Main Icon

باب : قبروں کی زیارت کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1764

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُهُمْ إِذَا خَرَجُوا إِلَى المَقَابِرِ: “السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالِمُسْلِمينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللهُ بِكُمْ لَلَاحِقُونَ نَسْأَلُ اللهَ لَنَا وَلَكُمُ الْعَافِيَةَ” . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن بريدة قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعلمهم إذا خرجوا إلى المقابر: “السلام عليكم أهل الديار من المؤمنين والمسلمين وإنا إن شاء الله بكم للاحقون نسأل الله لنا ولكم العافية” . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت بریدہ سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم انہیں سکھاتے تھے کہ جب وہ قبرستان جائیں تو کہیں اے مؤمنوں اور مسلمانوں کے گھر والو تم پر سلام ہو ۱∞؎اِنْ شَاءَاللّٰهُہم بھی تم سے ملنے والے ہیں ۲؎ہم الله سے اپنے اور تمہارے لیے عافیت مانگتے ہیں۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎اس حدیث سےمعلوم ہوا کہ قبرستان میں جاکر پہلے سلام کرنا پھر یہ عرض کرنا سنت ہے،اس کے بعد اہلِ قبور کو ایصال ثواب کیا جائے۔اس سے معلوم ہوا کہ مردے باہر والوں کود یکھتے پہچانتے ہیں اور ان کا کلام سنتے ہیں ورنہ انہیں سلام جائز نہ ہوتا کیونکہ جو سنتا نہ ہو یا سلام کا جواب نہ دے سکتا ہو اسے سلام کرنا جائز نہیں،دیکھو سونے والے اور نماز پڑھنے والے کو سلام نہیں کرسکتے۔۲؎یہاِنْ شَاءَاللّٰهُیا تو برکت کے لیے یا ایمان پر موت کے لیے یعنی اگر رب نے چاہا تو ہمارا خاتمہ بھی ایمان پر ہوگا اور ہم تم سے ملیں گے،کفار کے پاس نہ جائیں گے ورنہ موت تو یقینًا آنی ہے وہاںاِنْ شَاءَاللّٰهُکہنے کی ضرورت نہیں۔۳؎عوام مسلمین کی قبروں پر بعد سلام یہ الفاظ کہے جائیں،اولیاء الله کے مزارات پر یوں عرض کرے"سَلٰمٌ عَلَیۡکُمۡ بِمَا کَسَبْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَی الدَّارِ"اور شہداء کے مزارات پر یوں عرض کرے "سَلٰمٌ عَلَیۡکُمۡ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَی الدَّارِ(عالمگیری)یہاںدیارسے مراد قبور ہیں کیونکہ قبریں میتوں کے گھر ہیں اور قبرستان ان کا شہر۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1764