Main Icon

باب : معجزات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5914

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا عَلَى نَاضِحٍ قَدْ أَعْيَا، فَلَا يَكَادُ يَسِيرُ، فَتَلَاحَقَ بِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا لِبَعِيرِكَ؟ " قُلْتُ: قَدْ عَيِيَ، فَتَخَلَّفَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَزَجَرَهُ فَدَعَا لَهٗ فَمَا زَالَ بَيْنَ يَدَيِ الْإِبِلِ قُدَّامَهَا يَسِيرُ فَقَالَ لِي: "كَيْفَ تَرَى بِعِيرَكَ؟ قَالَ قُلْتُ بِخَيْرٍ قَدْ أَصَابَتْهُ بَرَكَتُكَ قَالَ أَفَتَبِيعُنِيهِ بِوُقِيَّةٍ. فَبِعْتُهٗ عَلٰى أَنَّ لِي فَقَارَ ظَهْرِهٖ حَتَّى المَدِينَةِ فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ غَدَوْتُ عَلَيْهِ بِالْبَعِيرِ فَأَعْطَانِي ثَمَنَهُ ٗ وَرَدَّهُ ٗ عَليّ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن جابر قال: غزوت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنا على ناضح قد أعيا، فلا يكاد يسير، فتلاحق بي النبي صلى الله عليه وسلم فقال ما لبعيرك؟ " قلت: قد عيي، فتخلف رسول الله صلى الله عليه وسلم فزجره فدعا له فما زال بين يدي الإبل قدامها يسير فقال لي: "كيف ترى بعيرك؟ قال قلت بخير قد أصابته بركتك قال أفتبيعنيه بوقية. فبعته على أن لي فقار ظهره حتى المدينة فلما قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة غدوت عليه بالبعير فأعطاني ثمنه ورده علي. (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ایک جہاد کیا میں اونٹ پر تھا ۱؎جو تھک گیا تھا تو وہ چل سکتا نہ تھا مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم ملے فرمایا تمہارے اونٹ کو کیا ہوا میں نے کہا کہ تھک گیا ہے تب رسول اصلی اللہ علیہ و سلم پیچھے چلے اونٹ کو ڈانٹا پھر اس کے لیے دعا کی ۲؎تو وہ دوسرے اونٹ کے آگے چلنے لگا ۳؎پھر مجھ سے فرمایا اپنے اونٹ کو کیسا دیکھتے ہو میں نے کہا خیریت سے ہے اسے آپ کی برکت پہنچ گئی فرمایا ۴؎تو کیا تم اسے ایک اوقیہ میں میرے ہاتھ فروخت کرو گے ۵؎تو میں نے اونٹ حضور کے ہاتھ اس شرط پر فروخت کردیا کہ مجھے مدینہ تک اس کی پشت پر سواری کا حق ہو ۶؎جب رسول اصلی اللہ علیہ و سلم مدینہ تشریف لائے میں صبح کو آپ کے پاس لے گیا مجھے حضور نے اس کی قیمت بھی دی اور اونٹ بھی لوٹا دیا ۷؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎ناضحبنانضحسے بمعنی پانی چھڑکنا پانی بکھیرنا،اصطلاح میںناضحوہ اونٹ ہے جس سے کھیت کو پانی دیا جاوے اس پر کبھی سواری بھی کرلیتے ہیں یہ اونٹ بھی ایسا ہی تھا۔
۲
؎دعا فرمائی اس اونٹ کو قوت و طاقت ملنے کی اس دعا سے اس اونٹ میں زور آگیا جس کمزور پر نظر فرمادیں اس میں قوت آجاوے۔شعر
مجھ سے بے بس کی طاقت پہ دائم درود مجھ سے بے کس کی قوت پر لاکھوں سلام
۳
؎قد امھابیان ہےبین یدیکا ان دونوں کے معنی ایک ہی ہیں،ابلسے مراد ہیں سارے اونٹ یعنی اب میرا یہ تھکا ماندہ اونٹ دوسرے اونٹوں سے آگے چلتا تھا۔
۴
؎یعنی اب جو میرے اونٹ میں یہ زور آگیا ہے وہ آپ کی طاقت ہے کہ اب یہ روکے نہیں رکتا۔دیتا اتعالٰی ہی ہے مگر دیتا ہے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی معرفت۔
۵
؎اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے اور درہم ساڑھے چار آنے کا کل گیارہ روپیہ چار آنہ میں اونٹ کا سودا طے ہوا۔اس زمانہ میں جانوروں کی قیمتیں بہت تھوڑی تھیں۔
۶
؎فقارجمع ہےفقرہکی بمعنی جوڑ اسی لیے حضور انور کی تلوار کا نام ذوالفقار تھا کہ اس میں جوڑ تھے یہاں اس سے مراد ہیں اونٹ کی پیٹھ کی ہڈیاں یعنی میں فروخت تو کررہا ہوں مگر شرط یہ ہے کہ مدینہ منورہ تک اس پر سواری کروں گا وہاں پہنچ کر حضور کے حوالے کروں گا۔
۷
؎یہ بیع بظاہر بیع بالشرط ہے جوکہ ممنوع ہے مگر درحقیقت یہ بیع تھی ہی نہیں بلکہ وعدہ بیع تھا کیونکہ بیع میں ضروری ہے کہ دو طرفہ ادھار نہ ہو یا قیمت پر یا چیز پر اسی مجلس عقد میں قبضہ ہوجائے۔یہاں نہ حضور انور نے قیمت دی نہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے اونٹ دیا لہذا یہ بیع نہ تھی بلکہ بیع کا وعدہ تھا مدینہ منورہ آکر اونٹ دینے قیمت لینے پر بیع ہوئی یا یوں کہو کہ یہ لفظًا بیع تھی حقیقتًا نہ تھی اسی لیے حضور کی طرف سے بطور رعایت پیش کی گئی تھی مگر پہلی توجیہ قوی معلوم ہوتی ہے۔بہرحال یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے بیع کالی بالکالی سے منع فرمایا یا بیع بالشرط سے منع فرمایا نہ احناف کے خلاف ہے۔احناف کہتے ہیں کہ شرط فاسد لگانے سے بیع فاسد ہوجاتی ہے شرط فاسد کی تعریف اور شرط لگانے کی صورتیں کتب فقہ ملاحظہ کرو کہ نفس عقد میں ایسی شرط لگائی جاوے جس میں کسی کا نفع ہو اور نفع والا خود شرط لگائے اور وہ شرط ایسی ہو کہ تجارت اس کا تقاضا نہ کرتی ہو یہ بیع کو فاسد کردیتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5914