Main Icon

باب : قبروں کی زیارت کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1771

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَة قَالَتْ: كُنْتُ أَدْخُلُ بَيْتِيَ الَّذِي فِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنِّي وَاضِعٌ ثَوْبِي وَأَقُولُ: إِنَّمَا هُوَ زَوْجِي وَأَبِي فَلَمَّا دُفِنَ عُمَرُ مَعَهُمْ فَوَاللهِ مَا دَخَلْتُهُ الا وَأَنَا مَشْدُودَةٌ عَلَيَّ ثِيَابِي حَيَاءً مِنْ عُمَرَ.رَوَاهُ أَحْمدُ

وعن عائشة قالت: كنت أدخل بيتي الذي فيه رسول الله صلى الله عليه وسلم وإني واضع ثوبي وأقول: إنما هو زوجي وأبي فلما دفن عمر معهم فوالله ما دخلته الا وأنا مشدودة علي ثيابي حياء من عمر.رواه أحمد

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ میں اپنے گھر میں جس میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم مدفون ہیں یوں ہی چادر اٹکارے چلی جاتی تھی ۱∞؎اور کہتی تھی ایک میرے زوج ہیں اور ایک میرے والد پھر جب حضرت عمر دفن ہوگئے تو رب کی قسم حضرت عمر سے شرم کے باعث بغیر کپڑا لپیٹے اس گھر میں نہ گئی ۲؎(احمد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جب تک میرے حجرے میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم اورحضرت ابوبکرصدیق مدفون رہے تب تک تو میں سر کھولے یا ڈھکے ہر طرح حجرے شریف میں چلی جاتی تھی کیونکہ نہ خاوند سے حجاب ہوتا ہے نہ والد سے۔۲؎جب سے حضرت عمر میرے حجرے میں دفن ہوگئے تب سے میں بغیر چادر اوڑھے اور پردہ کا پورا اہتمام کیئے بغیر حجرے شریف میں نہ گئی،حضرت عمر سے شرم و حیا کرتی ہوں۔اس حدیث سے بہت مسائل معلوم ہوسکتے ہیں:ایک یہ کہ میت کا بعد وفات بھی احترام چاہیئے۔فقہاء فرماتے ہیں کہ میت کا ایسا ہی احترام کرے جیساکہ اس کی زندگی میں کرتا تھا۔دوسرے یہ کہ بزرگوں کی قبور کا بھی احترام اور ان سے بھی شرم و حیا چاہیئے۔تیسرے یہ کہ میت قبر کے اندر سے باہر والوں کو دیکھتااور انہیں جانتا پہچانتا ہے،دیکھو حضرت عمر سے عائشہ صدیقہ ان کی وفات کے بعد شرم و حیاء فرمارہی ہیں،اگر آپ باہر کی کوئی چیز نہ دیکھتے تو اس حیاء فرمانے کے کیا معنی۔چوتھے یہ کہ قبر کی مٹی تختے وغیرہ تو میت کی آنکھوں کے لیئے حجاب نہیں بن سکتے مگر زائر کے جسم کا لباس ان کے لیئے آڑ ہے،لہذا میت کو زائر ننگا نہیں دکھائی دیتا ورنہ حضرت عائشہ صدیقہ کا چادر اوڑھ کر وہاں جانے کے کیا معنے تھے،یہ قانون قدرت ہے۔لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ جب حضرت عمر قبر کے اندر سے زائر کو دیکھ رہے ہیں تو زائر کے کپڑوں کے اندر کا جسم بھی انہیں نظر آرہا ہے۔پانچویں یہ کہ بزرگوں کی قبروں پر مجاوروں کا رہنا درست ہے،حضرت عائشہ صدیقہ روضہ اطہر کی مجاورہ تھیں۔چھٹے یہ کہ عورت بھی مجاورہ ہوسکتی ہے مگر باپردہ اورحیا کے ساتھ۔ساتویں یہ کہ مجاورہ عورت کو قبر کی زیارت کی اجازت ہے کیونکہ وہ وہاں ہی رہتی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1771