Main Icon

باب:قرآن کے فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2166

قرآن کے فضائل کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَالَ: "قِرَاءَةُ الْقُرْآنِ فِي الصَّلَاةِ أَفْضَلُ مِنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِيْ غَيْرِ الصَّلَاةِ، وَقِرَاءَةُ الْقُرْآنِ فِيْ غَيْرِ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ مِنَ التَّسْبِيْحِ وَالتَّكْبِيْرِ،وَالتَّسْبِيْحُ أَفْضَلُ مِنَ الصَّدَقَةِ، وَالصَّدَقَةُ أَفْضَلُ مِنَ الصَّوْمِ، وَالصَّوْمُ جُنَّةٌ مِنَ النَّارِ".

وعن عائشة: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: "قراءة القرآن في الصلاة أفضل من قراءة القرآن في غير الصلاة، وقراءة القرآن في غير الصلاة أفضل من التسبيح والتكبير،والتسبيح أفضل من الصدقة، والصدقة أفضل من الصوم، والصوم جنة من النار".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا نماز میں قرآن پڑھنا بیرون نماز کی تلاوت سے افضل ہے ۱؎اور بیرون نماز قرآن شریف پڑھنا تسبیح و تکبیر پڑھنے سے بہتر ہے ۲؎اور تسبیح پڑھنا،خیرات سے بہتر ہے ۳؎اور خیرات روزے سے افضل ہے ۴؎اور روزہ آگ سے ڈھال ہے ۵؎

شرح حدیث

۱∞؎کیونکہ نماز میں تلاوت سے دو عبادتوں کا اجتماع ہے اور ایک عبادت سے دو افضل ہیں،نیز نماز میں جو یکسوئی ہوتی ہے وہ بیرون نماز میسر نہیں ہوتی،نیز نماز میں جو قرب الٰہی نصیب ہوتاہے وہ بیرون نماز نصیب نہیں ہوتا۔اس سے معلوم ہوا کہ دو عبادتوں کا اجتماع افضل ہے لہذا فاتحہ ختم وغیرہ بہترین چیز ہے کہ ان میں تلاوت و خیرات کا اجتماع ہوتا ہے یعنی یہ دو عبادتوں کامجموعہ ہیں۔
۲
؎کیونکہ تسبیح و تہلیل قرآن کا جزءہیں اور تلاوت میں کل قرآن ہے اور جزء سے کل افضل نیز قرآن میں وظیفہ بھی اور رب تعالٰی کے احکام بھی۔ علماء فرماتے ہیں کہ سجدہ و رکوع و تشہد سے قیام افضل ہے کیونکہ قیام میں تلاوت قرآن ہے ان کی دلیل یہ حدیث ہے۔ شیخ نے فرمایا کہ بیرون نماز تلاوت نماز کی تسبیح و تہلیل سے بھی افضل ہے۔
۳
؎یعنی اس خیرات سے بہتر ہے جو ذکر اللہ سے خالی ہو وجہ ظاہر ہے کہ صدقہ ہے ہمارا کام،تسبیح و تہلیل میں ہے رب کا نام، ہمارے کام سے رب کا نام افضل ہے چاہئیے کہ خیرات کے وقت اللہ کا ذکربھی کیاجائے۔
۴
؎اس وجہ سے کہ صدقہ میں مال راہ خدا میں خرچ کرنا ہے اور روزے میں مال نفس کے لیے روکنا اور بچانا ہے کہ روزہ میں دوپہر کا کھانا بچ جاتا ہے اور مال بچانے سے خرچ کرنا راہ خدا میں بہتر۔بعض صوفیاء فرماتے ہیں کہ روزہ وہ بہتر جس میں بچا ہوا مال خیرا ت کردیا جائے یعنی جب نفلی روزہ رکھے تو دوپہر کا کھانا خیرات کردے تاکہ روزہ خیرات جمع ہو جائیں بلکہ روزہ میں ذکر اللہ زیادہ کرے تاکہ روزہ و تسبیح و تہلیل کا اجتماع نصیب ہو یا یہ وجہ ہے کہ روزہ میں صرف روزہ دار کا نفع ہے اور صدقہ میں دینے والے کا بھی اور فقیر کا بھی بھلا اور لازم عبادت سے متعدی عبادت بہتر ہے۔خیال رہے کہ یہ فضیلت جزوی ہے ورنہکلیۃًروزہ خیرات سے بہتر ہے لہذا یہ حدیث روزہ کے فضائل کی احادیث کے خلاف نہیں۔
۵
؎جب روزہ جوان تمام عبادات میں سے آخر درجہ کی عبادت ہے اس کا یہ فائدہ ہے تو سوچ لو کہ اس سے اوپر والی عبادتوں کا کیا فائدہ ہوگا وہ ہمارے خیال وو ہم سے وراءہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2166