Main Icon

باب:قرآن کے فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2163

قرآن کے فضائل کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ خُبَيْبٍ قَالَ: خَرَجْنَا فِيْ لَيْلَةِ مَطَرٍ وَظُلْمَةٍ شَدِيْدَةٍ نَطْلُبُ رَسُوْلَ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَأَدْركْنَاهُ، فَقَالَ: "قُلْ". قُلْتُ: مَا أَقُوْلُ؟ قَالَ: " قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ وَالْمُعَوِّذَتَيْنِ حِيْنَ تُصْبِحُ وَحِيْنَ تُمْسِيْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ تَكْفِيْكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.

وعن عبد الله بن خبيب قال: خرجنا في ليلة مطر وظلمة شديدة نطلب رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فأدركناه، فقال: "قل". قلت: ما أقول؟ قال: " قل هو الله أحد والمعوذتين حين تصبح وحين تمسي ثلاث مرات تكفيك من كل شيء". رواه الترمذي وأبو داود والنسائي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبد اللہ ابن خبیب سے فرماتے ہیں کہ ہم ایک بارشی اور سخت اندھیری رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو ڈھونڈنے نکلے ۱؎تو ہم نے حضور کو پالیا حضور نے فرمایا کہو میں بولا کیا کہوں فرمایا صبح و شام کے وقت"قل ھو الله احد" اور فلق و ناس تین تین بار پڑھ لیا کرو ۲؎یہ تمہیں ہر چیز سے کافی ہوں گی۳؎(ترمذی،ابوداؤد، نسائی)

شرح حدیث

؎یعنی ہم حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ سفر میں تھے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم تو آگے بڑھ گئے ہم لوگ پیچھے رہ گئے تو ہم نے رفتار تیزکردی تاکہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم سے مل جائیں۔چنانچہ ہم اپنے مطلوب ومحبوب تک پہنچ گئے اور اپنے مدعاکو پالیا۔
۲
؎ہمارے سلسلہ میں ایک عمل ہے کہ بعد نماز فجر و مغرب حسب ذیل سورتیں پڑھ لیا کرے سورہ حشر کا آخری رکوع ،اذا زلزلت الارض،قل یاایھاالکفرون،قل ھو اللهاحد، تین بارفلق،ناسہمیشہ اس پر عمل کرےان شاء اللهدنیاوی مصیبتوں سے محفوظ رہے گا اور ایمان پر خاتمہ نصیب ہوگا اور مرتے وقت اپنی جنت کی جگہ خواب میں دیکھ لے گا اور قریب موت اسے خواب میں اطلاع دے دی جائے گی کہ تیرا و قت قریب ہے تیاری کرلے فقیر نے یہ عمل اپنے بزرگوں سے پایا ہے اور بحمدہٖ تعالٰیاس پر عامل ہے اس کے نتائج کی اپنے رب سے امید رکھتاہے اللہ نصیب کرے۔
۳
؎یعنی تجھ سے ہر آفت کے ٹالنے اور ہر مصیبت کو دفع کرنے میں کافی ہوں گی یا تجھے ہر ورد وظیفے سے غنی کردیں گی کہ ان کے ہوتے تجھے دفع ضرر کے لیے اور کوئی وظیفہ کرنا نہ پڑے گا اس دوسرے معنے کی تفسیر وہ حدیث ہے کہ ان سورتوں سے بہتر کوئی تعویذ نہیں یہ بہترین تعویذ و امان ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2163