- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 5
- شکار اور ذبیحوں کا بیان
- حدیث نمبر 4070
باب:شکار اور ذبیحوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4070
شکار اور ذبیحوں کا بیان - جلد 5
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ: سُئِلَ عَلِيٌّ: هَلْ خَصَّكُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ؟ فَقَالَ: مَا خَصَّنَا بِشَيْءٍ لَمْ يَعُمَّ بِهِ النَّاسَ إِلَّا مَا فِي قِرَابِ سَيْفِي هٰذَا، فَأَخْرَجَ صَحِيفَةً فِيهَا: "لَعَنَ اللّٰهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللّٰهِ وَلَعَنَ اللّٰهُ مَنْ سَرَقَ مَنَارَ الأَرْضِ"، وَفِي رِوَايَةٍ: "مَنْ غَيَّرَ مَنَارَ الأَرْضِ، وَ لَعَنَ وَالِدَهٗ، وَلَعَنَ اللّٰهُ مَنْ آوَى مُحْدِثًا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
وعن أبي الطفيل قال: سئل علي: هل خصكم رسول الله صلى الله عليه وسلم بشيء؟ فقال: ما خصنا بشيء لم يعم به الناس إلا ما في قراب سيفي هذا، فأخرج صحيفة فيها: "لعن الله من ذبح لغير الله ولعن الله من سرق منار الأرض"، وفي رواية: "من غير منار الأرض، و لعن والده، ولعن الله من آوى محدثا". رواه مسلم.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابوطفیل سے ۱؎فرماتے ہیں کہ حضرت علی سے پوچھا گیا کیا تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کسی چیز سے خاص کیا ہے فرمایا۲؎ہم کو حضور نے کوئی خاص چیز نہ دی جو عام لوگوں کو نہ دی ہو۳؎سوائے اس کے جو میری اس تلوار کے پرتلے میں ہے۴؎چنانچہ آپ نے ایک کتابچہ نکالا جس میں تھا کہ اللہ اس پر لعنت کرے جو غیر خدا کے نام پر ذبح کرے ۵؎اورﷲاس پر لعنت کرے جو زمین کے نشان چرائے،ایک روایت یوں ہے کہ جو زمین کے نشان بدلے ۶؎اور اپنے باپ پر لعنت کرے ۷؎اورﷲاس پر لعنت کرے جو بدعتی کو جگہ دے ۸؎(مسلم)
شرح حدیث
۱∞؎آپ کا نام عامر ابن واثلہ ہے،لیثی کنانی ہیں،اپنی کنیت میں مشہور ہیں،حضور کی وفات سے آٹھ سال پہلے ایمان لائے،حضور کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہے، ۱۰۲ھ ∞ ایک سو دو میں مکہ معظمہ میں وفات پائی،روئے زمین پر آخری صحابی آپ ہی ہیں جن کی وفات سے دور صحابہ ختم ہوگیا اور آپ کی وفات سے زمین صحابہ سے خالی ہوگئی،بہت فصیح اور حاضر جوا ب تھے رضی اللہ عنہ۔(مرقات و اشعہ)
۲؎خلافت حیدری میں روافض کا ظہور ہوا،ان لوگوں نے مشہور کیا تھا کہ اصلی قرآن اور اصلی تعلیم اسلام اہل بیت اطہار کے خصوصًا حضرت علی کے پاس ہے جو ان حضرات کو حضور صلی اللہ علیہ و سلم دے گئے ہیں اورکسی کے پاس نہیں ہے اس لیے لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر ایسے سو الات کیا کرتے تھے۔
۳؎یعنی وہ ہی قرآن اور حضور کی وہ ہی تعلیم میرے پاس ہے جو عام مسلمانوں کے پاس ہے حضور صلی اللہ علیہ و سلم ساری شریعت سارے لوگوں کو دے گئے ہیں۔
۴؎تلوار سے مراد ذوالفقار ہے جو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت علی کو عطا فرمائی تھی۔قرابقاف کے کسرہ سے تلوار کا ظرف جس میں میان کی ہوئی تلوار رکھی جاتی ہے یعنی کچھ اوراق تھوڑے سے ہیں جو میں نے اپنی یاداشت کے لیے اس پر تلے میں رکھ لیے ہیں اور اتنے تھوڑے ہیں جو اس میں آگئے سترگز لمبا چوڑا قرآن مجید اس پر تلے میں کیونکر آسکتا ہے۔
۵؎جیسے مشرکین اپنے بتوں کے نام پر ذبح کرتے ہیں جو مسلمان یہ عمل جائز سمجھ کر کرے وہ مشرک و مرتد ہے۔
۶؎منارجمع ہےمنارۃکی بمعنی علامت۔ظاہر یہ ہے کہ اس سے زمین کی حدود کی علامات مراد ہیں جو ملکی حدود ہو یا شخصی حدود مثلًا کوئی پڑوسی اپنے پڑوسی کے کھیت باغ مکان کے حصوں پر ناجائز قبضہ کرنے کے لیے اس کی حدود مٹادے۔ا یسے ہی ملکی سرحدوں کی علامات کا حال ہے اور ہوسکتا ہے کہ علامات سے مراد راستہ کے راہبری کے نشانات ہوں جو مسافر کی رہنمائی کرتے ہیں جیسے میل،فرلانگ یا راستہ دکھانے والے علامات جیسے چوراہوں پر لکڑی کے ہاتھ لگے ہوتے ہیں جن پر لکھا ہوتا ہے کہ فلاں شہر کا راستہ یہ ہے،چونکہ انکے مٹانے سے مسافروں کو سخت تکلیف ہوتی ہے اس لیے اس پر یہ عتاب فرمایا گیا۔
۷؎اپنے باپ کو گالی دینے کی دو صورتیں ہیں: براہ راست گالی دینا،دوسرے اس طرح کہ تم کسی کے باپ کو گالی دو تو جواب میں تمہارے باپ کو گالی دے کہ یہ در پردہ تمہارا ہی گالی دینا ہے۔شعر
گر مادر خویش دوست داری دشنام مدہ بمادر کس
(ترجمہ) اگر تم کو اپنی ماں کی عزت پیاری ہے تو دوسرے کی ماں کو گالی نہ دو۔
۸؎محدثدال کے کسرہ سے،اس کے دو معنی ہیں:ایک تو ظالم جانی جوکسی کو قتل یا زخمی کرے جس سے اس پر قصاص لازم ہو جو اسے چھپائے اس کی پناہ بنے،اس کی حمایت کرے،اس پر لعنت ہے۔ظالم کو سزا دلوانا چاہیے،اسے چھپانے بچانے کی کوشش نہ کرنا چاہیے۔(مرقات)دوسرے بدعتی اور اس سے مراد اعتقادی بدعت ہے یعنی اسلام میں نئے عقائد نکالنے والا بھی لعنتی ہے اور جو اس کی حمایت و حفاظت و مدد کرے وہ بھی لعنتی ہےجیسے معتزلہ،خوار ج،روافض وغیرہ ان کی اصلاح کرنا چاہیے نہ کہ انکی حمایت۔ (اشعہ)خیال رہے کہ مؤمن گنہگار کو وصف کے ساتھ لعنت کرنا جائز ہے جیسے جھوٹوں پر لعنت مگر نام لےکر لعنت صرف کفار کے لیے ہے اور بعد موت اس کافر پر لعنت جائز ہے جس کا کفر کرنا دلائل سے معلوم ہو وہاں یہ کہہ سکتے ہیں کہ فلاں کافر لعنتی تھا۔(اشعہ)
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4070