Main Icon

باب:قرآن کے فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2162

قرآن کے فضائل کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: بَيْنَا أَنَا أَسِيْرُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- بَيْنَ الْجُحْفَةِوَالأَبْوَاءِ إِذْ غَشِيْتنَا رِيْحٌ وَظُلْمَةٌ شَدِيْدَةٌ، فَجَعَلَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يتعَوِّذُ بِـ أَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَ أَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ ، وَيَقُوْلُ: "يَا عُقْبَةُ! تَعَوَّذْ بِهِمَا، فَمَا تَعَوَّذَ مُتَعَوِّذٌ بِمِثْلِهِمَا". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

وعن عقبة بن عامر قال: بينا أنا أسير مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- بين الجحفةوالأبواء إذ غشيتنا ريح وظلمة شديدة، فجعل رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يتعوذ بـ أعوذ برب الفلق و أعوذ برب الناس ، ويقول: "يا عقبة! تعوذ بهما، فما تعوذ متعوذ بمثلهما". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عقبہ ابن عامر سے فرماتے ہیں کہ جب میں رسولصلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ حجفہ اور ابواء کے درمیان سفر کررہا تھا ۱؎کہ اچانک ہمیں آندھی اور سخت تاریکی نے گھیر لیا ۲؎تو رسو لصلی اللہ علیہ و سلمتعوذفرمانے لگےاعوذ برب الفلقسےاعوذ برب الناساور فرمانے لگے اے عقبہ ا ن دونوں سورتوں سےتعوذکیا کرو کہ کسی پناہ لینے والے نے ان جیسی سےتعوذنہ کیا۳؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎حجفہ اور ابواء دونوں مکہ معظمہ و مدینہ منورہ کے درمیا ن دو مقامات ہیں،ابواء تو وہ ہی جگہ ہے جہاں حضرت آمنہ خاتون رضی اللہ تعالی عنہا کی وفات شریف ہوئی،حجفہ شام،مصر اورمغرب والوں کا میقات ہے جہاں سے یہاں کے حجاج احرام باندھتے ہیں اسی جگہ کے متعلق حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے دعا فرمائی تھی کہ خدایا مدینہ کی وبا حجفہ کی طرف منتقل فرمادے چنانچہ وہاں بیماریاں خصوصًا بخار بہت زیادہ ہے حتی کہ اگر پرندہ بھی وہاں سے گزرے تو اسے بھی بخار آجاتا ہے یہ جگہ رابغ کے پاس ہے۔بعض کا خیال ہے کہ اب اسی حجفہ کا نام رابغ ہے،حجفہ اور ابواء کے درمیان بیس میل کا فاصلہ ہے۔(لمعات ومرقات)
۲
؎یعنی کالی آندھی آگئی اور ہم اس میں گھر گئے سفر میں ایسی صورت بہت تکلیف دہ ہوتی ہے۔
۳
؎اس سے معلوم ہوا کہ یہ دونوں سورتیں صرف جادو کے لیے ہی نہیں بلکہ دوسری آفتوں میں بھی کام آتی ہیں اگر ان کا تعویذ لکھ کر ساتھ رکھا جائے تو بھی امان ملتی ہے قرآنی آیات سے تعویذ جائز ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2162