Main Icon

باب:رمی جمروں کی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2625

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْهَا قَالَتْ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ ألَا نَبْنِي لَكَ بِنَاءً يُظِلُّكَ بِمِنًى؟ قَالَ:لَا،مِنًى مُنَاخُ مَنْ سَبَقَ.رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه والدَّارِمِيُّ

وعنها قالت: قلنا: يا رسول الله ألا نبني لك بناء يظلك بمنى؟ قال:لا،منى مناخ من سبق.رواه الترمذي وابن ماجه والدارمي

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے فرماتی ہیں ہم نے عرض کیا یا رسول اللّٰه کیا ہم منٰی میں آپ کے لیے کوئی گھر نہ بنادیں جو آپ پر سایہ کرے ۱؎فرمایا نہیں،منٰی اس کی جگہ ہے جو پہلے پہنچ جائے ۲؎(ترمذی،ابن ماجہ،دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی آپ کے لیے یہاں پختہ عمارت بنادیں جو ہمیشہ آپ کے اور آپ کی اولاد کے لیے خاص رہے،کسی کو وہاں ٹھہرنے کا حق نہ ہو لہذا اس سے عارضی خیمے ڈال لینا منع نہیں۔سایہ سے مراد قوی سایہ ہے جس میں دھوپ کا اثر نہ ہو وہ چھت ہی کا ہوتا ہے خیمہ کا سایہ ضعیف ہے۔
۲
؎مُنَاخٌ اِنَاخَۃٌکا اسم مفعول ہے بمعنی طرفاِنَاخَۃَکے معنی ہیں اونٹ بٹھانا،یعنی سارا منٰی زمین موقوفہ ہے جس میں سارے مسلمان شریک ہیں اور برابر کے حقدار،اگر یہاں عمارتیں بننا شروع ہوگئیں،تو حجاج پرسخت تنگی ہوگی، سڑکوں راستوں اور بازار کے عمومی مقامات کا یہی حکم ہے،امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللّٰه علیہ کے نزدیک زمین حرم ساری موقوف ہے،اس کے کسی حصہ کا کوئی مالک نہیں۔ (مرقات)امام صاحب کی دلیل یہ آیت ہے" سَوَآءَ ﰳالْعَاكِفُ فِیْهِ وَ الْبَادِؕ "۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2625