نام ذوالفقار تھا کہ اس میں جوڑ تھے یہاں اس سے مراد ہیں اونٹ کی پیٹھ کی ہڈیاں یعنی میں فروخت تو کررہا ہوں مگر شرط یہ ہے کہ مدینہ منورہ تک اس پر سواری کروں گا وہاں پہنچ کر حضور کے حوالے کروں گا۔
۷؎یہ بیع بظاہر بیع بالشرط ہے جوکہ ممنوع ہے مگر درحقیقت یہ بیع تھی ہی نہیں بلکہ وعدہ بیع تھا کیونکہ بیع میں ضروری ہے کہ دو طرفہ ادھار نہ ہو یا قیمت پر یا چیز پر اسی مجلس عقد میں قبضہ ہوجائے۔یہاں نہ حضور انور نے قیمت دی نہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے اونٹ دیا لہذا یہ بیع نہ تھی بلکہ بیع کا وعدہ تھا مدینہ منورہ آکر اونٹ دینے قیمت لینے پر بیع ہوئی یا یوں کہو کہ یہ لفظًا بیع تھی حقیقتًا نہ تھی اسی لیے حضور کی طرف سے بطور رعایت پیش کی گئی تھی مگر پہلی توجیہ قوی معلوم ہوتی ہے۔بہرحال یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے بیع کالی بالکالی سے منع فرمایا یا بیع بالشرط سے منع فرمایا نہ احناف کے خلاف ہے۔احناف کہتے ہیں کہ شرط فاسد لگانے سے بیع فاسد ہوجاتی ہے شرط فاسد کی تعریف اور شرط لگانے کی صورتیں کتب فقہ ملاحظہ کرو کہ نفس عقد میں ایسی شرط لگائی جاوے جس میں کسی کا نفع ہو اور نفع والا خود شرط لگائے اور وہ شرط ایسی ہو کہ تجارت اس کا تقاضا نہ کرتی ہو یہ بیع کو فاسد کردیتا ہے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5914