Main Icon

باب:قرآن کے فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2154

قرآن کے فضائل کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: ضَرَبَ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- خِبَاءَهٗ عَلٰى قَبْرٍ، وَهُوَ لَا يَحْسَبُ أَنَّهٗ قَبْرٌ، فَإِذَا فِيْهِ إِنْسَان يَقْرَأُ سُوْرَةَ تَبَارَكَ الَّذِيْ بِيَدِهِ الْمُلْكُ حَتّٰى خَتَمَهَا، فَأَتَى النَّبِيَّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَأَخْبَرَهٗ، فَقَالَ النَّبِيُّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "هِيَ الْمَانِعَةُ، هِيَ الْمُنجِيَةُ تُنْجِيْهِ مِنْ عَذَابِ اللّٰهِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ غَرِيْبٌ.

وعن ابن عباس قال: ضرب بعض أصحاب النبي -صلى الله عليه وسلم- خباءه على قبر، وهو لا يحسب أنه قبر، فإذا فيه إنسان يقرأ سورة تبارك الذي بيده الملك حتى ختمها، فأتى النبي -صلى الله عليه وسلم- فأخبره، فقال النبي -صلى الله عليه وسلم-: "هي المانعة، هي المنجية تنجيه من عذاب الله". رواه الترمذي وقال: هذا حديث غريب.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے کسی صحابی نے ایک قبر پر خیمہ ڈال دیا انہیں خبر نہ تھی کہ یہاں قبر ہے ۱؎پتہ لگا کہ اس میں ایک شخص سورۂتبارك الذی بیدہ الملكپڑھ رہا ہے حتی کہ اس نے ختم کر لی ۲؎وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس واقعہ کی خبر دی۳؎نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا یہ سورۃ روکنے والی ہے۴؎نجات دینے والی ہے جو اللہ کے عذاب سے نجات دے گی ۵؎ترمذی اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎اگر قبر کی خبر ہوتی تو وہاں ہرگز خیمہ نہ ڈالتے کیونکہ قبر پر بیٹھنا لیٹنا،اس پر چلنا پھرنا ممنوع ہے۔
۲
؎مرقات نے یہاں فرمایا کہ بعض مردے قبر میں بھی بعض وہ نیکیاں کرتے رہتے ہیں جو زندگی میں کرتے تھے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے موسیٰ علیہ السلام کو قبر میں نماز پڑھتے دیکھا۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ جس حال میں جیو گے اسی میں مرو گے اور جس حال میں مرو گے اسی میں اٹھو گے،اس لیے کوشش کرو کہ زندگی اچھے اعمال میں گزارو۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ حضرت بلال اذان دیتے ہوئے قبر سے اٹھیں گے،ان کا ماخذ غالبًا ان جیسی روایات ہیںان شاء اللهنعت خواں مسلمان قبر میں بھی حضور انورصلی اللہ علیہ و سلم کی نعت ہی پڑھیں گے۔رب تعالٰی قبول فرمائے ان صحابی کا یہ تلاوت سن لینا ان کی کرامت ہے ورنہ ہم لوگ نہیں سناکرتے۔
۳
؎اورتعجب کا اظہار کیا کہ مردہ بھی تلاوت قرآن کررہا تھا۔
۴
؎یعنی اس سورت کی تلاوت کرنے والے کو زندگی میں گناہوں سے، موت کے وقت خرابی خاتمہ سے، قبر میں عذاب و تنگی گورسے، آخرت میں دہشت و سخت عذاب سے بچاتی ہے۔
۵
؎یعنی عذاب قبروحشر سے بچائے گی۔خلاصہ جواب یہ ہوا کہ یہ شخص اپنی زندگی میں اس سورۃ کی تلاوت کرتا تھا اب قبر میں بھی تلاوت کررہا ہے اور اس سے مذکورہ بالا فائدے حاصل کرچکا ہے اب بھی کر رہا ہے آئندہ بھی کرے گا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2154