Main Icon

باب : امام پر لازم امور - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1132

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو مَسْعُودٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ: وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي لَأَتَأَخَّرُ عَنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ مِمَّا يُطِيلُ بِنَا فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَوْعِظَةٍ أَشَدَّ غَضَبًا مِنْهُ يَوْمَئِذٍ ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ مِنْكُمْ مُنَفِّرِينَ فَأَيُّكُمْ مَا صَلّٰى بِالنَّاسِ فَلْيَتَجَوَّزْ: فَإِنَّ فِيهِمُ الضَّعِيفَ وَالْكَبِيرَ وَذَا الْحَاجَةِ "(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن قيس بن أبي حازم قال: أخبرني أبو مسعود أن رجلا قال: والله يا رسول الله إني لأتأخر عن صلاة الغداة مما يطيل بنا فما رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم في موعظة أشد غضبا منه يومئذ ثم قال: " إن منكم منفرين فأيكم ما صلى بالناس فليتجوز: فإن فيهم الضعيف والكبير وذا الحاجة "(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت قیس ابن حازم سے فرماتے ہیں کہ مجھے ابو مسعود نے خبر دی کہ ایک شخص نے عرض کیا یارسول الله خدا کی قسم میں فلاں کی وجہ سے نماز فجر سے پیچھے رہتا ہوں کیونکہ وہ دراز بہت کرتے ہیں میں نے نبی صلی الله علیہ وسلم کو اس دن سے زیادہ کسی وعظ میں غضب ناک نہ دیکھا پھر فرمایا کہ تم میں سے بعض نفرت والے ہیں جو کوئی بھی لوگوں کو نماز پڑھائے وہ مختصر کرے کیونکہ ان میں کمزور بوڑھے اور کام کاج والے ہیں ۱؎(مسلم، بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اس سے معلوم ہوا کہ امام کے قصور کی بنا پر اگر کوئی شخص جماعت چھوڑ دے تو گنہگار وہ نہیں ہے بلکہ امام،نیز حاکم یا بزرگ کے سامنے امام کی شکایت کردینا جائز ہے،نہ یہ غیبت ہے اور نہ امام کی سرتابی،نیز حاکم مقتدیوں کے سامنے امام پر سختی بھی کرسکتا ہے اور ملامت بھی، اس میں ا س کی اصلاح ہے نہ کہ ذلیل کرنا۔درازی ٔ نماز اگرچہ عبادت ہے مگر جب کہ اس سے کوئی خرابی نہ پیدا ہو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1132