Main Icon

باب:کتے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4099

شکار اور ذبیحوں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنِ اتَّخَذَ كَلْبًا إِلَّا كَلْبَ مَاشِيَةٍ أَوْ صَيْدٍ أَوْ زَرْعٍ، انْتَقَصَ مِنْ أَجْرِهٖ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من اتخذ كلبا إلا كلب ماشية أو صيد أو زرع، انتقص من أجره كل يوم قيراط". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جس نے جانوروں یا شکار یا کھیتی باڑی کے کتوں کے سواء اور کوئی کتا پالا تو اس کے ثواب سے روزانہ ایک قیراط کم ہوگا ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اس حدیث میں کھیتی باڑی کے کتے کا اضافہ ہے یعنی کھیت کی حفاظت کے لیے کتا پالنا بھی جائز ہے اسی طرح باغ کی حفاظت بھی ہے اور گھر کی حفاظت بھی۔خیال رہے کہ مکہ معظمہ مدینہ منورہ میں بلاضرورت کتے پالنے پر دو قیراط کی کمی ہوگی اورکسی جگہ ایک قیراط کی،یا گاؤ ں و جنگلوں میں کتے پالنے پر ایک قیراط کی کمی ہے شہر میں دو قیراط کی کہ کتے سے زیادہ تکلیف شہر میں ہوتی ہے،یا اولًا دو قیراط کی کمی کا قانون تھا پھر احکام نرم ہونے پر ایک قیراط کی کمی رہ گئی،غرضیکہ یہ حدیث گزشتہ دو قیراط والی حدیث کے خلاف نہیں۔(مرقات)مگر اشعۃ اللمعات نے فرمایا کہاقتناءاور ہےاتخاذکچھ اور،اقتناءمیں دو قیراط کم ہوں گےاتخاذمیں ایک قیراط،محبت سے کتا پالنا اسے اپنے ساتھ بٹھانا ساتھ کھلانااقتناءہے مگر اسے پالنا اس سے محبت نہ کرنا اس سے علیٰحدہ رہنااتخاذہے لہذا احادیث متعارض نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4099