Main Icon

باب:قرآن کے فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2113

قرآن کے فضائل کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "لَا حَسَدَ إِلَّا على اثْنَيْنِ: رَجُلٌ آتَاهُ اللّٰهُ الْقُرْآنَ فَهُوَ يَقُوْمُ بِهٖ آنَاءَ اللَّيْلِ وآنَاءَ النَّهَارِ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللّٰهُ مَالًا فَهُوَ يُنْفِقُ مِنْهُ آنَاءَ اللَّيْلِ وآنَاءَ النَّهَارِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن ابن عمر قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "لا حسد إلا على اثنين: رجل آتاه الله القرآن فهو يقوم به آناء الليل وآناء النهار، ورجل آتاه الله مالا فهو ينفق منه آناء الليل وآناء النهار". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف دو شخصوں پر غبطہ ہے ۱؎ایک وہ جس کو اللہ تعالٰی نے علم قرآن دیا وہ دن و رات اسے پڑھتا ہو۲؎دوسرا وہ شخص جسے اللہ نے مال دیا وہ دن رات اس سے خیرات کرے۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہاںحسدبمعنی غبطہ،رشک ہے حسد تو کسی پر جائز نہیں نہ دنیا دار پر نہ دین دار پر شیطان کو حضرت آدم علیہ السلام پر حسد ان کی دینی عظمت پر ہوا تھا نہ کہ دنیاوی مال و دولت پر مگر مارا گیا حسد کے معنی ہیں دوسرے کی نعمت پر جلنا اور اس کا زوال چاہنا،رشک کے معنے ہیں دوسرے کی سی نعمت اپنے لیے بھی چاہنا دینی چیزوں میں رشک جائز ہے۔
۲
؎یعنی عالم دین ہو دن رات نمازیں پڑھتا ہو قرآن پر عمل کرتا ہو ہر وقت اس کے مسائل سوچتا ہو،اس میں غور و تامل کرتا ہو،یقوممیں یہ سب کچھ داخل ہے۔مبارک ہے وہ زندگی جو قرآن و حدیث میں تامل و غور کرنے میں گزر جائے اور مبارک ہے وہ موت جو قرآن و حدیث کی خدمت میں آئے اللہ نصیب کرے۔شعر
نکل جائے دم تیرے قدموں کے نیچے یہی دل کی حسرت یہی آرزو ہے
انسان جس شغل میں جئے گا اسی میں مرے گا اور
ان شاء اللهاسی میں اٹھے گا بعض صحابہ کرام قبر میں بھی سورۂ ملک پڑھتے سنے گئے جیسا کہ مشکوۃ شریف میں آئے گا۔
۳
؎چونکہ خفیہ خیرات علانیہ خیرات سے افضل ہے،اس لیے یہاں رات کا ذکر دن سے پہلے ہوا یعنی وہ مالدار خفیہ بھی خیرات کرے اور علانیہ بھی،خیال رہے کہ سنت کی نیت سے اپنے اور اپنے بال بچوں پر خرچ کرنا بھی اسی میں داخل ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2113