Main Icon

باب: وضوء کی سنتیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 402

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَعِيْدِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا وُضُوْءَ لِمَنْ لَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللهِ عَلَيْهِ.رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ

وعن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا وضوء لمن لم يذكر اسم الله عليه.رواه الترمذي وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سعید ابن زید سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اس کا وضو نہیں جس نے اس پر اللہ کا نام نہ لیا ۲؎اسے ترمذی وا بن ماجہ نے روایت کیا،

شرح حدیث

۱∞؎آپ کی کنیت ابوالاعور ہے،قرشی ہیں،عدوی ہیں،قدیم الاسلام ہیں،عشرۂ مبشرہ میں سے ہیں،سوائے بدر کے تمام جنگوں میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ رہے،حضرت عمر کی ہمشیرہ فاطمہ آپ کے نکاح میں تھیں جن کے ذریعہ حضرت عمرفاروق اسلام لائے، سترسال سے زیادہ عمر ہوئی،مقام عتیق تھا وہیں ۵۱ھمیں وصال ہوا،آپ کی میت شریف مدینہ منورہ لائی گئی،جنت البقیع میں دفن ہوئے۔
۲
؎وضو سے پہلےبسم اﷲپڑھنا عام علماء کے نزدیک سنت مستحبہ ہے اور یہاں کمال کی نفی ہے یعنی جو کوئی وضو کرتے وقتبسم اﷲنہ پڑھے اس کا وضو کامل نہیں،جیسے حدیث شریف میں ہے کہ مسجد سے قریب رہنے والے کی بغیر مسجد نماز نہیں ہوتی،یعنی نماز کامل نہیں ہوتی کیونکہ رب نے فرمایا جب تم نماز کے لئے اٹھو تو اپنا منہ ہاتھ دھوؤالخ،وہاںبسم اﷲکی قید نہیں،نیزتیسری فصل میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،ابن مسعود اور ابن عمر کی حدیث آرہی ہے کہ جو وضو کے اول میںبسم اﷲپڑھے اس کا تمام جسم پاک ہوجاتا ہے اور جو نہ پڑھے تو اس کے صرف اعضاءوضو پاک ہوتے ہیں۔ان تمام سے معلوم ہوتا ہے کہبسم اﷲوضو میں فرض یا واجب نہیں،لہذا یہ حدیث نہ تو قرآن کے خلاف ہے نہ دیگر احادیث کے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 402