Main Icon

باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3101

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُول اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "أَلَا لَا يَبِيتَنَّ رَجُلٌ عِنْدَ امْرَأَةٍ ثَيِّبٍ إِلَّا أَنْ يَكُونَ نَاكِحًا أَو ذَا مَحْرَمٍ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن جابر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "ألا لا يبيتن رجل عند امرأة ثيب إلا أن يكون ناكحا أو ذا محرم". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے خبردار کوئی مرد کسی شادی شدہ عورت کے پاس رات نہ گزارے ۱؎مگر یہ کہ اس کا خاوندہو یا محرم رشتہ دار(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جس عورت سے نکاح درست ہے اس کے ساتھ رات میں اکیلے رہنا حرام ہے،شادی شدہ کی قید اس لیے ہے کہ کنواری لڑکی عمومًا شرمیلی ہوتی ہے وہ خود ہی کسی کے ساتھ نہیں اٹھتی بیٹھتی،شادی شدہ بے باک بھی ہوتی ہے،بے خوف بھی کہ اس کا زنا چھپ سکتا ہے کہ اگر اولاد ہوجائے تو لوگ سمجھیں گے اس کے خاوند کی ہے رات گزارنے کی قید اس لیے لگائی گئی کہ رات کی تنہائی بمقابلہ دن کی خلوت کے زیادہ خطرناک ہے ورنہ مطلقًا خلوت اجنبیہ سے حرام ہے۔
۲
؎محرم وہ مرد ہے جس کا نکاح اس عو رت سے ہمیشہ کے لیے حرام ہے،محرم دو قسم کے ہیں: ایک وہ جو ذی رحم بھی ہو،جیسے باپ بیٹا بھائی وغیرہ دوسرے وہ جو ذی رحم نہ ہو،جیسے رضاعی بھائی اور داماد۔خیال رہے کہ بہنوئی اس حکم سے خارج ہے کہ اس سے نکاح اگرچہ حرام ہے مگر دائمی حرام نہیں بہن کی طلاق یا وفات کے بعد حلال ہے لہذا سالی بہنوئی سے پردہ کرے ،بلکہ جوان ساس بھی جوان داماد سے خلوت کرنے میں احتیاط رکھے یوں ہی جوان سسر اپنی جوان بہو کے ساتھ خلوت کرنے میں احتیاط رکھے۔اگرچہ ان کے لیے خلوت درست ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3101