Main Icon

باب:قرآن کے فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2115

قرآن کے فضائل کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِنَّ اللّٰهَ يَرْفَعُ بِهٰذَا الْكِتَابِ أَقْوَامًا وَيَضَعُ بِهٖ آخَرِيْنَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن عمر بن الخطاب قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إن الله يرفع بهذا الكتاب أقواما ويضع به آخرين". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ااس قرآن کے ذریعہ کچھ قوموں کو سر بلند کرے گا اور کچھ کو گرادے گا ۱؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جو مسلمان قرآن کر یم کو صحیح طرح سمجھیں صحیح طرح عمل کریں تو وہ دنیا و آخرت میں بلند درجے پائیں گے اور جو اس سے غافل رہیں،یا غلط طرح سمجھیں،غلط طور پر عمل کریں وہ دنیا و آخرت میں ذلیل ہوں گے،قرآن کریم سے زندگی و موت طیب ہوتی ہے یہ محبوبین کے لیے ماء( پانی) ہے،اور محجوبین کے لیے دماء (خون) ہے،اب بھی قرآن پاک کے صحیح متبع بڑی عظمت وعزت کے مالک ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"شِفَآءٌ وَّ رَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیۡنَ وَ لَایَزِیۡدُ الظّٰلِمِیۡنَ اِلَّا خَسَارًا"۔حضرت عمر نے ابن ابزی غلام کو مکہ معظمہ کا حاکم بنایا لوگوں نے وجہ پوچھی تو فرمایا کہ یہ اگرچہ غلام ہے مگر قرآن کا ماہر ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2115