Main Icon

باب: وضوء کی سنتیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 392

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَنَامِهٖ فَتَوَضَّأَ فَلْيَسْتَنْثِرْ ثَلَاثًا فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَبِيْتُ عَلٰى خَيْشُوْمِهٖ» (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا استيقظ أحدكم من منامه فتوضأ فليستنثر ثلاثا فإن الشيطان يبيت على خيشومه» (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سے کوئی اپنی نیند سے بیدار ہو پھر وضو کرے توتین بارناک جھاڑے کیونکہ شیطان اس کے بانسے پررات گزارتاہے ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہ حدیث اپنے ظاہر پر ہے۔اورشیطان سے مراد وہ قرین ہے جوہروقت انسان کے ساتھ رہتا ہے،بیداری میں برے کام کے مشورے دیتا ہے،نیند میں ناک میں جا بیٹھتا ہے تاکہ دماغ میں برے خیالات پیدا کرے۔چونکہ ناک اس سے متلوّث ہو چکی لہذا وضو میں اسے بھی دھولیا جائے۔خیال رہے کہ جیسے ناک جھاڑنا ہروضو میں سنت ہے نیند کے بعدہوایااور وقت،ایسے ہی کلائی تک ہاتھ دھونا بھی ہر وضو میں سنت ہےکیونکہ یہ علتِ حکم نہیں بلکہ حکمتِ حکم ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ جہاں گندا آدمی بیٹھ جائے وہ جگہ دھو دینا بہتر ہے کہ وضومیں ناک اسی لئے دھوئی گئی کہ اس میں گنداشیطان بیٹھ گیا تھا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 392