Main Icon

باب :وقتوں کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 582

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَن بُرَيْدَةَ قَالَ: إِنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُوْلَ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ فَقَالَ لَهٗ: "صَلِّ مَعَنَا هٰذَيْنِ" يَعْنِي الْيَوْمَيْنِ، فَلَمَّا زَالَتِ الشَّمْسُ أَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الظُّهْرَ، ثُمَّ أَمَرَهٗ فَأَقَامَ الْعَصْرَ، وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ بَيْضَاءُ نَقِيَّةٌ، ثُمَّ أَمَرَهٗ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ حِيْنَ غَابَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ أَمَرَهٗ فَأَقَامَ الْعِشَاءَ حِيْنَ غَابَ الشَّفَقُ، ثُمَّ أَمَرَهٗ فَأَقَامَ الْفَجْرَ حِيْنَ طَلَعَ الْفَجْرُ، فَلَمَّا أَنْ كَانَ الْيَوْمُ الثَّانِيْ أَمَرَهٗ"فَأَبْرِدْ بِالظُّهْرِ" فَأَبْرَدَ بِهَا، فَأَنْعَمَ أَنْ يُبْرِدَ بِهَا، وَصَلَّى الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ أَخَّرَهَا فَوْقَ الَّذِيْ كَانَ، وَصَلَّى الْمَغْرِبَ قَبْلَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ، وَصَلَّى الْعِشَاءَ بَعْدَ مَا ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ،وَصَلَّى الْفَجْرَ فَأَسْفَرَ بِهَا، ثُمَّ قَالَ: "أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ؟ "، فَقَالَ الرَّجُلُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللّٰهِ! قَالَ: "وَقْتُ صَلَاتِكُمْ بَيْنَ مَا رَأَيْتُمْ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن بريدة قال: إن رجلا سأل رسول الله -صلى الله عليه وسلم- عن وقت الصلاة فقال له: "صل معنا هذين" يعني اليومين، فلما زالت الشمس أمر بلالا فأذن، ثم أمره فأقام الظهر، ثم أمره فأقام العصر، والشمس مرتفعة بيضاء نقية، ثم أمره فأقام المغرب حين غابت الشمس، ثم أمره فأقام العشاء حين غاب الشفق، ثم أمره فأقام الفجر حين طلع الفجر، فلما أن كان اليوم الثاني أمره"فأبرد بالظهر" فأبرد بها، فأنعم أن يبرد بها، وصلى العصر والشمس مرتفعة أخرها فوق الذي كان، وصلى المغرب قبل أن يغيب الشفق، وصلى العشاء بعد ما ذهب ثلث الليل،وصلى الفجر فأسفر بها، ثم قال: "أين السائل عن وقت الصلاة؟ "، فقال الرجل: أنا يا رسول الله! قال: "وقت صلاتكم بين ما رأيتم". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت بریدہ ۱؎سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کے اوقات کے بارے میں پوچھا توفرمایا تم ہمارے ساتھ ان دو دنوں میں نماز پڑھو ۲؎تو جب سورج ڈھل گیا حضرت بلال کوحکم دیا اورانہوں نے اذان کہی پھرحکم دیا انہوں نے ظہرکی تکبیرکہی ۳؎پھرانہیں حکم دیا تو عصرکی تکبیرکہی جب کہ سورج بلند سفید صاف تھا ۴؎پھر انہیں حکم دیا تو مغرب کی تکبیرکہی ۵؎جب سورج چھپ گیا پھر انہیں حکم دیا توعشاءکی تکبیرکہی جب شفق غائب ہوگئی پھر انہیں حکم دیا تو فجر کی تکبیر کہی جب کہ صبح چمکی پھر جب دوسرا دن ہوا تو انہیں حکم دیاظہرکوٹھنڈاکیابلکہ اسے خوب ٹھنڈا کیا ۶؎اورعصرجب پڑھی کہ آفتاب اونچاتھا اس سے زیادہ دیرلگائی جو کل تھا ۷؎اورمغرب پڑھی شفق غائب ہونے سے پہلے ۸؎اورعشاءپڑھی تہائی رات گزرنے کے بعداورفجرپڑھی خوب اجالا ہونے پرپھرفرمایا کہاں ہے نماز کے اوقات پوچھنے والا وہ شخص بولا میں ہوں یارسول اللہ تو فرمایا کہ تمہارے نماز کے اوقات اس کے درمیان ہیں جو تم نے دیکھا ۹؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام بریدہ ابن حصیب ہے،بنی اسلم قبیلہ سے ہیں،سواءبدرتمام غزوات میں حضور کے ساتھ رہے،خراسان میں غازیانہ شان سے گئے،مَرْومیں وفات پائی،وہاں ہی آپ کی اولاد اب تک ہے۔(مرقات)
۲
؎تاکہ تمہیں ہرنمازکے وقت کی ابتداءوانتہامعلوم ہوجائے۔پتا لگا کہ عملی تبلیغ قولی تبلیغ سے زیادہ مفیدہے۔غالبًا یہ صاحب کہیں باہرکے ہوں گے،ورنہ صحابۂ کرام تو ہرنمازحضور انور کے ساتھ ہی پڑھاکرتے تھے۔
۳
؎یعنی سورج ڈھلتے ہی بغیرتوقف ظہر کی اذان کہلوائی پھرسنتوں کا وقت دے کرتکبیر کا حکم دیالہذا اس حدیث سے یہ لازم نہیں آتا کہ اذان کے بعد فورًا تکبیرہوئی،سواءمغرب باقی تمام نمازوں میں اذان وتکبیرمیں فاصلہ چاہئے اس لئے یہاںثُمَّفرمایا گیا۔معلوم ہوا کہ تکبیر اذان سے کچھ بعدہوئی۔
۴
؎یعنی عصر کے وقت آتے ہی عصر کی اذان کہلوائی دو مثل سایہ ہوجانے پر،جیسا اگلے باب میںان شاء اللّٰهبیان کیا جائے گا۔سورج کے صاف اورروشن ہونے سے یہ لازم نہیں کہ ایک مثل سایہ پر اذان ہوئی،دومثل پربھی سورج صاف ہوتا ہے۔
۵
؎یعنی مغرب کی اذان کہتے ہی تکبیرکہی چونکہ یہ اذان وتکبیرملی ہوئی تھیں اس لئے صرف تکبیر کا ذکر ہوا۔
۶
؎یعنی ظہرآخروقت ادا کی جب گرمی بالکل جاتی رہی وقت خوب ٹھنڈا ہوگیا۔غالبًا یہ گرمی کاموسم تھا ورنہ سردی میں تو ہر وقت ٹھنڈک رہتی ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ آج ظہر ایک مثل سایہ کے بہت بعد پڑھی ورنہ ایک مثل سایہ تک سخت گرمی رہتی ہے،لہذا یہ حدیث امام اعظم کی دلیل ہوسکتی ہے۔
۷
؎یہاں بھی وقت مستحب کا ذکر ہے اگرچہ وقت عصرآفتاب غروب تک رہتا ہے مگر حضور نے سورج زرد پڑنے سے پہلے آج عصر پڑھی کراہت سے بچنے کے لئے۔
۸
؎اس سے معلوم ہوا کہ وقت مغرب سورج ڈوبنے سے شروع ہوکرشفق غائب ہونے تک رہتاہے،یہ ہی قول ہمارے امام اعظم کا ہے۔امام شافعی و مالک علیہما الرحمۃ کے نزدیک وقت مغرب ادائے مغرب کی بقدر ہے،یہ حدیث ہمارے امام کی قوی دلیل ہے رضی اللہ عنہ۔
۹
؎پہلے عرض کیاجاچکا ہے کہ یہاں بعض نمازوں کے مستحب وقتوں کا ذکر ہے۔اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ وقت مستحب کی ابتداءوانتہایہ ہے،لہذا حدیث پر کوئی اعتراض نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 582