Main Icon

باب:رمی جمروں کی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2624

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّمَا جُعِلَ رَمْيُ الْجِمَارِ وَالسَّعْيُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ لِإِقَامَةِ ذِكْرِ اللّٰهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

وعن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إنما جعل رمي الجمار والسعي بين الصفا والمروة لإقامة ذكر الله» . رواه الترمذي والدارمي وقال الترمذي: هذا حديث حسن صحيح

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی کہ حضور نے فرمایا جمروں کی رمی اور صفا مروہ کے درمیان دوڑ،ذکر اللّٰه قائم کرنے کے لیے مقرر کی گئی ہے ۱؎(ترمذی،دارمی) ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن ہے صحیح ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎یعنی رمی اور سعی کے درمیان جو تکبیریں اور دعائیں ہوتی ہیں وہی ان عبادتوں کا مغز ہیں،تو جو شخص یہ کام تو کرے اور ان میں اللّٰه کا ذکر نہ کرے تو اس نے عبادت کا قالب تیار کیا مگر اس میں روح نہ پھینکی یا یہ مطلب ہے کہ یہ کام گزشتہ بزرگوں کی یادگاریں ہیں کہ ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے ان مقامات پر شیطان کے کنکر مارے جب اس نے آپ کو قربانی سے روکنے کی کوشش کی اور آدم علیہ السلام نے بھی جمرہ عقبہ کی جگہ شیطان کو کنکر مارے اسی لیے دسویں بقر عید کو صرف جمرہ عقبہ کی رمی کرتے ہیں اور باقی دو یا تین دن میں تینوں جمروں کی تاکہ دونوں بزرگوں کی یادگاریں قائم رہیں،ایسے ہی صفا مروہ کے درمیان دوڑ حضرت ہاجرہ کی اس دوڑ کی یادگار ہے جو آپ نے تلاش پانی میں کی جس کے بعد حضرت اسمعیل علیہ السلام کی ایڑی سے پانی کا چشمہ پیدا ہوا،آپ خوشی خوشی آئیں اور اس چشمہ کے آس پاس ریت کی دیوار بنادی اور فرماتی تھیںیَا مَاء زَمْ زَمْاے پانی تھم تھم،تو ہر حاجی کو یہ افعال انہی بزرگوں کی نقل میں کر نے چاہئیں کہ اچھوں کی نقل بھی اچھی ہوتی ہے۔(مرقات وا شعہ)ورنہ ان فعلوں کا عبادت ہونا عقل سے وراء ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2624