Main Icon

باب:قرآن کے فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2129

قرآن کے فضائل کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- بَعَثَ رَجُلًا عَلٰى سَرِيَّةٍ، وَكَانَ يَقْرَأُ لأَصْحَابِهٖ فِيْ صَلَاتِهِمْ فَيَخْتِمُ بِـ قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ فَلَمَّا رَجَعُوْا ذَكَرُوْا ذٰلِكَ لِلنَّبِيِّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-، فَقَالَ: "سَلُوْهُ لِأَيِّ شَيْءٍ يَصْنعُ ذٰلِكَ فَسَأَلُوْهُ، فَقَالَ: لأَنَّهَا صِفَةُ الرَّحْمَنِ، وَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَقْرَأَهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "أَخْبِرُوْهُ أَنَّ اللّٰهَ يُحِبُّهٗ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن عائشة: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- بعث رجلا على سرية، وكان يقرأ لأصحابه في صلاتهم فيختم بـ قل هو الله أحد فلما رجعوا ذكروا ذلك للنبي -صلى الله عليه وسلم-، فقال: "سلوه لأي شيء يصنع ذلك فسألوه، فقال: لأنها صفة الرحمن، وأنا أحب أن أقرأها، فقال النبي -صلى الله عليه وسلم-: "أخبروه أن الله يحبه". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو لشکر کا سردار بنا کر بھیجا وہ اپنے ساتھیوں کی امامت نماز کرتا تھا ۱؎تو ہمیشہ "قُلْ ھُوَاللّٰہُ اَحَدٌ" پر قرأت ختم کرتا تھا۲؎جب صحابہ لوٹے تو یہ ماجرا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا۳؎حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان سے پوچھو ایسا کیوں کرتے تھے۴؎لوگوں ان سے پوچھا وہ بولے اس لیے کہ رحمن کی صفت ہے مجھے اس کا پڑھنا بڑا پسند ہے۵؎تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے خبر دیدو کہ اللہ اس سے محبت کرتاہے ۶؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎کیونکہ امامت کا حق سلطان اسلام یا سردار قوم کو ہے جب کہ وہ علم شریعت رکھتے ہوں،چونکہ یہ اس فوج کے کمانڈر تھے اس لیے ان کے امام بھی رہے۔
۲
؎یعنی ہر نماز کی آخری رکعت میں اور جماعت کی دوسری رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد"قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ"پڑھا کرتے تھے قرأت ختم کرنے کے بعد کے یہ ہی معنے ہیں،یہ مطلب نہیں کہ ہررکعت میں اور سورت پڑھ کر"قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ"پڑھتے تھے کہ یہ تو مکروہ ہے۔
۳
؎یا تو حکایۃً کہا گیا یا شکایۃً کیونکہ صحابہ کرام نماز میں کوئی سورت مقرر نہ کرتے تھے،فرائض میں یہ مکروہ بھی ہے ہاں نوافل میں سورتوں کا تقرر جائز ہے مثلًا کوئی شخص ہمیشہ تہجد میں"قُلْ ھُوَ اللّٰہُ"ہی پڑھا کرے۔ اس سے معلوم ہوا کہ شاگرد کی شکایت استاد سے مرید کی شکایت پیر سے حتی کہ اپنے امام کی شکایت سلطان اسلام سے کرسکتے ہیں یہ غیبت نہیں بلکہ اصلا ح ہے۔
۴
؎محض نماز کو مختصر کرنے کے لیے"قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ"پڑھتے تھے یا اس لیے کہ انہیں دوسری سورتیں کم یاد ہیں یا کسی اور وجہ سے۔ معلوم ہوا کہ فریقین کا بیان لے کر حاکم کو فیصلہ کرنا چاہئیے۔ فتوے اور ہے فیصلہ کچھ اور فتوے صرف ایک فریق کے بیان پر دیا جاسکتا ہے،دیکھو داؤد علیہ السلام نے بکریوں والے فرشتوں میں سے ایک کا بیان سن کر فتوے دے دیا تھا یہ حدیث تعلیم فیصلہ کے لیے ہے۔
۵
؎یعنی مجھے اللہ تعالٰی سے محبت ہے اور عاشق کو اپنے محبوب کا ذکر پیارا ہوتا ہے اور وہ اس کا ذکر اکثر کرتا ہے اس لیے میں بھی نماز میں اکثر یہ سورت پڑھاکرتا ہوں،ورنہ مجھے اور سورتیں بھی یاد ہیں۔
۶
؎یا تو اس سورۃ سے محبت کرنے کی بنا پر یا اللہ تعالٰی سے محبت کرنے کی بناء پر۔اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کریم کی آیات ذات و صفات الٰہی سے محبت کرنا اور اللہ تعالٰی کے محبوب بن جانے کا ذریعہ ہے ایسے ہی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت بلکہ ان کی اطاعت خدا کی محبوبیت کا ذریعہ ہے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ"۔یہ بھی معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سب بندوں کے ایسے حالات سے خبردار ہیں جن کی خود ہمیں بھی خبر نہیں محبوب خدایا مردود بارگاہ ہونا ایک ایسی چھپی ہوئی حالت ہے جو کسی دلیل یا علامت سے معلوم نہیں ہوسکتی مگر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم اس پر بھی خبردار ہیں اس ایک جملہ میں اس کے تقوٰی پر استقامت، ایمان پر خاتمہ،قبر و حشر میں نجات،جنت میں داخلہ،سب کی خبردے دی گئی،ظاہر یہ ہے کہ ان صحابی کو ہمیشہ نماز میں سورہ اخلاص پڑھنے کی اجازت دے دی گئی،یہ اجازت ان کی خصوصیات سے ہے دوسروں کے لیے یہ عمل مکروہ ہے اسی لیے دوسرے صحابہ نے یہ خوشخبری سن کر خود یہ عمل شروع نہ کردیا،لہذا یہ حدیث فقہی مسئلہ کے خلاف نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2129