Main Icon

باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 818

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَمُرَة َبنِ جُنْدُبٍ: أَنَّهٗ حَفِظَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَكْتَتَيْنِ: سَكْتَةً إِذَا كَبَّرَ وَسَكْتَةً إِذَ فَرَغَ مِنْ قِرَاءَةِ (غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ)فَصَدَّقَهٗ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَى التِّرْمِذِيْ وَابْنُ مَاجَه والدَارمِيْ نَحوَهٗ

وعن سمرة بن جندب: أنه حفظ عن رسول الله صلى الله عليه وسلم سكتتين: سكتة إذا كبر وسكتة إذ فرغ من قراءة (غير المغضوب عليهم ولا الضالين)فصدقه أبي بن كعب. رواه أبو داود وروى الترمذي وابن ماجه والدارمي نحوه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سمرہ ابن جندب سے کہ انہوں نے حضور صلی الله علیہ وسلم سے دو سکوت یاد رکھے ایک خاموشی جب تکبیر کہتے ۱؎اور دوسری خاموشی جب "غیر المغضوب علیہم ولا الضالین"سے فارغ ہوتے ۲؎حضرت ابی ابن کعب نے آپ کی تصدیق کی(ابوداؤد)اور ترمذی اور ابن ماجہ اور دارمی نے اس کی مثل روایت کی۔

شرح حدیث

۱∞؎"سُبْحَانَكَ اللّٰھُمَّ"پڑھنے کے لیے کیونکہ یہ تکبیر اور سورۂ فاتحہ کے درمیان ہوتی ہے لہذا یہ سکوت بمعنی عدم جہر ہے نہ کہ بالکل خاموشی،اس سکوت پر تمام آئمہ کا اتفاق ہے۔
۲
؎حق یہ ہے کہ اس خاموشی میں حضور آہستہ آمین کہتے تھے اور اگلی سورت کے لیئے آہستہ بسم الله پڑھتے تھے لہذا یہ حنفیوں کے بالکل خلاف نہیں،شوافع کے ہاں یہ خاموشی آرام لینے کے لیئے تھی اور امام مالک کے ہاں یہ خاموشی اسی لیے تھی کہ مقتدی اس وقت سورۂ فاتحہ پڑھ لیں کیونکہ ان کے ہاں مقتدی امام کے ساتھ فاتحہ نہیں پڑھتا بلکہ بعد میں پڑھتا ہے مگر احناف کی توجیہ بہت قوی ہے اس سکوت کے بارے میں اور بہت سی روایتیں ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 818