Main Icon

باب:شکار اور ذبیحوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4072

شکار اور ذبیحوں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهٗ كَانَ لَهٗ غَنَمٌ تُرْعَى بِسَلْعٍ، فَأَبْصَرَتْ جَارِيَةٌ لنا بِشَاةٍ مِنْ غَنَمِنَا مَوْتًا، فَكَسَرَتْ حَجَرًا فَذَبَحَتْهَا بِهٖ، فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهٗ بِأَكْلِهَا. رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

وعن كعب بن مالك أنه كان له غنم ترعى بسلع، فأبصرت جارية لنا بشاة من غنمنا موتا، فكسرت حجرا فذبحتها به، فسأل النبي صلى الله عليه وسلم فأمره بأكلها. رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہےحضرت کعب ابن مالک سے ۱؎کہ ان کی ایک بکری تھی سلع میں چرتی تھی ۲؎تو ہماری ایک لونڈی نے ایک بکری کو مرتے دیکھا تو اس نے ایک پتھر توڑا اس سے اسے ذبح کردیا ۳؎تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو حضور نے اس کے کھانے کی اجازت دی ۴؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ مشہور صحابی ہیں،انصاری ہیں،آپ ہی غزوہ تبوک سے رہ گئے تھے،آپ ہی کے متعلق سورۂ توبہ کی مشہور آیات نازل ہوئیں۔
۲
؎سلع مدینہ منورہ میں غربی جانب مشہور پہاڑ ہے جس پر غار واقع ہے لوگ ا س کی زیارت کرتے ہیں۔فقیر نے بھی بار ہا اس کی زیارت کی ہے۔
۳
؎یعنی ایک بکری ریوڑ میں اچانک مرنے لگی تو چرانے والی لونڈی نے ایک پتھر لمبائی میں توڑا جس سے اس میں دھاردار کنارہ پیدا ہوگیا،اس دھار کی طرف سے اسے ذبح کردیا کیونکہ چھری موجود نہ تھی۔
۴
؎یعنی بکری حلال ہوگئی اس کا کھانا جائز ہے۔معلوم ہوا جس دھاردار چیز سے ذبح کردیا جائے ذبح ہوجاتا ہے چھری یا چاقو تو شرط نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4072