Main Icon

باب:قرآن کے فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2133

قرآن کے فضائل کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ عَنِ النَّبِيِّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَالَ: "ثَلَاثَةٌ تَحْتَ الْعَرْشِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: الْقُرْآنُ يُحَاجُّ الْعِبَادَ،لَهٗ ظَهْرٌ وَبَطْنٌ، وَالأَمَانَةُ، وَالرَّحِمُ تُنَادِيْ: أَلَا مَنْ وَصَلَنِيْ وَصَلَهُ اللّٰهُ، وَمَنْ قَطَعَنِيْ قَطَعَهُ اللّٰه". رَوَاهُ فِيْ "شَرْح السُّنَّةِ"

عن عبد الرحمن بن عوف عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: "ثلاثة تحت العرش يوم القيامة: القرآن يحاج العباد،له ظهر وبطن، والأمانة، والرحم تنادي: ألا من وصلني وصله الله، ومن قطعني قطعه الله". رواه في "شرح السنة"

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدالرحمن بن عوف سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی آپ نے فرمایا کہ قیامت کے دن تین چیزیں عرش کے نیچے ہوں گی ۱؎ایک قرآن کریم جو بندوں کی طرف سے جھگڑے گا ۲؎قرآن کا ایک ظاہر ہے ایک باطن ۳؎دوسری امانت ۴؎تیسری رحم ۵؎جو پکارے گا کہ جس نے مجھے جوڑا اللہ اسے اپنے سے ملائے گا اور جس نے مجھے توڑااسے اپنے سے دور کرے گا ۶؎(شرح سنہ)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ان تین چیزوں کو بہت ہی عزت و قرب الٰہی عطا فرمایاجائے گا کہ خاص عرش اعظم کے نیچےانہیں جگہ دی جائے گی جیسے وزیر کی نشست بادشاہ کے بہت قریب ہوتی ہے۔اور ان کے طفیل ان کے عاملوں کو بھی عزت و قرب نصیب ہوگا، اللہ تعالٰی ان کا اجر ضائع نہ کرے گا۔
۲
؎بندوں سے مراد قرآن کریم کی تلاوت اور اس پر عمل کرنے والے مسلمان ہیں اور جھگڑنے سے مراد جھگڑ جھگڑ کر ان کی شفاعت کرنا ہے،یعنی قرآن شریف اپنے تلاوت کرنے والوں اور اپنے عاملین کی شفاعت رب تعالٰی سے جھگڑ جھگڑ کر کرے گا،یہ جھگڑا مقابلہ کا نہیں بلکہ ناز کا ہوگا۔
۳
؎یعنی قرآن پاک کے بعض معنی ظاہر ہیں جو عام مسلمان سمجھ لیتے ہیں۔بعض مخفی جو واجب التاویل ہیں،جن تک علماء کی رسائی ہے،یا تلاوت قرآن پاک کا ایک ظاہر ہے،یعنی الفاظ کا زبان سے پڑھنا اور ایک باطن یعنی اس میں غور و تدبرکرنا یا شرعی احکام قرآن کا ظاہر ہے اور طریقت کے اسرار اس کا باطن جیسے بدن انسان ہمارا ظاہر ہے اور روح انسان ہمارا باطن۔ مطلب یہ ہے کہ قرآن کی شفاعت بقدرتعلق ہوگی ظاہر قرآن والوں کی شفاعت اور قسم کی کرے گا اور باطن قرآن سے تعلق رکھنے والوں کی شفاعت اور قسم کی کرے گا۔
۴
؎امانت سے مراد خلق و خالق کے حقوق ہیں جو ہمارے ذمہ واجب الادا ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَۃَ عَلَی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ"الخ۔یہاں امانت کے یہ معنے بھی کئے گئے ہیں یا امانت سے مراد عشق الٰہی اور عشق رسول ہے کہ قرآن کو عشق سے بہت تعلق ہے۔
۵
؎رحم سے مراد انسانوں کے آپس کے قرابت داریاں ہیں چونکہ ان قرابت داریوں کا تعلق عورت کے رحم سے ہے ا س لیے ان قرابتوں کو رحم فرمایا جاتا ہے چونکہ اہل قرابت کے حقو ق ادا کر نا بہت ضروری ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰی حَقَّہٗ"۔الخ اس لیے یہ بھی وہاں ہوگا۔خیال رہے کہ دنیا کے اعراض کل قیامت میں جواہر ہوں گے ان اعمال کی شکل و صورت ہوگی،یہ بات بھی کریں گے جیسے یہاں خواب میں اعراض اجسام نظر آتے ہیں۔
۶
؎یعنی دنیا میں جس نے اپنے اہل قرابت کے حقوق ادا کئے تھے آج اسے قرب الٰہی اور رحمت الٰہی نصیب ہوں گے اور جس نے دنیا میں اپنے اہل قرابت کے حقوق ادا نہ کئے ان سے تعلق نہ رکھا،آج وہ خدا کی رحمت سے محروم رہے گا رحم کا یہ پکارنا رب تعالٰی کے حکم سے ہوگا جیسے حکام کے چپڑاسی کچہری کے دروازے پراعلانات کرتے ہیں۔خیال رہے کہ بندے پرتین قسم کے حق ہیں: اللہ تعالٰی کے عام انسانوں کے اور خاص قرابت والوں کے قرآن پاک کا تعلق حقوق اللہ سے ہے،امانت کا تعلق عام لوگوں سے اور رحم کا تعلق اپنے عزیزوں و قرابت داروں سے اس لیے یہ تین ہی عرش اعظم کے نیچے ہوں گے کامیاب بندہ وہ ہے جو ان سب حقوق کو ادا کرکے جائے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2133