- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 5
- جہاد کا بیان
- حدیث نمبر 3929
باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3929
جہاد کا بیان - جلد 5
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ سُلَيْمَانَ اِبْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَمَّرَ أَمِيرًا عَلٰى جَيْشٍ أَوْ سَرِيَّةٍ أَوْصَاهُ فِي خَاصَّتِهٖ بِتَقْوَى اللّٰهِ، وَمَنْ مَعَهٗ مِنَ الْمُسْلِمِينَ خَيْرًا،ثُمَّ قَالَ: "اغْزُوَا بِسْمِ اللّٰهِ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ قَاتِلُوْا مَنْ كَفَرَ بِاللّٰهِ اغْزُوَا فَلَا تَغُلُّوْا، وَلَا تَغْدِرُوْا، وَلَا تَمْثُلُوْا، وَلَا تَقْتُلُوْا وَلِيْدًا، وَإِذَا لَقِيْتَ عَدُوَّكَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ فَادْعُهُمْ إِلَى ثَلَاثِ خِصَالٍ -أَوْ خِلَالٍ- فَأَيَّتَهُنَّ مَا أَجَابُوْكَ فَاقْبَلْ مِنْهُمْ، وَكُفَّ عَنْهُمْ، ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى الإِسْلَام،فَإِنْ أَجَابُوْكَ فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمْ، ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى التَّحَوُّلِ مِنْ دَارِهِمْ إِلَى دَارِ الْمُهَاجِرِينَ، وَأَخْبِرْهُمْ أَنَّهُمْ إِنْ فَعَلُوْا ذٰلِكَ فَلَهُمْ مَا لِلْمُهَاجِرِينَ وَعَلَيْهِمْ مَا عَلَى الْمُهَاجِرِينَ، فَإِنْ أَبَوْا أَنْ يَتَحَوَّلُوْا مِنْهَا، فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّهُمْ يَكُوْنُوْن كَأَعْرَابِ الْمُسْلِمِينَ، يُجْرٰى عَلَيْهِمْ حُكْمُ اللّٰه الَّذِي يُجْرٰى عَلَى الْمُؤْمِنِينَ، وَلَا يَكُوْنُ لَهُمْ فِي الْغَنِيمَةِ وَالْفَيْءِ شَيْءٌ إِلَّا أَنْ يُجَاهِدُوْا مَعَ الْمُسْلِمِينَ، فَإِنْ هُمْ أَبَوا فَسَلْهُمْ الْجزْيَةَ فَإِنْ هُمْ أَجَابُوْكَ فَاقْبَلْ مِنْهُمْ، وَكُفَّ عَنْهُمْ، فَإِنْ هُمْ أَبَوْا فَاسْتَعِنْ بِاللّٰهِ وَقَاتِلْهُمْ، وَإِذَا حَاصَرْتَ أَهْلَ حِصْنٍ فَأَرَادُوْكَ أَنْ تَجْعَلَ لَهُمْ ذِمَّةَ اللّٰهِ وَذِمَّةَ نبَيِّهٖ فَلَا تَجْعَلْ لَهُمْ ذِمَّةَ اللّٰهِ وَلَا ذِمَّةَ نبَيِّهٖ، وَلَكِنِ اجْعَلْ لَهُمْ ذِمَّتَكَ وَذِمَّةَ أَصْحَابِكَ،فَإِنَّكُمْ أَنْ تُخْفِرُوْا ذِمَمَكُمْ وَذِمَمَ أَصْحَابِكُمْ أَهْوَنُ مِنْ أَنْ تُخْفِرُوْا ذِمَّةَ اللّٰهِ وَذِمَّةَ رَسُوْلِهٖ، وَإِنْ حَاصَرْتَ أَهْلَ حِصْنٍ فَأَرَادُوْكَ أَنْ تُنْزِلَهُمْ عَلٰى حُكْمِ اللّٰهِ فَلَا تُنْزِلْهُمْ عَلٰى حُكْم اللّٰهِ، وَلَكِنْ أَنْزِلْهُمْ عَلٰى حُكْمِكَ فَإِنَّكَ لَا تَدْرِيْ أَتُصِيْبُ حُكْمَ اللّٰهِ فِيهِمْ أَمْ لَا؟ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
وعن سليمان ابن بريدة عن أبيه قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا أمر أميرا على جيش أو سرية أوصاه في خاصته بتقوى الله، ومن معه من المسلمين خيرا،ثم قال: "اغزوا بسم الله في سبيل الله قاتلوا من كفر بالله اغزوا فلا تغلوا، ولا تغدروا، ولا تمثلوا، ولا تقتلوا وليدا، وإذا لقيت عدوك من المشركين فادعهم إلى ثلاث خصال -أو خلال- فأيتهن ما أجابوك فاقبل منهم، وكف عنهم، ثم ادعهم إلى الإسلام،فإن أجابوك فاقبل منهم وكف عنهم، ثم ادعهم إلى التحول من دارهم إلى دار المهاجرين، وأخبرهم أنهم إن فعلوا ذلك فلهم ما للمهاجرين وعليهم ما على المهاجرين، فإن أبوا أن يتحولوا منها، فأخبرهم أنهم يكونون كأعراب المسلمين، يجرى عليهم حكم الله الذي يجرى على المؤمنين، ولا يكون لهم في الغنيمة والفيء شيء إلا أن يجاهدوا مع المسلمين، فإن هم أبوا فسلهم الجزية فإن هم أجابوك فاقبل منهم، وكف عنهم، فإن هم أبوا فاستعن بالله وقاتلهم، وإذا حاصرت أهل حصن فأرادوك أن تجعل لهم ذمة الله وذمة نبيه فلا تجعل لهم ذمة الله ولا ذمة نبيه، ولكن اجعل لهم ذمتك وذمة أصحابك،فإنكم أن تخفروا ذممكم وذمم أصحابكم أهون من أن تخفروا ذمة الله وذمة رسوله، وإن حاصرت أهل حصن فأرادوك أن تنزلهم على حكم الله فلا تنزلهم على حكم الله، ولكن أنزلهم على حكمك فإنك لا تدري أتصيب حكم الله فيهم أم لا؟ ". رواه مسلم.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت سلیمان ابن بریدہ سے ۱؎وہ اپنے والد سے راوی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم جب کسی کو کسی لشکر یا فوج پر امیر بناتے تو اسے اپنے خاص ذاتی معاملہ میں اللہ سے ڈرنے کی اور اپنے مسلمان ساتھیوں کے ساتھ بھلائی کی وصیت فرماتے تھے ۲؎پھر فرماتے کہ اﷲکے نام سے اﷲکی راہ میں جہاد کرو،ان سے جنگ کرو جو اللہ کے منکر ہیں۳؎جہاد کرو تو نہ خیانت کرو،نہ بد عہدی اور نہ مثلہ کرو نہ کسی بچہ کو قتل کرو ۴؎اور جب اپنے دشمن مشرکوں سے ملو تو انہیں تین خصلتوں یا تین باتوں کی طرف بلاؤ ۵؎تو وہ ان میں سے جو بات مان جائیں تم ان سے قبول کرو اور ان کے ہاتھ روک لو ۶؎انہیں اسلام کی طرف بلاؤ ۱؎تو اگر وہ یہ مان لیں تم ان سے قبول کرلو اور ان سے ہاتھ روک لو ۷؎تو پھر انہیں اپنے وطن سے مہاجرین کی جگہ کی طرف منتقل ہوجانے کی دعوت دو ۸؎اور انہیں خبر دو کہ وہ یہ کرلیں گے تو ان کے لئےوہ ہی حقوق ہوں گے جو مہاجرین کے ہیں اور ان پر وہ ذمّہ داریاں ہوں گی جو مہاجرین پر ہیں ۹؎اگر وہ وہاں سے منتقل ہونے سے انکار کریں تو انہیں آگاہ کردو کہ وہ دیہاتی مسلمانوں کی طرح ہونگے کہ ان پر وہ احکام الٰہی جاری کئے جائیں گے ۱۰؎جو مسلمانوں پر جاری کئے جاتے ہیں اور ان کے لئے غنیمت و فئ سے کچھ نہ ہوگا ۱۱؎مگر یہ کہ مسلمان کے ساتھ جہاد کریں۱۲؎پھر اگر وہ انکار کریں تو تم ان سے جزیہ مانگو ۱۳؎پھر اگر وہ لوگ تمہاری مان لیں تو تم ان سے قبول کرلو اور ان سے ہاتھ روک لو۱۴؎لیکن اگر وہ انکاری ہوں تو اللہ سے مدد مانگو اور ان سے جنگ کرو ۱۵؎اور جب تم کسی قلعہ والوں کامحاصرہ کرو پھر وہ تم سے خواہش کریں کہ تم ان کے لئے اللہ رسول کا ذمہ کرو تو تم ان کےلئے نہ اللہ کا ذمہ اور نہ اس کے نبی کا ذمہ۱۶؎بلکہ ان کے لیے اپنا اور اپنے ساتھیوں کا ذمہ دو کیونکہ اگر تم اپنا اور اپنے ساتھیوں کا ذمہ توڑے جاؤ تو یہ اس سے آسان ہے کہ تم اللہ کا ذمہ اور اس کے رسول کا ذمہ توڑے جاؤ ۱۷؎اور اگر تم کسی قلعہ والوں کامحاصرہ کرو پھروہ چاہیں کہ تم انہیں اللہ کے حکم پر اتارو تو تم ان کو اللہ کے حکم پر نہ اتارو لیکن انہیں اپنے حکم پر اتارو کیونکہ تم نہیں جانتے کہ ان کے متعلق اللہ کا حکم پاؤ گے یا نہیں ۱۸؎(مسلم)
شرح حدیث
۱؎سلیمان تابعی ہیں،عہد فاروقی میں پیدا ہوئے،ان کے والد بریدہ ابن حصیب صحابی ہیں،حضرت علی کے خاص لوگوں سے ہیں،مشہور صحابی ہیں۔
۲؎یعنی لشکر کے سپہ سالار سے فرماتے کہ اپنے ذاتی معاملہ میں اﷲسے ڈرنا،ترک نماز،خیانت دیگر خلاف شرع باتوں سے پرہیز کرنا اور اپنے ماتحت سپاہیوں وغیرہم کے ساتھ بھلائی کرنا،نرم برتاوا کرناگویا اپنے آپ مشقت جھیلنا،ماتحتوں پر نرمی کرنا اس لیے پہلےتقوی اﷲفرمایا اور بعد میںخیرًا۔
۳؎یعنی جہاد میں صرف رضاالٰہی کی نیت ہو،ملک گیری،غنیمت عزت حاصل کرنے کی نیت نہ ہو،رب تعالٰی راضی ہوجائے تو تمہیں سب کچھ مل جائے گا،اﷲکے انکار سے مراد اﷲکے دین کا انکار ہے لہذا اس میں نبوت یا کتاب اللہ کا انکار بھی داخل ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ جہاد صرف کفار پر ہوگا خواہ اصلی کافر ہوں خواہ مرتد ہی کہ مسلمان اسلام چھوڑ کر بے دین ہوجائیں اور ان سے جنگ کرنی پڑے وہ بھی جہاد ہے جیسے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے منکرین زکوۃ اور مسیلمہ کذاب کو نبی مان لینے پر جہادکیے، خلافت حیدری کے زمانہ میں جو حضرت عائشہ صدیقہ یا امیر معاویہ سے جنگیں ہوئیں وہ جہاد نہیں صرف قتال ہیں،رب تعالٰی فرماتا ہے:"فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِیْ"۔
۴؎اس مختصر فرمان عالی میں چار چیزوں سے منع فرمایا گیا:غنیمت میں خیانت،بحالت جنگ جو مقابل کفار سے وعدہ کرلیا جائے اس کے خلاف کرنا،مقتول کافر کے ناک کان،ہاتھ پاؤں کاٹنا یا اس کا منہ کالا کرنا،کفار کے ناسمجھ بچوں کو قتل کرنا۔اس سے معلوم ہوا کہ اسلام میں مثلہ کرنا(مقتول کی شکل بگاڑنا)منسوخ ہے۔حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے جو قبیلہ عرینہ کے مرتد ڈاکوؤں کی آنکھیں پھوڑیں وہ اس حکم سے منسوخ ہے۔بعض علماء نے فرمایا کہ اگر کفار ہمارے مقتول شہداء کا مثلہ کریں تو ہم بھی اس کے جواب میں ان کا مثلہ کرسکتے ہیں مگر پہلی بات صحیح ہے،اگر بحالت جنگ اتفاقًا کفار کے بچے مرجائیں تو مجاہدین گنہگار نہیں کہ ان کا ارادہ نہ تھا اور اگر بچہ کفار کا بادشاہ یا سپہ سالار ہو تو اسے قتل کردیا جائے کہ اس سے کفر کی شوکت تو ڑنا ہے۔اس کی پوری بحث فتح القدیر اور مرقات میں دیکھو۔کفار کی عورتیں و بوڑھے لوگ اگر جنگ سے علیٰحدہ ہوں تو انہیں قتل نہ کیا جائے،اگر بادشاہ یا سپہ سالار ہو یا کفار کے مددگار کہ انہیں طریق جنگ سکھاتے ہوں تو ضرور قتل کردیجئے جاویں۔
۵؎اس میں خطاب امیرلشکر سے ہے کہ یہ کام امیر کا ہے عام غازیوں کا نہیں۔خصالجمعخصلۃکی،خلالجمع ہےخلۃکی دونوں کے معنی ایک ہی ہیں یعنی عادت۔
۶؎سبحان اﷲ!یہ ہے اسلامی جہاد کہ ایک دم کفار پر ٹوٹ پڑنے کی اجازت نہیں۔جہاد میں اصل مقصود اسلام پھیلانا ہے نہ کہ صرف کفار کو قتل کرنا جنگ تو صرف مجبوری سے ہے۔
۷؎یعنی بطور مشورہ ان کو دعوت اسلام دو،کہو کہ مسلمان ہوکر ہمارے بھائی بن جاؤ،اگر ان کفار تک دعوت اسلام نہ پہنچی ہو وہ اسلام کو جانتے ہی نہ ہوں تو یہ حکم وجوبی ہے کہ بغیر دعوت دیئے جنگ کرنا ممنوع ہے اور اگر پہنچ چکی ہے تو یہ امر استحبابی ہے کہ اگر بغیر دعوت دیئے بھی جنگ کی گئی تو جائز ہے مگر بہتر یہ ہے کہ پہلے دعوت بعد میں جنگ اور یہ حکم اسی وقت ہے جب یہ چیزیں ممکن ہوں،اگر حالات نازک ہیں دعوت کا موقعہ نہیں جلد حملہ نہ کرنے میں خطرہ ہے تو یہ حکم نہیں۔
۸؎یعنی بلاوجہ بدگمانی نہ کرو کہ انہوں نے دھوکہ کے لیے اسلام قبول کیا ہے دل سے قبول نہیں کیا بلکہ ان کا اسلام لانا مان لو،اگر دھوکہ دہی کی علامات موجود ہوں تو ان کا حکم دوسرا ہے۔
۹؎مرقات نے فرمایا کہ ہجرت کا یہ حکم فتح مکہ سے پہلے تھا،فتح مکہ ہوچکنے کے بعد اب ان کفار سے ہجرت کے لیے نہ کہا جائے گا۔چنانچہ عہد فاروقی وغیرہ میں بڑے معرکے کے جہاد ہوئے،لوگ مسلمان ہوئے مگر کسی کو مدینہ منورہ کی طرف منتقل ہوجانے کا حکم نہ دیا گیا،نہ مدینہ منورہ میں اتنی جگہ ہے کہ تمام نو مسلم مہاجروں کو جگہ وہاں مل سکتی ہے لہذا یہ فرمان اسی زمانہ کے لحاظ سے ہے۔
۱۰؎زمانہ نبوی میں مہاجرینِ مدینہ کو فئ میں سے حصہ ملا کرتا تھا خصوصًا جب وہ جہاد میں جاتے تو ان کی واپسی تک ان کے بال بچوں کو اس فئ سے خرچہ ملتا رہتا تھا،نیز مہاجرین کو جہاد کے لئے حسبِ الحکم جانا پڑتا تھا یہاں یہ ہی دوخبریں مراد ہیں یعنی اگر تم مہاجرین بن کر مدینہ منورہ آگئے تو تم کو فئ کا وہ ہی حصہ ملا کرے گا جو مہاجرین کو ملتاہے اور تم پر اسی طرح جہادمیں جانا لازم ہواکرے گا جو دیگر مہاجرین پر لازم ہے۔غیر مہاجری مسلمان جو کفار کے ملک میں رہتے ہیں ان پر اس طرح جہاد واجب نہیں یعنی جیسے دوسرے غیرمہاجرین پر لازم ہے۔غیر مہاجر مسلمان جو کفار کے ملک میں رہتے ہیں ان پر اس طرح جہاد واجب نہیں۔
۱۱؎یعنی جیسے دوسرے غیرمہاجرمسلمانوں پر جہاد نہیں صرف نمازوروزہ وغیرہ ہے ایسے ہی ان پر ہوگا انہیں مہاجرین کی رعایات نہ ملیں گی۔
۱۲؎یا تو غنیمت اور فئ ہم معنی ہیں اور یہ عطف تفسیری ہے یا غنیمت وہ مال ہے جو کفار سے جنگ میں لڑکر حاصل کیا جائے اور فئ وہ مال ہے جو بغیر جنگ ہاتھ آجائے۔
۱۳؎اس سے معلوم ہورہا ہے کہ زمانہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم میں مہاجرین کو غنیمت و فئ میں سے کچھ دیا جاتا تھا جو غیر مہاجر کو نہ ملتا تھا۔
۱۴؎یعنی اگر کفار اسلام قبول نہ کریں تو تم ان کو مسلمان ہونے پر مجبور نہ کرو بلکہ انہیں کہو کہ ہماری رعایا بن جائیں اور ہم کو جزیہ (ٹیکس)دیا کریں کہ ہم ان کی حفاظت کریں وہ ہم کو ٹیکس دیں۔خیال رہے کہ امام اعظم کے ہاں مشرکین عرب اور مجوسیوں سے ٹیکس(جزیہ)نہ لیا جائے گا ان کے لیے صرف اسلام ہے یا قتل۔ مرتدین سے جزیہ کسی مذہب میں نہیں اسے تو مسلمان ہی ہونا پڑے گا ورنہ قتل کیا جائے گا،یہ حدیث امام مالک و اوزاعی کی دلیل ہے ان کے ہاں ہر کافر سے جزیہ قبول کیا جائے گا اہل کتاب ہو یا مشرک یا مجوسی اور عربی ہو یا عجمی۔امام شافعی کے ہاں اہل کتاب اور مجوسیوں سے جزیہ قبول ہوگا خواہ عربی ہوں یا عجمی۔ہمارے اور امام شافعی کے ہاں یہ حدیث اہل کتاب کے متعلق ہے،انہیں مشرکین فرمایا گیا ہے لغت کے لحاظ سے کہ وہ مشرک ہیں لہذا یہ حدیث ہمارے اور شوافع کے خلاف نہیں۔
۱۵؎یعنی جزیہ قبول کرکے انہیں اپنی رعایا بنا لو انہیں قتل نہ کرو کہ اداء جزیہ کے بعد ان کفار کے مال و جان مسلمانوں کے مال و جان کی طرح ہو جاتےہیں جیساکہ حضرت علی کی روایت میں ہے۔(مرقات)
۱۶؎یہ ہے وہ تیسری بات جس کا ذکر پہلے ہوا تھا یعنی اگر کفار ایسے سرکش ہوں کہ نہ تو مسلمان بنیں نہ تمہاری اطاعت کریں تب ان پر جہاد کرو۔
۱۷؎یعنی اگر قلعہ میں گھرے ہوئے کفار خواہش کریں کہ ہم کو اﷲرسول کی ذمہ داری پر ان کی ضمانت پر قلعہ سے باہر نکال لو کہ ہماری جان و مال کے اللہ رسول ضامن و ذمہ دار ہیں اگر تم نے ہم کو باہر نکال کر قتل کیا یا مال لیا تو تم ان دونوں ذاتوں کے مجرم ہو گے۔یہاں مرقات نے ذمہ کے معنی کیے عہد و امان۔اس سے معلوم ہوا کہﷲرسول کی ضمانﷲرسول کی امان لینا جائز ہے، بعض لوگ اپنے مسافر سے کہتے ہیں اﷲرسول کی ضمان پانچ پیروں کی امان میں جاوے،بعض لوگ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے نام کا امام ضامن مسافر کے بازو پر باندھتے ہیں،ان سب کا ماخذ یہ فرمان عالی بھی ہوسکتا ہے یعنی کفار کو اللہ رسول کی ضمان پر نہ اتارو بلکہ اپنی ضمان و امان پر اتارو۔
۱۸؎یہاں دو روایتیں ہیںاَنالف کے فتح سے اوراِنالف کے کسرہ سے اورتخفروابنا ہےاخفارسے بمعنی توڑنا یا معروف ہے یا مجہول ہم نے مجہول کی روایت لی ہے یعنی اگر تم کفار کو اللہ رسول کے ذمہ پر اتارو اور وہ اتر کر اس ذمہ کو توڑ دیں تو یہ بہت برا ہے،اگر تمہارے ذمہ کو توڑیں تو یہ نرم ہے اور اگرتخفروامعروف ہے تو معنی یہ ہوئے کہ اگر وہ لوگ بدعہدی کریں اور تم ان کی بد عہدی کی وجہ سے ان کی امان توڑو تو اللہ رسول کی امان توڑنا سخت ہے اپنی امان توڑنا سہل لہذا حدیث پاک میں بد عہدی وعدہ خلافی امان توڑنے ضمان کے خلاف کرنے کی اجازت نہیں،یہ خوب خیال میں رکھنا چاہیے۔
۱۹؎یعنی اگر محصور کفار تم سے کہیں کہ ہم قلعہ سے اتر آتے ہیں ہم پر اﷲتعالٰی کا حکم جاری کرنا تو تم یہ قبول نہ کرو کیونکہ تم جو حکم جاری کرو گے وہ وحی سے تو ہوگا نہیں تمہارے اپنے اجتہاد سے ہوگا نہ معلوم کہ اجتہاد درست ہو یا نہ ہو۔اس سے معلوم ہوا کہ مجتہد اپنے اجتہادی حکم کو یقینی طور پر اللہ رسول کا حکم نہیں کہہ سکتا،کیا خبر ہے کہ یہ اجتہاد درست ہے یانہیں۔اسی لئے علامہ شامی نے فرمایا کہ اگر ہم سے سوال کیاجائے کہ تم حق پر ہو یا امام شافعی تو ہم کہیں گے کہ غالبًا حق پرہم ہی ہیں مگر شائد حق پر وہ ہوں اگر پوچھاجائے تم حق پر ہو یا معتزلہ و خوارج تو ہم کہیں گے کہ یقینًا ہم ہی حق پر ہیں وہ لوگ یقینًا باطل پر ہیں کیونکہ امام شافعی سے اجتہادی اختلاف ہے اور ان معتزلہ و خوارج سے عقیدہ کا اختلاف ہے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3929