Main Icon

باب :التحیات میں دعا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 947

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ الْبَرَاءِ قَالَ: كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ رسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْبَبْنَا أَنْ نَكُونَ عَنْ يَمِينِهٖ يُقْبِلُ عَلَيْنَا بِوَجْهِهٖ قَالَ: فَسَمِعْتُهٗ يَقُولُ: «رَبِّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ أَو تَجْمَعُ عِبَادَكَ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن البراء قال: كنا إذا صلينا خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم أحببنا أن نكون عن يمينه يقبل علينا بوجهه قال: فسمعته يقول: «رب قني عذابك يوم تبعث أو تجمع عبادك» . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت براء سے فرماتے ہیں کہ ہم جب رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تو آپ کی دائیں جانب ہونا پسند کرتے تھے تاکہ آپ ہم پر اپنے چہرے سے متوجہ ہوں ۱؎فرماتے ہیں کہ میں نے آپ کو یہ کہتے سنایارب مجھے عذاب سے بچا جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھائے گا یا جمع کرے گا ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ حضور علیہ السلام اکثر داہنی جانب منہ کر کے دعا مانگتے تھے۔ دوسرے یہ کہ حضور کا چہرہ پاک دیکھنا بہترین عبادت ہے کہ صحابہ کرام محض اس لیے صف کی داہنی جانب پسند کرتے تھے تاکہ بعد نماز دیداریار نصیب ہو، علماء فرماتے ہیں کہ مسجد نبوی شریف میں صف کا بایاں حصہ افضل ہے کیونکہ روضہ اطہر سے قریب ہے یہ باتیں وہ جانے جسے اس محبوب سے دلی لگاؤ ہو۔
۲
؎یہ دعا امت کی تعلیم کے لیے، ورنہ ہم جیسے گنہگاراِنْ شَاءَاللّٰهُحضور علیہ السلام کی برکت سے عذاب سے نجات پائیں گے حضور علیہ السلام کو عذاب سے کیا تعلق۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 947