- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 5
- جہاد کا بیان
- حدیث نمبر 3931
باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3931
جہاد کا بیان - جلد 5
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا غَزَا بِنَا قَوْمًا لَمْ يَكُنْ يَغْزُوْ بِنَا حتّٰى يُصْبحَ وَيَنْظُرَ إِلَيْهِمْ، فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا كَفَّ عَنْهُمْ، وَإِنْ لَمْ يَسْمَعْ أَذَانًا أَغَارَ عَلَيْهِمْ قَالَ: فَخَرَجْنَا إِلٰى خَيْبَرَ فَانْتَهَيْنَا إِلَيْهِمْ لَيْلَا، فَلَمَّا أَصْبَحَ وَلَمْ يَسْمَعْ أَذَانًا رَكِبَ وَرَكِبْتُ خَلْفَ أَبِي طَلْحَةَ، وَإِنَّ قَدَمِيْ لَتَمَسُّ قَدَمَ نَبِيِّ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَخَرَجُوْا إِلَيْنَا بَمَكَاتِلِهِمْ وَمَسَاحِيهِمْ، فَلَمَّا رَأَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوْا: مُحَمَّد واللّٰهِ محمَّدٌ وَالْخَمِيْسُ، فَلَجَؤوْا إِلَى الْحِصْنِ، فَلَمَّا رَآهُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "اَللّٰهُ أَكْبَرُ اَللّٰهُ أَكْبَرُ، خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قومٍ فَسَاءَ صَبَاحُ المُنْذَرِيْنَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
وعن أنس: أن النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا غزا بنا قوما لم يكن يغزو بنا حتى يصبح وينظر إليهم، فإن سمع أذانا كف عنهم، وإن لم يسمع أذانا أغار عليهم قال: فخرجنا إلى خيبر فانتهينا إليهم ليلا، فلما أصبح ولم يسمع أذانا ركب وركبت خلف أبي طلحة، وإن قدمي لتمس قدم نبي الله صلى الله عليه وسلم قال: فخرجوا إلينا بمكاتلهم ومساحيهم، فلما رأوا النبي صلى الله عليه وسلم قالوا: محمد والله محمد والخميس، فلجؤوا إلى الحصن، فلما رآهم رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "الله أكبر الله أكبر، خربت خيبر، إنا إذا نزلنا بساحة قوم فساء صباح المنذرين". متفق عليه.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم جب ہمارے ساتھ کسی قوم پر جہاد کرتے تو حملہ نہ فرماتے حتی کہ صبح پالیتے اور ان کی طرف غور کرتے ۱؎اگر اذان سنتے تو ان سے رک جاتے اور اگر اذان نہ سنتے تو ان پر حملہ کردیتے ۲؎فرماتے ہیں کہ ہم خیبر کی طرف گئے تو ہم ان تک رات میں پہنچے ۳؎جب سویرا ہوا اور اذان نہ سنی تو آپ سوار ہوئے اور میں ابوطلحہ کے پیچھے سوار ہوا کہ میرے قدم حضور کے قدم سے چھوتے تھے۴؎فرماتے ہیں کہ وہ لوگ اپنی زنبیلیں اور پھاؤڑے لے کر نکلے ۵؎پھر جب انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھا تو بولے محمد خدا کی قسم محمد اور لشکر ۶؎پھر انہوں نے قلعہ میں پناہ لے لی ۷؎تو جب انہیں رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے دیکھا تو فرمایااﷲ اکبر اﷲ اکبرخیبر ویران ہوگیا۸؎جب ہم ایک قوم کے میدان میں اترے تو ڈرائے ہوؤں کا سویرا برا ہوگیا ۹؎(مسلم بخاری)۱۰؎
شرح حدیث
۱∞؎یعنی کسی قوم پر رات میں حملہ نہ کرتے کیونکہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ پاک میں ہی عرب میں اسلام پھیل چکا تھا۔ ممکن تھا کہ جہاں حملہ کرنا ہے وہاں مسلمانوں کی آبادی ہو اس لیے توقف فرماتے۔یہ عمل شریف امت کی تعلیم کے لیے تھا ورنہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم اپنی امت سے خبردار ہیں کہ کون کہاں ہے اورکس حال میں ہے جیساکہ بارہا عرض کیا جاچکا ہے۔
۲؎معلوم ہوا کہ اذان دین کا شعار ہے،اس کی برکت سے بلائیں ٹل جاتی ہیں اور اگرکسی جگہ کے مسلمان اذان چھوڑ دیں تو سلطان اسلام ان پر جہاد کرے۔اس مسئلہ کا ماخذ یہ حدیث بھی ہوسکتی ہے مسلمان اذان قائم کریں۔
۳؎اور پہنچے اس حالت میں کہ خیبر والے ہمارے اس آمد سے بالکل ہی بے خبر تھے۔اس سفر میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے مسلمان غازیوں کو بلند آواز سے تکبیر کہنے تک سے روک دیا تھا تاکہ کسی طرح خیبر والوں کو ان کی آمد کا پتہ نہ چل جائے۔مقصد یہ تھا کہ خونریزی کے بغیر فتح ہو جائے۔
۴؎اس طرح کہ میں اور میرے سوتیلے والد ابوطلحہ ایک گھوڑے پر سوار تھے اور حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم ایک گھوڑے پر سوار تھے مگر یہ دونوں اس قدر ملے ملے چل رہے تھے کہ ہر پاؤں کو حضور کی قدم بوسی نصیب ہوجاتی تھی۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایک گھوڑے پر یہ تین حضرات سوار تھے حضرت انس اور ابوطلحہ اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم جیساکہ بعض شارحین نے سمجھا ہے۔
۵؎مکاتلجمع ہےمکتلکی بمعنی زنبیل(ٹوکری)اتنی بڑی کہ جس میں پندرہ صاع چیز آجائے۔ایک صاع ساڑھے چار سیر کا۔ (اشعہ)مساحیجمع ہےمسحاۃکی بمعنی پھاؤڑا۔یہسحوسے بنا بمعنی کھولنا،چونکہ پھاؤڑے کے ذریعے زمین سے مٹی ہٹا کر زمین کھولی جاتی ہے اس لیےمسحاۃکہتے ہیں یعنی زمین کھولنے کا آلہ۔مقصد یہ ہے کہ اہل خیبر ہمارے حملہ سے ایسے بے خبر تھے کہ وہ صبح کو کھیتی باڑی اور باغبانی کے اوزار لے کر اپنے کھیتوں اور باغوں کی طرف نکلے راہ میں انہوں نے ہم کو دیکھا تو دنگ رہ گئے۔
۶؎یعنی محمد رسول اللہ اور لشکر اسلام پہنچ گئے حیرت سے انہوں نے یہ کہنا شروع کردیا۔خیال رہے کہ لشکر کو خمیس یا تو اس لیے کہتے ہیں کہ لشکر کے پانچ حصے ہوتے ہیں(۱)مقدمہ(۲)ساقہ(۳)میمنہ(۴)میسرہ(۵)قلب ،یا اس لیے کہ غنیمت کے پانچ حصے ہوکر خمس یعنی پانچواں حصہ اللہ رسول کا ہوتا تھا اور چار حصے فوج کے، خمیس کے معنی ہیں خمس یعنی پانچ والی۔
۷؎خیبر میں اب تک پانچ بلکہ سات قلعے ہیں ایک قلعہ بہت بڑا یہاں یا تو جنس قلعہ مراد ہے یا بڑا قلعہ دوسرے معنی زیادہ قوی ہیں۔فقیر نے وہ قلعہ دیکھا ہے بہت اونچا اور بہت ہی مضبوط ہے،پہاڑی سا معلوم ہوتا ہے،بہت چوڑی دیواریں ہیں اورگرد خندق ہے جو اب تک دیکھنے میں آتی ہے۔
۸؎یہ جملہ خبر ہے یا دعا یعنی کفار سے خالی ہوگیا یا خالی ہوجائے،رب تعالٰی نے یہ فرمان سچا کر دکھایا اب تک وہاں کفار نہ پہنچ سکے ہیں۔
۹؎یہ فرمان عالی اس آیت کریمہ سے اقتباس ہے"فَاِذَا نَزَلَ بِسَاحَتِهِمْ فَسَآءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِیْنَ(۱۷۷)"یعنی ہمارا ان پر ٹوٹ پڑنا ان پر عذاب الٰہی ہے کہ ہمارے آتے ہی ان کا سویرا بگڑ گیا یعنی ان کا حال خراب ہوگیا۔اس سے معلوم ہوا دشمن پر حملہ کے وقت نعرہ تکبیر سنت ہے اور قرآن کریم سے اقتباس صحیح طور پر جائز ہے بلکہ سنت سے ثابت ہے۔
۱۰؎یہ حدیث ترمذی،نسائی،ابن ماجہ نے بھی روایت کی۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3931