Main Icon

باب: وضوء کی سنتیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 400

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ التَّيَمُّنَ مَا اسْتَطَاعَ فِيْ شَأْنِهٖ كُلِّهٖ: فِيْ طُهُورِهٖ وَترَجُّلِهٖ وَتَنَعُّلِهٖ.(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن عائشة رضي الله عنها قالت: كان النبي صلى الله عليه وسلم يحب التيمن ما استطاع في شأنه كله: في طهوره وترجله وتنعله.(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بقدر طاقت اپنے تمام کاموں میں داہنے سے شروع فرمانا پسند کرتے تھے اپنی طہارت میں اور کنگھی کرنے اور نعلین پہننے میں ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بقدر طاقت اپنے تمام کاموں میں داہنے سے شروع فرمانا پسند کرتے تھے اپنی طہارت میں اور کنگھی کرنے اور نعلین پہننے میں ۱؎(مسلم،بخاری)
۱
؎یہ تین چیزیں بطور مثال ارشاد فرمائی گئیں ورنہ سرمہ لگانا،ناخن و بغل کے بال لینا،حجامت اور مونچھیں کٹوانا،مسجد میں آنا اور مسواک کرنا وغیرہ سب میں سنت یہ ہے کہ داہنے ہاتھ یا داہنی جانب سے ابتداء کرےکیونکہ نیکیاں لکھنے والا فرشتہ داہنی طرف رہتا ہے اس کی وجہ سے یہ سمت افضل ہے حتی کہ داہنا پڑوسی بائیں پڑوسی سے زیادہ مستحق سلوک ہے۔(اشعۃ اللمعات)علماء فرماتے ہیں کہ دوسری مسجدوں میں صف کا داہنا حصہ بائیں سے افضل مگر مسجد نبوی میں بایاں حصہ داہنے سے افضل کیونکہ وہ روضۂ مطہرہ سے قریب ہے۔روضۂ مطہرہ دل ہے اور دل بائیں طرف ہے جس پر زندگی کا دارومدار ہے ان کا ماخذ یہ حدیث بھی ہے۔صوفیائےکرام کے اقوال بے دلیل نہیں ہوتےکیونکہ جب نیکیاں لکھنے والے فرشتے کی وجہ سے داہنا حصہ بائیں سے افضل ہوا تو وہاں قرب مصطفوی کی وجہ سے بائیں سمت افضل ہوگی۔چنانچہ سرکار فرماتے ہیں کہ نماز میں داہنی جانب نہ تھوکو نہ جوتا رکھو کیونکہ ادھر رحمت کا فرشتہ ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 400