Main Icon

باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2614

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَقَالَتْ: أَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُمِّ سَلَمَةَ لَيْلَةَ النَّحْرِ، فَرَمَتِ الْجَمْرَةَ قَبْلَالْفَجْرِ ثُمَّ مَضَتْ فَأَفَاضَتْ وَكَانَ ذٰلِكَ الْيَوْمُ الْيَوْمَ الَّذِي يَكُونَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهَا. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن عائشةقالت: أرسل النبي صلى الله عليه وسلم بأم سلمة ليلة النحر، فرمت الجمرة قبلالفجر ثم مضت فأفاضت وكان ذلك اليوم اليوم الذي يكون رسول الله صلى الله عليه وسلم عندها. رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے حضرت ام سلمہ کو بقر عید کی رات بھیج دیا ۱؎انہوں نے فجر سے پہلے جمرہ کے کنکر مارلیے ۲؎پھر وہ چلی گئیں تو طواف زیارت کرلیا ۳؎یہ دن وہ تھا جس دن میں رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم ان کے پاس قیام فرما ہوتے تھے ۴؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی دسویں بقرعید کی شب مزدلفہ سے منٰی روانہ فرمادیا مع بچوں اور دوسری ازواج کے جیسا کہ پہلے گزر چکا۔
۲
؎ظاہر یہ ہے کہ فجر سے مراد نماز فجر ہے نہ کہ وقت فجر یعنی حضرت ام سلمہ نے پو پھٹنے کے بعد پہلے جمرہ عقبہ کی رمی کی پھر نماز فجر پڑھی لہذا یہ حدیث گزشتہ حدیث کے خلاف نہیں جس میں فرمایا گیا تھا کہ آفتاب نکلنے سے پہلے رمی نہ کرنا کہ وہاں بیان استحباب تھا اور یہاں جواز پر عمل ہے۔ جن بزرگوں نے فرمایا ہے کہ رات میں بھی رمی جائز ہے نصف شب کے بعد یہ حدیث ان کی دلیل نہیں اور نہ حنفیوں کے خلاف،وقت رمی صبح صادق سے شروع ہوتا ہے۔خیال رہے کہ حج کے احکام میں آئندہ راتیں دن میں شمار ہوتی ہیں نہ کہ گزشتہ راتیں،دیکھو نویں تاریخ کے بعد والی شب میں عرفات میں ٹھہر جانے سے حج مل جاتاہے لیکن اس سے پہلی رات میں حج نہیں ملتا،ایسے ہی گیارھویں بقرعید کی شب دسویں میں شمار ہوگی کہ اگر اس میں جمرہ عقبہ کی رمی کی گئی تو ہوجائے گی اگرچہ مکروہ ہوگی مگر دسویں کی شب میں رمی درست ہی نہ ہوگی۔
۳
؎طواف زیارت کا وقت دسویں بقر عید کی صبح سے بارھویں کی مغرب تک ہے مگر دسویں کو کرلینا بہت بہتر ہے۔
۴
؎یعنی حضرت ام سلمہ نے ان کاموں میں جلدی اس لیے کی کہ آج حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کا قیام ان کے ہاں تھا تو آپ نے چاہا کہ ان عبادات سے جلد فارغ ہوجائیں تاکہ حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خدمت اچھی طرح کرسکیں کہ وہ تمام عبادات سے افضل ہے،دیگر ازواج کی چونکہ باری نہ تھی اس لیے انہوں نے دن چڑھے اطمینان سے رمی کی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2614