Main Icon

باب:برتن وغیرہ ڈھکنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4299

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: جَاءَ أَبُو حُمَيْدٍ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنَ النَّقِيعِ بِإِنَآءٍ مِنْ لَبَنٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَّا خَمَّرْتَهٗ وَلَوْ أنْ تَعْرِضَ عَلَيْهِ عُوْداً(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعنه قال: جاء أبو حميد رجل من الأنصار من النقيع بإناء من لبن إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال النبي صلى الله عليه وسلم: ألا خمرته ولو أن تعرض عليه عودا(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں کہ ایک انصاری صاحب ابوحمید نقیع سے دودھ بھرا برتن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائے ۱؎نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اسے ڈھک کیوں نہیں لیا اگرچہ اس پر لکڑی کھڑی کر دیتے ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎ابو حمید کا نام عبدالرحمن ابن سعد ہے،کنیت ابو حمید خزرجی ساعدی ہیں،نقیع وادی عقیق میں ایک جگہ ہے جہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کے اونٹوں کے لیے طویلہ بنوایا تھا وہاں حضور کے خدام بھی رہتے تھے ان اونٹوں کی نگرانی کے لیے۔ بعض نسخوں میں بجائےنقیعکےبقیعہے یعنیبسے جو مدینہ منورہ کا قبرستان ہے مگر یہ صحیح نہیں وادی عقیق مدینہ منورہ کے مکہ معظمہ کے قدیمی راہ پر تین میل فاصلہ پر ایک وادی ہے اب راستہ بدل چکا ہے۔
۲
؎وہ حضرت کھلے برتن میں دودھ لائے تھے اس پر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا یعنی دودھ ڈھک کر لانا چاہیے تھا اگر ڈھکنا نہ تھا تو اس کے اوپر لکڑی ہی کھڑی کرلیتے۔ہمارے ہاں عوام میں مشہور ہے کہ دودھ اور دہی کو نظر بد بہت جلد لگتی ہے اس پر لکڑی کھڑی کرلینی چاہیے۔اس کی اصل یہ حدیث ہوسکتی ہے کہ خیال رہے کہ دوکانوں پر دودھ دہی کھلا رکھا رہتا ہے وہ اس حکم میں داخل نہیں،کہیں لے کر جاؤ تو ڈھک لو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4299