- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 7
- فتنوں کا بیان
- حدیث نمبر 5476
باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5476
فتنوں کا بیان - جلد 7
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "يَخْرُجُ الدَّجَّالُ، فَيَتَوَجَّهُ قِبَلَهُ رَجُلٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، فَيَلْقَاهُ الْمَسَالِحُ مَسَالِحُ الدَّجَّالِ، فَيَقُولُونَ لَهُ: أَيْنَ تَعْمِدُ؟ فَيَقُولُ: أَعْمِدُ إِلَى هَذَا الَّذِي خَرَجَ، قَالَ: فَيَقُولُونَ لَهُ: أَوَمَا تُؤْمِنُ بِرَبِّنَا؟ فَيَقُولُ: مَا بِرَبِّنَا خَفَاء، فَيَقُولُونَ: اقْتُلُوهُ، فَيَقُولُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: أَلَيْسَ قَدْ نَهَاكُمْ رَبُّكُمْ أَنْ تَقْتُلُوا أَحَدًا دُونَهُ، فَيَنْطَلِقُونَ بِهِ إِلَى الدَّجَّالِ،فَإِذَا رَآهُ الْمُؤْمِنُ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ! هَذَا الدَّجَّالُ الَّذِي ذَكرَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-، قَالَ: "فَيَأْمُرُ الدَّجَّال بِهِ فَيُشَبَّحُ، فَيَقُولُ: خُذُوهُ وَشُجُّوهُ، فَيُوسَعُ ظَهْرُهُ وَبَطْنُهُ ضَرْبًا"، قَالَ: "فَيَقُول: أَوَمَا تُؤْمِنُ بِي؟ " قَالَ: "فَيَقُولُ: أَنْتَ الْمَسِيحُ الْكَذَّابُ"، قَالَ:"فَيُؤْمَرُ بِهِ فَيْؤشَرُ بالمنشارِ مِنْ مَفْرِقِهِ حَتَى يُفَرَّقَ بَيْنَ رِجْلَيْهِ"، قَالَ: "ثُمَّ يَمْشِي الدَّجَّالُ بَيْنَ الْقِطْعَتَيْنِ، ثُمَّ يَقُولُ لَهُ: أَتؤمنُ بِي؟ فَيَقُولُ: مَا ازْدَدْتُ فِيكَ إِلَّا بَصِيرَةً"، قَالَ: "ثُمَّ يَقُولُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ! إِنَّهُ لَا يَفْعَلُ بَعْدِي بِأَحَدٍ مِنَ النَّاسِ"، قَالَ: "فَيَأْخُذُهُ الدَّجَّالُ لِيَذْبَحَهُ، فَيُجْعَلُ مَا بَيْنَ رَقَبَتِهِ إِلَى تَرْقُوَتِهِ نُحَاسًا،فَلَا يَسْتَطِيعُ إِلَيْهِ سَبِيلًا" قَالَ: "فَيَأْخُذُ بِيَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ، فَيَقْذِفُ بِهِ، فَيَحْسِبُ النَّاسُ أَنَّمَا قَذَفَهُ إِلَى النَّارِ، وَإِنَّمَا أُلْقِيَ فِي الْجَنَّةِ"، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "هَذَا أَعْظَمُ النَّاسِ شَهَادَةً عِنْدَ رَبِّ الْعَالَمِينَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
وعن أبي سعيد الخدري قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "يخرج الدجال، فيتوجه قبله رجل من المؤمنين، فيلقاه المسالح مسالح الدجال، فيقولون له: أين تعمد؟ فيقول: أعمد إلى هذا الذي خرج، قال: فيقولون له: أوما تؤمن بربنا؟ فيقول: ما بربنا خفاء، فيقولون: اقتلوه، فيقول بعضهم لبعض: أليس قد نهاكم ربكم أن تقتلوا أحدا دونه، فينطلقون به إلى الدجال،فإذا رآه المؤمن قال: يا أيها الناس! هذا الدجال الذي ذكر رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، قال: "فيأمر الدجال به فيشبح، فيقول: خذوه وشجوه، فيوسع ظهره وبطنه ضربا"، قال: "فيقول: أوما تؤمن بي؟ " قال: "فيقول: أنت المسيح الكذاب"، قال:"فيؤمر به فيؤشر بالمنشار من مفرقه حتى يفرق بين رجليه"، قال: "ثم يمشي الدجال بين القطعتين، ثم يقول له: أتؤمن بي؟ فيقول: ما ازددت فيك إلا بصيرة"، قال: "ثم يقول: يا أيها الناس! إنه لا يفعل بعدي بأحد من الناس"، قال: "فيأخذه الدجال ليذبحه، فيجعل ما بين رقبته إلى ترقوته نحاسا،فلا يستطيع إليه سبيلا" قال: "فيأخذ بيديه ورجليه، فيقذف به، فيحسب الناس أنما قذفه إلى النار، وإنما ألقي في الجنة"، فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "هذا أعظم الناس شهادة عند رب العالمين". رواه مسلم.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابی سعید خدری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ دجال نکلے گا تو اس کی طرف مؤمنوں سے ایک صاحب متوجہ ہوں گے ۱∞؎تو انہیں دجال کے سپاہی ملیں گے ۲؎اور ان سے کہیں گے کہ کہاں کا ارادہ کر رہے ہو کہیں گے کہ میں اس کی طرف کا ارادہ کررہا ہوں جو نکلا ہے۳؎فرمایا وہ لوگ ان سے کہیں گے کیا تم ہمارے رب پر ایمان نہیں رکھتے،وہ کہیں گے ہمارے رب میں پوشیدگی نہیں۴؎تو یہ لوگ کہیں گے کہ اسے قتل کردو تو ان کے بعض بعض سے کہیں گے کیا تم کو تمہارے رب نے اس کے بغیر قتل کرنے سے منع نہیں کیا ہے ۵؎تو وہ انہیں دجال کے پاس لے جائیں گے مؤمن جب اسے دیکھے گا تو کہے گا اے لوگو یہ ہی وہ دجال ہے جس کا رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے ذکر فرمایا ۶؎فرمایا تب دجال اس کے متعلق حکم دے گا تو انہیں لمبا ڈال دیا جاوے گاکہے گا اسے پکڑلو اور زخمی کردو ۷؎چنانچہ ان کی پیٹھ اور پیٹ مار کر چوڑے کردیں گے ۸؎فرمایا وہ کہے گا کیا مجھ پر ایمان نہیں لاتا فرمایا وہ کہیں گے کہ تو جھوٹا مسیح ہے ۹؎فرمایا بس اس کے متعلق حکم دیا جاوے گا تو آرے سے ان کی مانگ سے چیر دیا جاوے گا حتی کہ ان کے پاؤں چیر دیئے جائیں گے ۱۰؎فرمایا پھر دجال دو ٹکڑوں کے درمیان چلے گا پھر اس سے کہے گا کھڑا ہو وہ سیدھا کھڑا ہوجاوے گا ۱۱∞؎پھر اس سے کہے گا کیا مجھ پر ایمان لاتا ہے تو وہ کہے گا تیرے بارے میں میری بصیرت ہی زیادہ ہوئی۱۲؎فرمایا پھر کہیں گے اے لوگو یہ میرے بعد اب کسی آدمی سے یہ نہ کرسکے گا۱۳؎فرمایا پھر اسے دجال ذبح کرنے کے لیے پکڑے گا تو اس کی گردن سے گلے تک کے درمیان تانبہ کردیا جاوے گا۱۴؎پھر وہ اس تک راہ پانے کی طاقت نہ رکھے گا فرمایا کہ پھر دجال ان کے ہاتھوں پاؤں کو پکڑے گا اور پھینک دے گا لوگ سمجھیں گے کہ اسے آگ کی طرف پھینکا مگر وہ جنت میں ڈالا جاوے گا ۱۵؎پھر رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ یہ شخص رب العالمین کے نزدیک تمام لوگوں میں بڑی شہادت والا ہوگا۱۶؎(مسلم)
شرح حدیث
۱∞؎یہ صاحب مدینہ سے نکلیں گے۔غالبًا حضرت خضر علیہ السلام ہوں گے کیونکہ وہ اب تک زندہ ہیں اور زندہ رہیں گے آپ ہی پر دجال کا زور ختم ہوگا۔(مرقات)۲؎مسالحہے جمعمسلحکی،مسلحکے معنی ہیں ہتھیار رکھنے کی جگہ یعنی ملک کی سرحد پھر سرحد کے باشندے کو مسالح کہنے لگے کہ وہ لوگ ہر وقت ہتھیار بند رہتے ہیں،پھر محافظ سپاہیوں کو مسالح کہنے لگے کہ اکثر سپاہی ہتھیار بند ہوتے ہیں۔(لمعات،مرقات،اشعہ)معلوم ہوا کہ دجال اپنے سپاہی چھوڑے گا جو لوگوں کو اس مردود تک پہنچائیں گے۔۳؎آپ کا یہ فرمان نہایت حقارت کے انداز میں ہوگا۔خرجسے اشارۃً یہ فرمائیں گے کہ دجال راہِ حق سے نکلا ہوا ہے ایمان سے ہٹا ہوا ہے۔۴؎یعنی اے بیوقوفو! رب تعالٰی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں وہ تمام عیوب سے پاک ہے تمام صفات سے موصوف ہے۔دجال کھاتا پیتا ہے، پیشاب پاخانہ کرتا ہے،سوتا ہے اور بڑی بات یہ ہے کہ وہ کانا ہے جس میں یہ عیوب ہوں وہ رب کیسا تم اسے رب کیوں مانتے ہو۔۵؎خلاصہ یہ ہے کہ دجال کے سپاہیوں میں سے بعض کہیں گے کہ انہیں یہاں ہی قتل کردو بعض کہیں گے کہ نہیں انہیں دجال کے پاس لے چلو۔۶؎یعنی یہ صاحب دجال کی صورت اس کی کالی آنکھ کالا منہ دیکھ کر پکاریں گے کہ یہ خدا نہیں بلکہ خدا کا مردود بندہ ہے۔۷؎پہلاشبحبمعنی چوڑا ئی میں ڈال دینا یعنی مارنے کے لیے اس کو زمین پر الٹا لٹادینا جسے پنجابی میں کہتے ہیں لما پا دینا۔دوسراشبحو شبحسے بمعنی زخمی کرنے سے ہے یعنی پہلے انہیں زمین پر لمبا ڈالو پھر انہیں اتنا مارو کہ زخمی ہوجاویں ان دونوں کی اور کئی شرحیں ہیں جو اسی جگہ لمعات میں مذکور ہیں۔۸؎پیٹھ چوڑی کرنا ایک خاص محاورہ ہے یعنی مار مارکر ایسا حال کردیں گے کہ اگر ان کی پیٹھ لوہے یا سونے چاندی کی ہوتی تو کٹ کٹ کر چوڑی ہوجاتی۔مقصد یہ ہے کہ بہت ہی ماریں گے مگر وہ اف نہ کریں گے،ہر کام اور ہر شخص کا ایک وقت ہوتا ہے۔حضرت خضر علیہ السلام دجال پر اپنی کرامت یا معجزہ نہ جاری کریں گے کہ ابھی اس کا وقت نہیں آیا ورنہ یہ خضر وہ ہیں جنہوں نے ایک اشارہ ے گرتی دیوار سیدھی کردی تھی اور ایک انگلی سے بچہ کا سراکھیڑ کر اسے مار دیا تھا جیساکہ قرآن میں ہے۔۹؎یعنی تو جھوٹا مسیح ہے جسے سچے مسیح علیہ السلام قتل کریں گے،یہ فیصلہ الٰہی ہے ورنہ میں ہی تجھے ہلاک کردیتا۔(مرقات)۱۰؎الله اکبریہ ہے الله کی راہ میں مصیبت جھیلنا کہ ککڑی کھیرے کی طرح آرہ سے چیرے گئے اف نہ کی لوگ یہ تماشا دیکھ رہے ہوں گے۔۱۱∞؎اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ مقابلہ کے وقت کرامت و معجزہ سارے جادو اور استدراج پر غالب رہتا ہے مگر جب مقابلہ نہ ہو تو جادو،استدراج وغیرہ ولی نبی پر اثر کردیتے ہیں۔دیکھو موسیٰ علیہ السلام کے مقابلہ میں سارے جادو گر فیل ہوگئے کہ وہاں مقابلہ تھا مگر حضور صلی اللہ علیہ و سلم پر جادو نے اثر کردیا کہ وہاں مقابلہ نہ تھا بعض انبیاء کرام کو تلوار سے شہید یا زخمی کیا گیا یہاں دوسری صورت ہے۔دوسرے یہ کہ اگر زندگی باقی ہو جب بھی عارضی موت آسکتی ہے۔حضرت خضر کی زندگی قریب قیامت تک ہے مگر آج وہ دجال کے ہاتھوں عارضی طور پر شہید کردیئے گئے، عیسیٰ علیہ السلام جن مردوں کو زندہ کرتے تھے وہ اپنی زندگی ختم کرکے مرے ہوتے تھے مگر اب دعا سے دوبارہ عمر پاتے تھے۔۱۲؎یعنی تیرا یہ کرشمہ دیکھ کر مجھے تیرے دجال ہونے اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی پیش گوئی کا اور زیادہ یقین ہوگیا پہلے علم الیقین تھا اب عین الیقین ہوگیا۔۱۳؎یعنی اس کی شعبدہ بازیاں ختم ہوئیں اب یہ کسی کو مار کر زندہ نہ کرسکے گا مجھ پر اس کا زور ختم ہوا اور مسیح پر اس کا شور ختم ہوجائے گا،یہ مرکر گمنام ہو جائے گا۔۱۴؎یعنی ذبح کے وقت جہاں چھری چلائی جاتی ہے وہاں یا تو بعینہ تانبہ کی تختی ہوجائے گی یا یہ جگہ تانبہ کی طرح سخت کر دی جائے گی جس پر چھری نہ چل سکے گی اور دجال یا اس کے سپاہی ان بزرگوں کو ذبح نہیں کرسکیں گے۔۱۵؎اس جنت و آگ کی تحقیق ابھی کچھ پہلے کی جاچکی ہے یعنی دجال اپنی شرمندگی مٹانے کے لیے ان بزرگوں کو اپنی خود ساختہ آگ میں ڈالے گا جو دیکھنے میں آگ ہوگی مگر نار نمرود کی طرح درحقیقت نہایت آرام دہ باغ ہوگا۔۱۶؎یعنی یہ صاحب اس زمانہ کے تمام شہید مسلمانوں میں اول درجہ کے شہیدہوں گے کیونکہ ایک بار تو آرہ سے چیرے گئے پھر دوبارہ قتل و ذبح کے لیے لٹائے گئے پھر ظاہری آگ میں پھینکے گئے ان سب کے سوا ایسے موقع پر نہایت جرأت و ہمت سے مردانہ وار دجال کے مقابل ہوکر سینکڑوں کے ایمان کو بچا گئے اور ظاہر ہے کہ جیسے کارناموں جیسی تکلیف ویسا درجہ۔اس الناس میں حضرات شہداء احد، بدروحنین یا شہداء کربلا داخل نہیں کہ ان کے درجہ تک کوئی مسلمان تاقیامت نہیں پہنچ سکتا لہذا حدیث واضح ہے۔اس پر یہ اعتراض نہیں کہ سید الشہداء تو حضرت حمزہ یا شہداء کربلا امام حسین ہیں اور ہوسکتا ہے کہ یہ درجہ ان کی نبوت کی وجہ سے سب سے بڑھ جاوے کہ نبی کا عمل غیر نبی کے عمل سے زیادہ درجہ رکھتا ہے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5476