Main Icon

باب:شکار اور ذبیحوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4070

شکار اور ذبیحوں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ: سُئِلَ عَلِيٌّ: هَلْ خَصَّكُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ؟ فَقَالَ: مَا خَصَّنَا بِشَيْءٍ لَمْ يَعُمَّ بِهِ النَّاسَ إِلَّا مَا فِي قِرَابِ سَيْفِي هٰذَا، فَأَخْرَجَ صَحِيفَةً فِيهَا: "لَعَنَ اللّٰهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللّٰهِ وَلَعَنَ اللّٰهُ مَنْ سَرَقَ مَنَارَ الأَرْضِ"، وَفِي رِوَايَةٍ: "مَنْ غَيَّرَ مَنَارَ الأَرْضِ، وَ لَعَنَ وَالِدَهٗ، وَلَعَنَ اللّٰهُ مَنْ آوَى مُحْدِثًا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن أبي الطفيل قال: سئل علي: هل خصكم رسول الله صلى الله عليه وسلم بشيء؟ فقال: ما خصنا بشيء لم يعم به الناس إلا ما في قراب سيفي هذا، فأخرج صحيفة فيها: "لعن الله من ذبح لغير الله ولعن الله من سرق منار الأرض"، وفي رواية: "من غير منار الأرض، و لعن والده، ولعن الله من آوى محدثا". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوطفیل سے ۱؎فرماتے ہیں کہ حضرت علی سے پوچھا گیا کیا تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کسی چیز سے خاص کیا ہے فرمایا۲؎ہم کو حضور نے کوئی خاص چیز نہ دی جو عام لوگوں کو نہ دی ہو۳؎سوائے اس کے جو میری اس تلوار کے پرتلے میں ہے۴؎چنانچہ آپ نے ایک کتابچہ نکالا جس میں تھا کہ اللہ اس پر لعنت کرے جو غیر خدا کے نام پر ذبح کرے ۵؎اوراس پر لعنت کرے جو زمین کے نشان چرائے،ایک روایت یوں ہے کہ جو زمین کے نشان بدلے ۶؎اور اپنے باپ پر لعنت کرے ۷؎اوراس پر لعنت کرے جو بدعتی کو جگہ دے ۸؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام عامر ابن واثلہ ہے،لیثی کنانی ہیں،اپنی کنیت میں مشہور ہیں،حضور کی وفات سے آٹھ سال پہلے ایمان لائے،حضور کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہے، ۱۰۲ھ؁ ∞ ایک سو دو میں مکہ معظمہ میں وفات پائی،روئے زمین پر آخری صحابی آپ ہی ہیں جن کی وفات سے دور صحابہ ختم ہوگیا اور آپ کی وفات سے زمین صحابہ سے خالی ہوگئی،بہت فصیح اور حاضر جوا ب تھے رضی اللہ عنہ۔(مرقات و اشعہ)
۲
؎خلافت حیدری میں روافض کا ظہور ہوا،ان لوگوں نے مشہور کیا تھا کہ اصلی قرآن اور اصلی تعلیم اسلام اہل بیت اطہار کے خصوصًا حضرت علی کے پاس ہے جو ان حضرات کو حضور صلی اللہ علیہ و سلم دے گئے ہیں اورکسی کے پاس نہیں ہے اس لیے لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر ایسے سو الات کیا کرتے تھے۔
۳
؎یعنی وہ ہی قرآن اور حضور کی وہ ہی تعلیم میرے پاس ہے جو عام مسلمانوں کے پاس ہے حضور صلی اللہ علیہ و سلم ساری شریعت سارے لوگوں کو دے گئے ہیں۔
۴
؎تلوار سے مراد ذوالفقار ہے جو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت علی کو عطا فرمائی تھی۔قرابقاف کے کسرہ سے تلوار کا ظرف جس میں میان کی ہوئی تلوار رکھی جاتی ہے یعنی کچھ اوراق تھوڑے سے ہیں جو میں نے اپنی یاداشت کے لیے اس پر تلے میں رکھ لیے ہیں اور اتنے تھوڑے ہیں جو اس میں آگئے سترگز لمبا چوڑا قرآن مجید اس پر تلے میں کیونکر آسکتا ہے۔
۵
؎جیسے مشرکین اپنے بتوں کے نام پر ذبح کرتے ہیں جو مسلمان یہ عمل جائز سمجھ کر کرے وہ مشرک و مرتد ہے۔
۶
؎منارجمع ہےمنارۃکی بمعنی علامت۔ظاہر یہ ہے کہ اس سے زمین کی حدود کی علامات مراد ہیں جو ملکی حدود ہو یا شخصی حدود مثلًا کوئی پڑوسی اپنے پڑوسی کے کھیت باغ مکان کے حصوں پر ناجائز قبضہ کرنے کے لیے اس کی حدود مٹادے۔ا یسے ہی ملکی سرحدوں کی علامات کا حال ہے اور ہوسکتا ہے کہ علامات سے مراد راستہ کے راہبری کے نشانات ہوں جو مسافر کی رہنمائی کرتے ہیں جیسے میل،فرلانگ یا راستہ دکھانے والے علامات جیسے چوراہوں پر لکڑی کے ہاتھ لگے ہوتے ہیں جن پر لکھا ہوتا ہے کہ فلاں شہر کا راستہ یہ ہے،چونکہ انکے مٹانے سے مسافروں کو سخت تکلیف ہوتی ہے اس لیے اس پر یہ عتاب فرمایا گیا۔
۷
؎اپنے باپ کو گالی دینے کی دو صورتیں ہیں: براہ راست گالی دینا،دوسرے اس طرح کہ تم کسی کے باپ کو گالی دو تو جواب میں تمہارے باپ کو گالی دے کہ یہ در پردہ تمہارا ہی گالی دینا ہے۔شعر
گر مادر خویش دوست داری دشنام مدہ بمادر کس
(ترجمہ) اگر تم کو اپنی ماں کی عزت پیاری ہے تو دوسرے کی ماں کو گالی نہ دو۔
۸
؎محدثدال کے کسرہ سے،اس کے دو معنی ہیں:ایک تو ظالم جانی جوکسی کو قتل یا زخمی کرے جس سے اس پر قصاص لازم ہو جو اسے چھپائے اس کی پناہ بنے،اس کی حمایت کرے،اس پر لعنت ہے۔ظالم کو سزا دلوانا چاہیے،اسے چھپانے بچانے کی کوشش نہ کرنا چاہیے۔(مرقات)دوسرے بدعتی اور اس سے مراد اعتقادی بدعت ہے یعنی اسلام میں نئے عقائد نکالنے والا بھی لعنتی ہے اور جو اس کی حمایت و حفاظت و مدد کرے وہ بھی لعنتی ہےجیسے معتزلہ،خوار ج،روافض وغیرہ ان کی اصلاح کرنا چاہیے نہ کہ انکی حمایت۔ (اشعہ)خیال رہے کہ مؤمن گنہگار کو وصف کے ساتھ لعنت کرنا جائز ہے جیسے جھوٹوں پر لعنت مگر نام لےکر لعنت صرف کفار کے لیے ہے اور بعد موت اس کافر پر لعنت جائز ہے جس کا کفر کرنا دلائل سے معلوم ہو وہاں یہ کہہ سکتے ہیں کہ فلاں کافر لعنتی تھا۔(اشعہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4070