Main Icon

باب:شکار اور ذبیحوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4084

شکار اور ذبیحوں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! أَرْمِي الصَّيْدَ فَأَجِدُ فِيهِ مِنَ الْغَدِ سَهْمِي قَالَ: "إِذَا عَلِمْتَ أَنَّ سَهْمَكَ قَتَلَهٗ وَلَمْ تَرَ فِيهِ أَثَرَ سَبُعٍ فَكُلْ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

وعنه قال: قلت: يا رسول الله! أرمي الصيد فأجد فيه من الغد سهمي قال: "إذا علمت أن سهمك قتله ولم تر فيه أثر سبع فكل". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول اللہ میں شکار کو تیر مارتا ہوں تو کل اس میں اپنا تیر پاتا ہوں ۱؎فرمایا جب تم یقین کرلو کہ تمہارے تیر نے اسے مارا ہے اور اس میں درندے کا اثر نہ دیکھو تو کھالو ۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی آج میرا شکار غائب ہوگیا تلاش پر بھی نہ ملا کل مرا ہوا ملا جس میں میرےجس میں میرے گزشتہ کل کے تیر کا زخم ہے وہ حلال ہے یا نہیں۔
۲
؎درندے کا ذکر بطور مثال ہے ورنہ مسئلہ یہ ہے کہ اگر کسی اور وجہ سے اس کے مرنے کا احتمال ہو تو ہرگز نہ کھایا جائے مثلًا پانی میں ڈوبا ہے کیونکہ نہیں معلوم وہ مرکر پانی میں گرا ہے یا گر کر مرا ہے ایسے مشکوک شکار کو ہرگز نہ کھایا جائے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4084