Main Icon

باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3111

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهٖ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا زَوَّجَ أَحَدُكُمْ عَبْدَهُ أَمَتَهُ فَلَا يَنْظُرَنَّ إِلَى عَوْرَتِهَا"، وَفِي رِوَايَةٍ: "فَلَا يَنْظُرَنَّ إِلَى مَا دُونَ السُّرَّةِ وَفَوْقَ الرُّكْبَةِ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "إذا زوج أحدكم عبده أمته فلا ينظرن إلى عورتها"، وفي رواية: "فلا ينظرن إلى ما دون السرة وفوق الركبة". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمرو بن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں کہ جب تم میں سے کوئی اپنے غلام کا نکاح اپنی لونڈی سے کردے تو اس کا ستر ہر گز نہ دیکھے ۱؎اور ایک روایت میں ہے کہ ناف کے نیچے اور گھٹنے کے اوپر ہر گز نہ دیکھے ۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی لونڈی کا ستر مولا دیکھ سکتا ہے چھو بھی سکتا ہے مگر جب کہ اس کا نکاح کسی سے کردے اگرچہ اپنے غلام سے ہی کردے تب ستر چھونا تو کیا دیکھ بھی نہیں سکتا کہ اب یہ لونڈی اس بارے میں اس کے لیے اجنبی ہوگئی،اس سے صحبت بھی حرام ہوگئی اور صحبت کے لوازمات بھی۔
۲
؎یہ جملہ پہلے جملہ کی تفسیر ہے یعنی ایسی لونڈی کے دیکھنے سے جو منع فرمایا گیا اس سے مراد ستر دیکھنا ہے،چہرہ ہاتھ پاؤں تو اب بھی دیکھ سکتا ہے،کیونکہ اب بھی مولیٰ کو اس سے خدمت لینے کا تو حق ہے اور خدمت میں یہ اعضاء ضرور دیکھنے پڑ جاتے ہیں۔اس جملہ سے معلوم ہوا کہ لونڈی کا ستر مرد کی طرح ہے یعنی ناف سے گھٹنے تک،آزاد عورت کا تمام جسم ستر ہے سوا چہرے کلائیوں تک ہاتھ اور ٹخنے سے نیچے پاؤں کے فقہاء کا یہ حکم اسی حدیث سے ماخوذ ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3111