Main Icon

باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5470

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَن عَبْد اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنَّ اللَّهَ لَا يَخْفَى عَلَيْكُمْ، إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَيْسَ بِأَعْوَرَ، وَإنَّ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ أَعْوَرُ عَيْنِ الْيُمْنَى،كَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن عبد الله قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إن الله لا يخفى عليكم، إن الله تعالى ليس بأعور، وإن المسيح الدجال أعور عين اليمنى،كأن عينه عنبة طافية". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبد الله سے ۱∞؎فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اللہ تم پر چھپا نہیں الله تعالٰی کانا نہیں اور مسیح دجال آنکھ کا کانا ہے ۲؎اس کی آنکھ گویا ابھرا ہوا انگور ہے ۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎حدیث شریف میں جب عبدامطلق آتا ہے تو اس سے مراد حضرت عبداابن مسعود ہوتے ہیں وہ ہی یہاں مراد ہیں۔۲؎یعنی اے لوگو! دجال کے حیرت انگیز کرشمے دیکھ کر اسے خدا نہ سمجھ لینااس کی بندگی کی دلیل اس کی اپنی کانی آنکھ ہے وہ اپنے کو شفا نہ دے سکے گا۔۳؎یعنی دجال کی داہنی آنکھ کانی بھی ہوگی اور اوپر کو انگورکی طرح ابھری ہوئی جو ہر شخص کو نظر آوے اپنے اس عیب کو دور نہ کرسکے گا۔خیال رہے کہ جو خدا ہونے کا دعویٰ کرے اس کے ہاتھ پر عجیب کرشمے ظاہر ہوسکتے ہیں کیونکہ الوہیت تو مشتبہ ہوسکتی ہی نہیں مگر جو نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرے اس کے ہاتھ پر کوئی کرشمہ ظاہر نہیں ہوسکتا ورنہ نبوت مشتبہ ہو جاوے۔دجال اگر دعویٰ نبوت کرے تو کوئی عجوبہ نہیں دکھا سکتا یہ خوب خیال رکھو۔یہاںمسیحبمعنی اسم مفعول ہے یعنیممسوح العینایک آنکھ کا کانا،حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جو مسیح کہتے ہیں وہاں مسیح بمعنی اسم فاعل ہے یعنی برکت کے لیے چھونے والے اور چھو کر مردے زندہ، بیماروں کو اچھا کرنے والا۔طافیہبنا ہےطفیسے بمعنی اوپر ہونا اور ابھرنا اس لیے جو مچھلی پانی پر تر کر آ جاوے اسے طافیہ کہتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5470