- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 7
- فتنوں کا بیان
- حدیث نمبر 5491
باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5491
فتنوں کا بیان - جلد 7
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- فِي بَيْتِي، فَذَكَرَ الدَّجَّالَ فَقَالَ: "إِنَّ بَيْنَ يَدَيْهِ ثَلَاثَ سِنِينَ: سَنَةٌ تُمْسِكُ السَّمَاءُ فِيهَا ثُلُثَ قَطْرِهَا وَالأَرْضُ ثُلُثَ نَبَاتِهَا، وَالثَّانِيَةُ تُمْسِكُ السَّمَاءُ ثُلُثَيْ قَطْرِهَا وَالأَرْضُ ثُلُثَيْ نَبَاتِهَا، وَالثَّالِثَةُ تُمْسِكُ السَّمَاءُ قَطْرَهَا كُلَّهُ، وَالأَرْضُ نَبَاتَهَا كُلَّهُ، فَلَا يَبْقَى ذَاتُ ظِلْفٍ وَلَا ذَاتُ ضِرْسٍ مِنَ الْبَهَائِم إِلَّا هَلَكَ، وَإِنَّ مِنْ أَشَدِّ فِتْنَتِهِ أَنَّهُ يَأْتِي الأَعْرَابِيَّ فَيَقُولُ: أَرَأَيْتَ إِنْ أَحْيَيْتُ لَكَ إِبِلَكَ أَلَسْتَ تَعْلَمُ أَنِّي رَبَّكَ؟ فَيَقُولُ: بَلَى، فَيُمَثِّلُ لَهُ الشَّيْطَانَ نَحْوَ إِبِلِهِ كَأَحْسَنِ مَا يَكُونُ ضُرُوعًا وَأَعْظَمِهِ أَسْنِمَةً"، قَالَ: "وَيَأْتِي الرَّجُلَ قَدْ مَاتَ أَخُوهُ وَمَاتَ أَبُوهُ فَيَقُولُ: أَرَأَيْتَ إِنْ أَحْيَيْتُ لَكَ أَبَاكَ وَأَخَاكَ أَلَسْتَ تَعْلَمُ أَنِّي ربُكَ؟ فَيَقُولُ: بَلَى، فَيُمَثِّلُ لَهُ الشَّيَاطِينَ نَحْوَ أَبِيهِ وَنَحْوَ أَخِيهِ"، قَالَتْ: ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- لِحَاجَتِهِ ثُمَّ رَجَعَ وَالْقَوْمُ فِي اهْتِمَامٍ وَغَمِّ مِمَّا حَدَّثَهُمْ، قَالَتْ: فَأَخَذَ بِلَحْمَتَي الْبَابِ فَقَالَ: "مَهْيَمْ أَسْمَاءُ؟ " قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ خَلَعْتَ أَفْئِدَتَنَا بِذِكْرِ الدَّجَّالِ، قَالَ: "إِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا حَيٌّ فَأَنَا حَجِيجُهُ، وَإِلَّا فإِنَّ رَبِّي خَلِيفَتِي عَلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ"، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَاللَّهِ إِنَّا لَنَعْحِنُ عَجِينَنَا فَمَا نَخْبِزُهُ حَتَّى نَجُوعَ، فَكَيْفَ بِالْمُؤْمِنِينَ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: "يُجْزِئُهُمْ مَا يُجْزِئُ أَهْلَ السَّمَاءِ مِنَ التَّسْبِيحِ وَالتَّقْدِيسِ"رَوَاهُ.
وعن أسماء بنت يزيد قالت: كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- في بيتي، فذكر الدجال فقال: "إن بين يديه ثلاث سنين: سنة تمسك السماء فيها ثلث قطرها والأرض ثلث نباتها، والثانية تمسك السماء ثلثي قطرها والأرض ثلثي نباتها، والثالثة تمسك السماء قطرها كله، والأرض نباتها كله، فلا يبقى ذات ظلف ولا ذات ضرس من البهائم إلا هلك، وإن من أشد فتنته أنه يأتي الأعرابي فيقول: أرأيت إن أحييت لك إبلك ألست تعلم أني ربك؟ فيقول: بلى، فيمثل له الشيطان نحو إبله كأحسن ما يكون ضروعا وأعظمه أسنمة"، قال: "ويأتي الرجل قد مات أخوه ومات أبوه فيقول: أرأيت إن أحييت لك أباك وأخاك ألست تعلم أني ربك؟ فيقول: بلى، فيمثل له الشياطين نحو أبيه ونحو أخيه"، قالت: ثم خرج رسول الله -صلى الله عليه وسلم- لحاجته ثم رجع والقوم في اهتمام وغم مما حدثهم، قالت: فأخذ بلحمتي الباب فقال: "مهيم أسماء؟ " قلت: يا رسول الله لقد خلعت أفئدتنا بذكر الدجال، قال: "إن يخرج وأنا حي فأنا حجيجه، وإلا فإن ربي خليفتي على كل مؤمن"، فقلت: يا رسول الله! والله إنا لنعحن عجيننا فما نخبزه حتى نجوع، فكيف بالمؤمنين يومئذ؟ قال: "يجزئهم ما يجزئ أهل السماء من التسبيح والتقديس"رواه.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت اسماء بنت یزید سے فرماتی ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم میرے گھر میں تشریف فرما تھے تو آپ نے دجال کا ذکر کیا تو فرمایا کہ دجال سے آگے تین سال ہوں گے ایک سال ایسا جس میں آسمان اپنی تہائی بارش روک لے گا اور زمین تہائی پیداوار ۱∞؎دوسرے سال آسمان دو تہائی بارش روک لے گا اور زمین اپنی کل پیداوار اور تیسرے سال آسمان اپنی پوری بارش روک لے گا اور زمین اپنی کل پیداوار۲؎تو کوئی کھر والا ڈاڑھ والا جانور نہ بچے گا مگر ہلاک ہوجاوے گا۳؎اور اس کے سخت ترین فتنوں میں سے یہ ہوگا کہ ایک بدوی کے پاس آوے گا کہے گا بتا تو اگر میں تیرا اونٹ زندہ کر دوں تو کیا تو یقین نہ کرے گا کہ میں تیرا رب ہوں وہ کہے گا ہاں۴؎تو شیطان اس کے سامنے اس کے اونٹ کی شکل میں آجاوے گا جیسے تھن ہوتے ہیں اس سے اچھے اور خوب بلند کوہان ۵؎فرمایا اور آوے گا ایک شخص کے پاس جس کے بھائی باپ مرچکے ہوں گے تو کہیں گے کہ بتا تو اگر میں تیرے سامنے تیرے باپ بھائی زندہ کر دوں تو کیا تو یقین کرے گا کہ میں تیرا رب ہوں وہ کہے گا ہاں۶؎تو اس کے سامنے شیطان اس کے باپ بھائی کی شکل میں آجاوے گا۷؎فرماتی ہیں پھر رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم اپنے کسی کام کے لیے تشریف لے گئے پھر واپس ہوئے حالانکہ قوم بہت رنج و غم میں تھی۸؎اس خبر کی وجہ سے جو حضور نے انہیں دی،فرماتی ہیں کہ حضور نے دروازے کے دو بازو پکڑ کر فرمایا اسماء کیا ہے۹؎میں نے عرض کیا یارسول الله دجال کے ذکر سے ہمارے دل نکل گئے ۱۰؎فرمایا اگر وہ نکلا اور ہم زندہ ہوئے تو اس کے مقابل ہم ہوں گے ۱۱∞؎ورنہ میرا رب ہر مسلمان پر میرا خلیفہ ہے۱۲؎عرض کیا یارسول الله ہم اپنا آٹا گوندھتے ہیں تو روٹیاں نہیں پکاتے حتی کہ ہم بھوکے ہو جاتے ہیں تو اس دن مسلمانوں کا کیا حال ہوگا۱۳؎فرمایا انہیں وہ تسبیح وتہلیل کافی ہوگی جو آسمان والوں کو کافی ہوتی ہے۔
شرح حدیث
۱∞؎یعنی دجال کی آمد سے نو برس پہلے ہی بے برکتی قحط سالی نمودار ہوجاوے گی پہلے تین سالوں میں جتنی بارش چاہیے اس کی تہائی ہوگی اور جتنا غلہ چاہیے اس کا تہائی ہوگا،اگلے چھ سالوں میں اس سے بھی کم بارش ہوگی اور کم پیداوار،یہ سخت آزمائش ہوگی الله تعالٰی جسے بچائے گا اس کا ایمان بچے گا۔۲؎غرضکہ دجال کے آنے پر لوگ بالکل خالی ہاتھ بے دانہ قحط زدہ ہوچکے ہوں گے اب جب کہ اس کے نکلتے ہی اس کے ماننے والوں پر بارشیں غلہ کی بہتات،دودھ گھی کی فراوانی ہوگی تو بولو لوگوں کا ایمان کیسے بچے گا الله حافظ ہے۔۳؎کھر والے جانوروں سے مراد گائے بھینس،بکری ہرن وغیرہ ہیں۔ڈاڑھ والے سے مراد اونٹ وغیرہ جانور ہیں۔ہلاکت سے مراد صرف مرجانا ہی نہیں بلکہ مرجانا یا قریب موت ہوجانا ہے یعنی قحط اور خشکی سالی کی وجہ سے جانور گویا فنا ہو جائیں گے لہذا یہ فرمان عالی اس فرمان کے خلاف نہیں کہ دجال کو مان لینے والوں کے جانور موٹے تازے اور خوب دودھ والے ہوجائیں گے اور انکار کرنے والوں کے جانور دبلے پتلے خشک ہوجائیں گے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جانور ہوں گے۔۴؎یعنی جس بدوی کے اونٹ مرچکے ہوں گے اور وہ بڑا مغموم ہوگا اس سے دجال آکر یہ کہے گا اور اس سے یہ وعدہ لے گا۔۵؎معلوم ہوا کہ جن شیاطین جانوروں کی شکل میں آسکتے ہیں۔چنانچہ جنات کتے اور سانپ کی شکل میں آجاتے ہیں جیسا کہ احادیث میں ہے اور جس جانور کی شکل میں آتے ہیں اس کے خواص بھی ان میں ہوجاتے ہیں۔چنانچہ اگر سانپ کی شکل میں آویں تو ان میں زہر ہوتا ہے،ان اونٹوں میں دودھ ہوگا لوگ اسے پئیں گے،موسیٰ علیہ السلام کی لاٹھی جب سانپ بنتی تھی تو کھاتی پیتی تھی"تَلْقَفُ مَا یَاۡفِکُوۡنَ"۔۶؎اس سے معلوم ہورہا ہے کہ دجال کو یہ خبر ہوگی کہ کس کا کون کون عزیز قریبی فوت ہوچکے ہیں تب ہی تو وہ سوال کرے گا،اسے رب کی طرف سے علم بھی دیا جائے گا اورتسلط و قدرت بھی یہ سب کچھ لوگوں کی آزمائش کے لیے ہوگا۔آج ابلیس کو ہر شخص کے دلی ارادے کی خبر ہے وہ تمام شرعی احکام سے واقف ہے،جانتا ہے کہ شریعت میں کون سا کام حرام ہے کون سا کام فرض یا واجب تب ہی تو وہ فرائض سے روکتا ہے،حرام کی رغبت دیتا ہے،جب اس بیماری کے علم کا یہ حال ہے تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم جو اس بیماری کا علاج ہیں وہ بے خبر کیسے ہوسکتے ہیں۔۷؎معلوم ہوا کہ وہ حقیقت میں اس کے ماں باپ نہ ہوں گے بلکہ محض دھوکہ ہوگا،شیاطین ان کی شکل میں ہوں گے۔معلوم ہوا کہ دجال زندوں کو مردہ کرکے زندہ کرسکے گا مگر پرانے مردے زندہ نہ کرے گا بلکہ ان کی شکل میں شیاطین ہوں گے۔۸؎یہ حضور انور کے کلام کی تاثیر تھی کہ لوگوں کے دل بدل گئے۔بعض علماء کے واعظ سے بے نمازی لوگ نمازی بن جاتے ہیں،حضور انورکے الفاظ شریفہ سادہ ہوتے تھے مگر انسان کی کایا پلٹ دیتے تھے،آج رنگین تقریروں میں تاثیر نہیں۔۹؎لحمتیتثنیہ ہےلحمۃکا،لحمہچوکھٹ کے بازو کو کہتے ہیں،لحمتیندونوں بازو و عتبہ نیچے کی چوکھٹ۔۱۰؎یعنی دجال کے حالات لوگوں کے معاملات سن کر ہم تو پریشان ہوگئے کہ اگر وہ ہمارے زمانہ میں نکل آیا تو ہمارا کیا بنے گا ورنہ اس زمانہ کے مسلمان کیا کریں گے۔۱۱∞؎معلوم ہوا کہ اگر دجال حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ شریف میں آتا تو حضور کے مقابل فیل ہوجاتا حضور کے ہاتھوں مارا جاتا اب یہ کام حضور انور کی نیابت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کریں گے۔حضور انور اپنی امت کے والی وارث نگہبان تھے اور ہیں اور رہیں گے۔امام بوصیری کہتے ہیں۔شعراحل امتہ فی حرز ملتہ کاللیث حل مع ابالا شبال فی الاجیم۱۲؎یہاں خلیفہ بمعنی نائب یا وکیل نہیں بلکہ بمعنی حافظ،ناصر،والی وارث و نگہبان ہے کیونکہ الله تعالٰی کسی کا نائب نہیں ہوتا یعنی اگر میرے بعد دجال نکلا تو میری امت رب کے حوالہ ہے وہ ہی اس کا ناصر ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ مجموعی امت کا حقیقی نگہبان رب تعالٰی اور ہر شخص اپنی ذات کا ذمہ دار ہے لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ ہرشخص اپنی ذات کا ذمہ دار ہے ذمہ داریاں مختلف ہیں۔۱۳؎مقصد یہ ہے کہ مسلمان اس وقت دجال کے ماننے پر مجبور ہوں گے کہ ننگا بھوکا ہر نہ کرنے والا کام کرلیتا ہے،اگر دجال کو نہ مانیں گے تو مرجائیں گے کیونکہ حالات وہ ہوں گے جو حضور فرمارہے ہیں تو مسلمانوں کا ایمان کیسے بچے گا یعنی میری امت سے کہہ دو کہ اس وقت تنگی رزق سے دل تنگ نہ ہوں،اس زمانے میں زمینی مؤمن عرشی فرشتوں کی طرح ہوں گے کہ ذکر الله سے ان کا پیٹ بھرتا رہے گا ذکر الله ہمیشہ ہی غذاء روحانی ہے مگر اس زمانہ میں غذا جسمانی بھی ہوجائے گا۔بعض اولیاءالله نے تین تین سال تک پانی نہیں پیا مگر زندہ رہے کیسے ذکر الله کی برکت ہے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5491