Main Icon

باب:قرآن کے فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2169

قرآن کے فضائل کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَيْفَعَ بْنِ عَبْدٍ الْكَلَاعِيِّ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ ! أَيُّ سُوْرَةِ الْقُرْآنِ أَعْظَمُ؟ قَالَ: " قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ "، قَالَ: فَأَيُّ آيَةٍ فِي الْقُرْآنِ أَعْظَمُ؟ قَالَ: "آيَةُ الْكُرْسِيِّ اللّٰهُ لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّوْمُ "، قَالَ: فَأَيُّ آيَةٍ يَا نَبِيَّ اللّٰهِ تُحِبُّ أَنْ تُصِيْبَكَ وَأُمَّتَكَ؟ قَالَ: "خَاتِمَةُ سُوْرَةِ الْبقَرَةِ، فَإِنَّهَا مِنْ خَزَائِنِ رَحْمَةِ اللّٰهِ تَعَالٰى مِنْ تَحْتِ عَرْشِهٖ ، أَعْطَاهَا هٰذِهِ الأُمَّةَ، لَمْ تَتْرُكْ خَيْرًا مِنْ خَيْرِ الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ إِلَّا اشْتَمَلَتْ عَلَيْهِ"رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ.

وعن أيفع بن عبد الكلاعي قال: قال رجل: يا رسول الله ! أي سورة القرآن أعظم؟ قال: " قل هو الله أحد "، قال: فأي آية في القرآن أعظم؟ قال: "آية الكرسي الله لا إله إلا هو الحي القيوم "، قال: فأي آية يا نبي الله تحب أن تصيبك وأمتك؟ قال: "خاتمة سورة البقرة، فإنها من خزائن رحمة الله تعالى من تحت عرشه ، أعطاها هذه الأمة، لم تترك خيرا من خير الدنيا والآخرة إلا اشتملت عليه"رواه الدارمي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ایفع ابن عبدالکلاعی سے ۱؎فرماتے ہیں ایک شخص نے عرض کیا یارسول اللہ قرآن کریم کی کون سی سورۃ بہت بڑی ہے فرمایا "قل ھو الله احد" ۲؎عرض کیا پھر قرآن کریم کی کون سی آیت بہت بڑی ہے۳؎فرمایا آیۃ الکرسی،یعنی "الله لا الہ الا ھو الحی القیوم" ۴؎عرض کیا یا نبی اللہ کس آیت کے متعلق آپ چاہتے ہیں کہ اس کی برکت آپ کو اور آپ کی امت کو پہنچے ۵؎فرمایا سورہ بقر کی آخری آیات ۶؎کہ وہ اللہ تعالٰی کی رحمت کے عرشی خزانے ہیں جو اللہ نے اس امت کو بخشے ان آیتوں نے دنیاو آخرت کی کوئی بھلائی ایسی نہ چھوڑی جو اپنے میں لے نہ لی ہو ۷؎(دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام ایفع ابن ناکور کلاعی ہےذوالکلاعیمن کا مشہور قبیلہ ہے،شیخ نے فرمایا کہ آپ صحابی ہیں مگر مرقات نے فرمایا کہ آپ تابعی ہیں کیونکہ آپ یمن سے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے دیدار کے لیے رو انہ ہوئے،راستہ میں تھے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات ہوگئی۔
۲
؎کیونکہ اس سورت میں رب تعالٰی کی توحید کا نہایت جامع اور مکمل بیان ہے اور کلام کی عظمت اس کے مضمون کی عظمت سے ہوتی ہے لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں ارشاد ہوا کہ سورۂ فاتحہ بڑی اعظم سورۃ ہے کہ وہاں اعظمیت اور لحاظ سے ہے کہ وہ بہت سے مضامین کی جامع ہے اور یہاں اعظمیت دوسری حیثیث سے ہے غالبًا یہاں سوال بھی اسی اعظمیت کا تھا لہذا جواب سوال کے مطابق ہے۔
۳
؎جس میں رب کی ذات و صفات کا مکمل و جامع بیان ہو،پہلے سورۃ کے متعلق سوال تھا اب آیت کے متعلق سوال ہے۔
۴
؎آخر آیت "وَھُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیۡمُ" تک آیۃ الکرسی بہت ہی نافع آیت ہے اس کے فضائل حدوعد سے باہر ہیں۔
۵
؎یہاں برکت سے مراد دائمی ثواب و فائدہ ہے جو کبھی ختم نہ ہو برکتبرکسے بنا بمعنی بیٹھ جانا نہ ہٹنا۔
۶
؎"اٰمَنَ الرَّسُوۡلُ"سے آخر تک اور بہتر یہ ہے کہ"لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ"سے آخر تک پڑھا کرے ان خزانوں کا نزول عرش سے ہوا اور اس امت کے سواءکسی امت کو اس جیسی عظیم الشان نعمت نہ ملی۔
۷
؎کیونکہ اس آیت میں اللہ تعالٰی کی توحید ملکیت عامہ غفاری،ستاری وغیرہ صفات کا بھی اعلیٰ بیان ہے اور جامع دعائیں بھی ہیں او ر رب تعالٰی کو بندے کا مانگنا بہت محبوب ہے یہ آیت عمومًا اور تہجد کی نماز میں خصوصًا پڑھنا چاہئیے اس کے بڑے فائدے دیکھے گئے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2169