Main Icon

باب: وضوء کی سنتیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 420

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَوَضَّأَ مَسَحَ وَجْهَهٗ بِطَرَفِ ثَوْبِهٖ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

وعن معاذ بن جبل قال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا توضأ مسح وجهه بطرف ثوبه. رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت معاذ ابن جبل سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھاکہ جب وضو کرتےتو اپنا چہرہ اپنے کپڑے کے کنارے سے پونچھتے ۱؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎اس سے چندمسائل معلوم ہوئے:ایک یہ کہ وضوء کے بعد اعضائے وضوء کا پونچھنا ممنوع نہیں بشرطیکہ تکبّرانہ نہ ہو۔ہاں مستحب یہ ہے کہ زیادہ مبالغہ سے نہ پونچھے،تری کا کچھ اثر باقی رہنے دے۔دوسرے یہ کہ اعضاءکی تری ماءمستعمل نہیں،پانی کے جوقطرے عضو سے الگ ہوجائیں وہ مستعمل ہیں جو بعض کے نزدیک نجس ہیں مگر حق یہ ہے کہ پاک تو ہیں لیکن پاک کر نہیں سکتے۔وہ جو حدیث پاک میں آیا کہ حضرت میمونہ نے حضور انور کی خدمت میں وضو کے بعدرومال پیش کیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول نہ فرمایا اور اعضاء جھاڑتے ہوئے تشریف لے گئے اس کی وجوہ دوسری ہوسکتی ہیں۔رومال صاف نہ ہویااس وقت جلدی ہو۔مرقاۃ نے فرمایا مستحب یہی ہے کہ نہ پونچھے لیکن پونچھنا بھی بلاکراہت جائز ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 420