Main Icon

باب:شکار اور ذبیحوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4086

شکار اور ذبیحوں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! إِنَّا أَهْلُ سَفَرٍ، نَمُرُّ بِالْيَهُوْدِ وَالنَّصَارَى وَالْمَجُوْسِ، فَلَا نَجِدُ غَيْرَ آنِيَتِهِمْ، قَالَ:"فَإِنْ لَمْ تَجِدُوْا غَيْرَهَا فَاغْسِلُوْهَا بِالْمَاءِ ثُمَّ كُلُوْا فِيهَا وَاشْرَبُوْا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

وعن أبي ثعلبة الخشني قال: قلت: يا رسول الله! إنا أهل سفر، نمر باليهود والنصارى والمجوس، فلا نجد غير آنيتهم، قال:"فإن لم تجدوا غيرها فاغسلوها بالماء ثم كلوا فيها واشربوا". رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو ثعلبہ خشنی سے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول اللہ ہم لوگ سفر والے ہیں ۱؎یہود اور عیسائیوں اور مجوسیوں پر گزرتے ہیں تو ان کے برتنوں کے سوا اور برتن نہیں پاتے فرمایا اگر ان کے علاوہ نہ پاؤ تو انہیں پانی سے دھولو پھر اس میں کھاؤ پیو ۲؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی میں اور میرے قبیلہ والے لوگ اکثر سفر میں رہتے ہیں اور ہم کو اکثر یہ واقعات پیش آتے ہیں جو عرض کررہے ہیں۔
۲
؎یہ حکم احتیاطی ہے،چونکہ یہودونصاریٰ اپنے برتنوں میں سؤر و شراب استعمال کرتے ہیں پھر باقاعدہ انہیں پاک نہیں کرتے اس لیے اس احتیاط کا حکم دیا گیا۔فتویٰ یہ ہے کہ یہودونصاریٰ بلکہ مشرکین کے برتن ان کے پکائے ہوئے کھانے پاک ہیں جب تک کہ ہم کو انکے ناپاک ہونے کا علم نہ ہو شریعت ظاہر پر ہے۔آج ولایتی دوائیں،گھی اور بہت سی قسم کے بسکٹ،چاکلیٹ وغیرہ ولایت سے بن کر آتی ہیں،مسلمان عمومًا استعمال کرتے ہیں،یوں ہی ولایتی دودھ بلکہ ولایتی ڈبوں کا گوشت یہ سب کچھ شرعًا پاک و حلال ہیں کیونکہ ان کے ناپاک ہونے کی کوئی دلیل نہیں۔تقویٰ یہ ہے کہ ان کے کھانے سے پرہیز کرے،یوں ہی ولایتی کپڑے پاک ہیں ان کا دھونا لازم نہیں۔حضرات صحابہ کرام بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار کے ہدیۃً بھیجے ہوئے کپڑے استعمال فرمائے،ان میں نمازیں پڑھیں یہ سب فتویٰ ہے یہاں تقویٰ کی تعلیم ہے اور یہ امر استحبابی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4086