Main Icon

باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3120

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى فَاطِمَةَ بِعَبْدٍ قَدْ وَهَبَهُ لَهَا، وَعَلَى فَاطِمَةَ ثَوْبٌ إِذَا قنَعَتْ بِهِ رَأْسَهَا لَمْ يَبْلُغْ رِجْلَيْهَا، وَإِذَا غَطَّتْ بِهِ رِجْلَيْهَا لَمْ يَبْلُغْ رَأْسَهَا، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا تَلْقَى قَالَ: "إِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكِ بَأْسٌ إِنَّمَا هُوَ أَبُوكِ وَغُلَامُكِ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

وعن أنس: أن النبي صلى الله عليه وسلم أتى فاطمة بعبد قد وهبه لها، وعلى فاطمة ثوب إذا قنعت به رأسها لم يبلغ رجليها، وإذا غطت به رجليها لم يبلغ رأسها، فلما رأى رسول الله صلى الله عليه وسلم ما تلقى قال: "إنه ليس عليك بأس إنما هو أبوك وغلامك". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم جناب فاطمہ کے پاس ایسے غلام کے ساتھ تشریف لائے جو آپ انہیں بخش چکے تھے ۱؎اور جناب فاطمہ پر ایسا کپڑا تھا کہ جب اس سے سر ڈھکتیں تو پاؤں تک نہ پہنچتااور جب اس سے اپنے پاؤں ڈھانپتیں تو آپ کے سر تک نہ پہنچتا اور ۲؎جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے وہ دشواری دیکھی جو آپ پارہی تھیں تو فرمایا کہ تم پر کوئی حرج نہیں یہ آنے والے تمہارے والد ہیں اور تمہارے غلام ۳؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎بِعَبْدٍکی ب مصاحبت کی ہے بمعنی ساتھ،اس غلام کا نام معلوم نہ ہوسکا،حضور نے یہ غلام حضرت فاطمہ کو پہلے ہی دیا تھا،آج دینے کے لیے تشریف نہ لائے تھے جیسا کہوَھَبَہٗماضی سے معلوم ہوا۔
۲
؎یعنی اس وقت آپ کے پاس صرف دوپٹہ یا چادر تھی وہ بھی اتنی چھوٹی جو بیک وقت سرو پاؤں نہیں چھپا سکتی۔
۳
؎معلوم ہوتا ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم مع اس غلام کے دروازے پر کھڑے تھے داخلہ کی اجازت مانگی جواب میں دیر ہوئی تب تحقیق فرمانے پر جناب فاطمہ کا یہ تکلف معلوم ہوا تب یہ فرمایا۔فرمان عالی کا خلاصہ یہ ہے کہ ہم تمہارے والد ہیں اور یہ دوسرا تمہارا مملوک غلام ان دونوں سے تمہارا پردہ نہیں سر کھلا رہنے دو اور ہم کو آنے کی اجازت د ے دو۔اس حدیث کی بنا پر امام شافعی فرماتے ہیں کہ جیسے مولیٰ سے لونڈی پر پردہ لازم نہیں ایسے ہی مملوک غلام سے مالکہ پر پردہ واجب نہیں مگر امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک بالغ خادم اپنی مالکہ کیلیے اجنبی مرد کی طرح ہے کہ اس سے پردہ واجب ہے،اگرچہ غلام خصی ہی ہو،امام شافعی کا یہ استدلال کچھ ضعیف سا ہے کیونکہ یہ غلام نابالغ اور غیر محل شہوت تھا،عربی میں غلام نابالغ بچے کو کہتے ہیں،جس پر قرآن مجید و احادیث و لغت کی کتب گواہ ہیں۔خیال رہے کہ نابالغ اور اپنے محرم غلام سے پردہ نہیں اور آیت"مَا مَلَکَتْ اَیۡمٰنُہُمْ"میں امام اعظم رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے ہاں لونڈیاں مراد ہیں۔(از مرقات و اشعہ)خیال رہے کہ امام اعظم کے ہاں بالغ غلام اپنی مولاۃ مالکہ کے لیے اجنبی مرد کی طرح ہے کہ اس کا چہرہ ہاتھ پاؤں ضرورۃً دیکھ سکتا ہے،مگر امام شافعی کے ہاں محرم کی طرح ہے کہ اس کا سر بازو پنڈلی بھی دیکھ سکتا ہے یہاں حضرت فاطمہ کے سر شریف کا ذکر ہے اس لیے وہ اس سے دلیل پکڑتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3120