Main Icon

باب:شکار اور ذبیحوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4090

شکار اور ذبیحوں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهٰى عَنْ شَرِيطَةِ الشَّيْطَانِ. زَادَ ابْنُ عِيسٰى: هِيَ الذَّبِيحَةُ يُقْطَعُ مِنْهَا الْجِلْدُ وَلَا تُفْرَى الأَوْدَاجُ، ثُمَّ تُتْرَكُ حتّٰى تَمُوْتَ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

وعن ابن عباس وأبي هريرة: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن شريطة الشيطان. زاد ابن عيسى: هي الذبيحة يقطع منها الجلد ولا تفرى الأوداج، ثم تترك حتى تموت. رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے اور ابو ہریرہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےشیطان کے کونچھے ہوئے سے منع فرمایا ۱؎ابن عیسیٰ نے یہ زیادہ فرمایا کو وہ ایسا ذبیحہ ہے جس کی کھال کاٹ دی جائے اور رگیں نہ کاٹی جائیں پھر چھوڑدیاجائے حتی کہ مرجائے۲؎(ابوداود)

شرح حدیث

۱∞؎شریطہبنا ہےشرط الحجامسے یعنی فصد کھولنے والے کا نشتر مارنا،کھال چیر کر خون نکالنا۔جو شخص جانور کی صرف کھال کاٹ دے حلقوم اور رگیں نہ کاٹے وہ گویا حجام کا سانشترمارتا ہے،چونکہ ایسا ذبح شیطانی تعلیم سے ہے جو کفار میں رائج تھا اس لئے اسے شریطہ شیطان کہاگیا یعنی شیطان کاسکھایا ہوا نشتر۔
۲
؎اس حرکت سے جانور کو سخت تکلیف بھی ہوتی ہے کہ جان بہت دیر میں اور مشکل سے نکلتی ہے اور اس کاکھانا بھی حرام ہوجاتاہے۔لاتفریبنا ہےفریسے بمعنی کاٹنا۔اصطلاح میں فساد کے لیے کاٹنے کوفریکہاجاتاہے اوراوداججمع ہےودجکی،ودجحلقوم کے آس پاس کی رگیں جن کا کاٹنا ذبح کے لئے ضروری ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4090