Main Icon

باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5474

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "الدَّجَّالُ أَعْوَرُ الْعَيْنِ الْيُسْرَى، جُفَالُ الشَّعَرِ، مَعَهُ جَنَّتَهُ وَنَارُهُ، فَنَارُهُ جَنَّةٌ وَجَنَّتُهُ نَارٌ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعنه قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "الدجال أعور العين اليسرى، جفال الشعر، معه جنته وناره، فناره جنة وجنته نار". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان سے ہی فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ دجال بائیں آنکھ کا کانا ہے ۱∞؎بہت بالوں والا۲؎اس کے ساتھ اس کی جنت اور اس کی آگ ہوگی تو اس کی آگ جنت ہے اور اس کی جنت آگ ہے۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یہاںاعوربمعنی عیب ناک ہے لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں جس میں فرمایا گیا ہے کہ اس کی داہنی آنکھ کانی تو بلکل سپاٹ ہوگی اور بائیں آنکھ عیب دار ہوگی۔غرضکہ کوئی آنکھ بے عیب نہ ہوگی،یا یہ مطلب ہے کہ کسی کو اس کی داہنی آنکھ کانی محسوس ہوگی کسی کو بائیں آنکھ،یہ فرق احساس کا ہوگا نہ کہ واقعہ کا۔یہ بھی ایک قدرتی کرشمہ ہوگا وہ مردود سب کچھ کر دکھائے گا مگر اپنی آنکھ نہ درست کرسکے گا۔۲؎جفالجیم کے پیش سے بمعنی کثیر بہت مگر ہر بہت کو جفال نہیں کہتے بلکہ بہت بالوں کوجفالکہا جاتا ہے۔بعض نے فرمایا کہ بندھے ہوئے بڑے جوڑے کو جفال کہتے ہیں۔۳؎اس کی شرح ابھی گزر گئی کہ اس کا باغ بظاہر باغ معلوم ہوگا حقیقتًا دوزخ ہوگا اور اس کی آگ بظاہر آگ ہوگی حقیقتًا باغ جیسے جناب خلیل کی آگ حقیقتًا باغ بحر قلزم کا پانی حقیقتًا آگ بن گیا تھا۔شعر
گلستان کند آتشے برخلیل گرو ہے بد آتش بروز آب نیل

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5474