Main Icon

باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3100

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "لَا يَنْظُرُ الرَّجُلُ إِلَى عَوْرَةِ الرَّجُلِ، وَلَا الْمَرْأَةُ إِلَى عَوْرَةِ الْمَرْأَةِ،وَلَا يُفْضِي الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، وَلَا تُفْضِي الْمَرْأَةُ إِلَى الْمَرْأَةِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن أبي سعيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "لا ينظر الرجل إلى عورة الرجل، ولا المرأة إلى عورة المرأة،ولا يفضي الرجل إلى الرجل في ثوب واحد، ولا تفضي المرأة إلى المرأة في ثوب واحد". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو سعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے نہ کوئی مرد کسی مرد کا ستر دیکھے نہ عورت کسی عورت کا ستر ۱؎اور نہ مرد دوسرے مرد سے ایک کپڑے میں اختلاط کرے اور نہ عورت کسی عورت سے ایک کپڑے میں اختلاط کرے ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎ناف سے گھٹنے تک کے اعضاء مطلقًا چھپانا واجب ہیں کہ نہ مرد مرد کے یہ اعضاء دیکھے نہ عورت عورت کے لیکن عورت مرد اجنبی کے لیے سر سے پاؤں تک لائق پردہ ہے اور نماز کے لیے عورت سر سے پاؤں تک جسم ڈھکے سوائے چہرہ کلائیوں تک ہاتھ اور ٹخنے کے نیچے پاؤں کے۔فقہاء فرماتے ہیں کہ بے داڑھی مونچھ کا امرد لڑکا بھی بعض احکام میں عورت کی طرح ہے کہ اس کو دیکھنے سے بھی احتیاط کرے۔(اشعہ)ضر ورتًا شرعیت کے احکام جداگانہ ہیں کہ بچہ جنتے وقت دایہ ستر دیکھتی ہے،یوں ہی بعض صورتوں میں مرد کو ننگا کرنا پڑتا ہے۔محرم مرد اپنی محرمہ عورت کا چہرہ ہاتھ پاؤں سر دیکھ سکتا ہے،خاوند بیوی کا آپس میں کوئی پردہ نہیں،اس سے کسی عضو کا چھپانا واجب نہیں،ہاں شرمگاہ کا دیکھنا بینائی ضعیف کرتا ہے ماں باپ اپنے جوان بیٹے بیٹی کو چوم سکتے ہیں،سونگھ سکتے ہیں یوں ہی جوان لڑکا،لڑکی اپنے ماں باپ کو چوم سکتا ہے دیکھنے و چھونے کے مکمل احکام شامی عالمگیری وغیرہباب اللمس و النظرمیں دیکھئے۔
۲
؎یعنی مرد مرد کے ساتھ یوں ہی عورت عورت کے ساتھ ننگے نہ لیٹیں کہ یہ حرام بھی ہے اور بے غیرتی بھی لہذا دو ننگے مرد ایک چادر اوڑھ کر نہ سوئیں،یوں ہی دو ننگی عورتیںسبحان اﷲ!کیسی پاکیزہ تعلیم ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3100