Main Icon

باب:قرآن کے فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2155

قرآن کے فضائل کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- كَانَ لَا يَنَامُ حَتّٰى يَقْرَأَ: الم تَنْزِيْلُ و تَبَارَكَ الَّذِيْ بِيَدِهِ الْمُلْكُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ. وَكَذَا فِيْ "شَرْحِ السُّنَّةِ". وَفِي "الْمَصَابِيْح": غَرِيْبٌ.

وعن جابر أن النبي -صلى الله عليه وسلم- كان لا ينام حتى يقرأ: الم تنزيل و تبارك الذي بيده الملك . رواه أحمد والترمذي والدارمي. وقال الترمذي: هذا حديث صحيح. وكذا في "شرح السنة". وفي "المصابيح": غريب.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نہ سوتے حتی کہ پڑھ لیتےالم تنزیلاورتبارك الذی بیدہ الملك۱؎(احمد،ترمذی،دارمی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث صحیح ہے یوں ہی شرح سنہ میں ہے اور مصابیح میں ہے کہ غریب ہے۲؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم بعد نماز عشاء اور سونے سے پہلے یہ دونوں سورتیں ہمیشہ پڑھا کرتے تھے،خواہ مسجد ہی میں یا بستر پر پہنچ کر۔معلوم ہوا کہ شب کو یہ سورتیں پڑھنا سنت ہے اوراس میں بہت فوائد ہیں۔
۲
؎خیال رہے کہ حدیث کی غرابت اس کے صحیح ہونے کے مخالف نہیں ایک ہی حدیث صحیح بھی ہوتی ہے غریب بھی لہذا ترمذی کا اسے صحیح کہنا اور مصابیح کا غریب فرمانا دونوں درست ہیں،یہ حدیث نسائی ابن ابی شیبہ اور حاکم نے بھی حضرت جابر سے روایت کی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2155