Main Icon

باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2607

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: جَمَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِجَمْعٍ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا بِإِقَامَةٍ وَلَمْ يُسَبِّحْ بَيْنَهُمَا وَلَا عَلٰى إِثْرِ كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعن ابن عمر قال: جمع النبي صلى الله عليه وسلم المغرب والعشاء بجمع كل واحدة منهما بإقامة ولم يسبح بينهما ولا على إثر كل واحدة منهما. رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے مزدلفہ میں مغرب و عشاء جمع کرکے پڑھیں ۱؎کہ ان میں سے ہر نماز علیحدہ تکبیر سے ادا کی اور نہ ان کے درمیا ن نفل پڑھے اور نہ ان میں سے کسی نماز کے پیچھے ۲؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اس طرح کہ مغرب عشاء کے وقت میں پڑھی کہ وہاں آج مغرب کا وقت یہ ہی ہے،اگر کوئی عرفات میں یا راستہ میں نماز مغرب پڑھ بھی لے گا تو نہ ہوگی کہ اس نے وقت سے پہلے پڑھ لی۔ خیال رہے کہ عرفات شریف میں تو عصر اپنے وقت سے آگے پڑھتے ہیں کہ ظہر کے وقت میں پڑھی جاتی ہے اس لیے وہاں دونوں نمازوں کے لیے تکبیریں بھی دو ہوں گی اور جو حاجی جماعت امام کے ساتھ پڑھے گا وہ ہی جمع صلوتین کرے گا مگر مزدلفہ میں نمازمغرب پیچھے ہٹ گئی کہ عشاء کے وقت میں پڑھی گئی تو خواہ باجماعت نماز پڑھے یا علیحدہ اور خواہ امام کے ساتھ جماعت پڑھے یا اپنی جماعت علیحدہ کرے،بہرحال جمع صلوتین کر ے گا۔خلاصہ یہ ہے کہ عرفات میں دونوں نمازوں کے لیے اذان ایک اور اقامت دو ہوں گی۔
۲
؎یہ مذہب امام زفر کا ہے کہ مزدلفہ میں بھی مغرب و عشاء دو تکبیروں سے پڑھے ان کی دلیل یہ حدیث ہے،باقی آئمہ فرماتے ہیں کہ یہاں اذان بھی ایک ہوگی اور تکبیر بھی ایک،ان کی دلیل وہ احادیث ہیں جو مسلم شریف نے حضرت سعید ابن جبیر سے اور ابن ابی شیبہ نے حضرت جابر سے روایت کیا کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے یہاں ایک اذان ایک اقامت سے دونوں نمازیں پڑھیں وہ احادیث مطابق قیاس ہیں اور یہ حدیث بخاری خلاف قیاس لہذا ان روایات کو ترجیح ہے کیونکہ تکبیر لوگوں کو جمع کرنے کے لیے ہوتی ہے لوگ پہلی اذان و تکبیر پر جمع ہوچکے ہیں اور نماز عشاء کا وقت بھی ہے تو ظاہر ہے کہ بغیر عشاء پڑھے نہ متفرق ہوں گے مگر عرفات میں ظہر اپنے وقت میں ہے اندیشہ ہے کہ لوگ سلام پھیرتے ہی چل دیں گے اس لیے تکبیر فورًا ہی کہہ دی جائے کہ عصر بھی ابھی ہورہی ہے جاؤ مت،بہرحال مذہب آئمہ قوی ہے،امام طحطاوی نے امام زفر کا مذہب اختیار کیا ان دونوں نمازوں کے درمیان یا بعد میں نوافل و سنن وغیرہ ہرگز نہ پڑھے کہ یہ ہی سنت ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2607