Main Icon

باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2919

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ الشَّرِيدِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيُّ الْوَاجِدِ يُحِلُّ عِرْضَهٗ وَعُقُوبَتَهٗ» قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ: يُحِلُّ عِرْضَهٗ: يُغَلَّظُ لَهُ. وَعُقُوبَتَهٗ: يُحْبَسُ لَهٗ.رَوَاهُ أَبُودَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ

وعن الشريد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لي الواجد يحل عرضه وعقوبته» قال ابن المبارك: يحل عرضه: يغلظ له. وعقوبته: يحبس له.رواه أبوداود والنسائي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت شرید سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے مال والے کا ٹال مٹول اس کی آبرو کو اس کی سزا کو درست کردیتا ہے ۲؎ابن مبارک نے فرمایا آبرو حلال کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس سے سخت کلامی کرے اور سزا یہ ہے کہ اسے قید کردیا جائے ۳؎(ابوداؤد،نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎آپ صحابی ہیں،ثقہ ہیں،اولًا حضر موت میں رہتے تھے،پھر طائف میں قیام کیا، آپ کا نام پہلے مالک تھا حضور انور نے شرید رکھا،آپ اپنے کسی ہم قوم کو مار کر مکہ معظمہ بھاگ آئے تھے،شرید کے معنی ہیں بھاگ آنے والا۔
۲
؎یعنی جو مقروض مال رکھتا ہو مگر قرض ادا نہ کرتا ہو تو قرض خواہ کو حق ہے کہ اسے ذلیل کرے،اس کی نادہندی کا طعنہ دے یا اسے حاکم سے سزا دلوادے،سزا خود نہ دے گا حاکم سے دلوائے۔
۳
؎یعنی ابن مبارک نے حضور کے دونوں کلمات کی تفسیریوں فرمائی کہ آبرو ریزی کے معنی یہ ہیں کہ اس سے سخت کلامی کرے مثلًا کہے تو ظالم ہے نادہندہے لوگوں کا مال مارنے والا ہے،یہ مطلب نہیں کہ اسے تہمتیں یا ناجائز الزام لگائے،اسی طرح سزا کا مطلب یہ ہے کہ اسے حاکم کے ذریعہ قید کرادے،یہ مطلب نہیں کہ اسے خود مارے پیٹے یا قتل کرے یا حبس بے جا میں رکھے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2919